• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:سید علی جیلانی۔سوئٹزر لینڈ
پیارا وطن پاکستان بااثر افراد کیلئے واقعی ایک جنت ہے، شاہ زیب قتل کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی سینٹرل جیل کے بجائے کراچی کے نجی اسپتال میں بالائی منزل پر شاہانہ زندگی گزار رہا تھا،نجی اسپتال شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا ہے، شاہ رخ جتوئی کو محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر جیل سے نجی اسپتال منتقل کیا گیا اور اس منتقلی کے پیچھے سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ ہے ، نجی اسپتال نیب اور اینٹی کرپشن کے قیدیوں کیلئے سہولت گاہ اور جیل کے قیدیوں کیلئے بہتر ین پناہ گاہ کے طور پر مشہور ہے، ایک صاحب سیشن کورٹ جاتے جہاں شام تک گاڑی میں بیٹھ کر کاروبار کرتے تھے، ایک وزیراعظم بنے انہوں نے کراچی کے پہلے دورے پر پہلا فون سینٹرل جیل سے کیا، اس فون کی بناء پر ایک آدمی پیرول پر رہا ہوا اور واپس نہیں گیا اور بعد میں سیاسی جماعت میں شمولیت کرلی ،کراچی میں بااثر قیدیوں کو سہولتیں دینے والے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ مالدار با اثر قیدیوں کو شہر کے کم از کم پانچ نجی ہسپتالوں میں رکھا جاتا رہا ہے ،ایک ماڈل گرل لاکھوں ڈالر لے کر نکل گئی کوئی نہیں پکڑ سکا، ایک ٹک ٹاکر خاتون نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا کہ میں اتنا پیسہ آرام سے لے کر نکل گئی مجھے کوئی نہیں پکڑ سکتا کیونکہ قانون صرف غریبوں کیلئے ہے، بااثرافراد کی خبریں ہم روزانہ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں جیسے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بااثر افراد کے مسلح گارڈز نے مبینہ طور پر جلد راستہ نہ ملنے پر نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، طاقت کے نشے میں دھت زمیندار نے محنت کش کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر اس کے بال مونڈھ دیئے، گجرات کے گاؤں ڈھوک گجراں میں ظلم کے شکار 50 سالہ لیاقت کا قصور یہ تھا کہ اس کا اونٹ زمیندار الطاف کی زمینوں پر چلا گیا جس کے بعد زمیندار الطاف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 2گھنٹے تک نہتے شخص پر ڈنڈے برساتا رہا جس کے بعد اس کے بال مونڈھ دیئے گئے اورلیاقت جب درد کے عالم میں بے ہوش ہوا تو ملزمان فرار ہوگئے،اسی کم سن لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ درندہ صفت ملزمان کی طرف اجتماعی زیادتی کے واقعات معمول ہیں ،کراچی میں ہی بااثر افراد نے معروف لوک گلوکارہ کے گھر پر حملہ کر دیا، جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باوجود پولیس کی پراسرار خاموشی نے لوک گلوکارہ اور اس کے اہل خانہ کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، گوجرہ کے نواحی گاؤں 244(گ ب) میں بوائز پرائمری اسکول کے ایک حصے پر بااثر افراد نے قبضہ کر لیا، بااثر افراد نے نہ صرف اسکول کی عمارت میں گوبر کے ڈھیر لگا دئیے بلکہ آمدورفت کے لئے راستے بھی بنا لئے ہیں ،اثر و رسوخ کی چیخ و پکار پر مشتمل واقعات تقریباً ملک کے کسی نہ کسی حصے میں روزانہ کی بنیاد پر رونما ہوتے رہتے ہیں اور سماجی میڈیا کے توسط سے مرکزی میڈیا تک پہنچ جاتا ہے اور یہ واقعات ہمارے ملک کی معاشرتی تنزلی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور ساری دنیا کے سامنے جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں، پاکستان میں اقتدار کا ملنا یا اقتدار کا حصہ بننا یا بااثر افراد کی لسٹ میں شامل ہونا سمجھ لیجئے کہ زمین پر خدائی کے ملنے کے مترادف ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ تمام تعلق دار اور کسی بھی طرح سے جان پہچان والے پاکستان کو اپنی خاندانی جاگیر سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور اپنے ہی جیسے اپنے ہم وطنوں کو اپنا ملازم سمجھنا شروع کردیتے ہیں ایسے لوگوں کی سمجھ کا زاویہ ہی یکسر تبدیل ہوجاتا ہے اور اپنے کہے کو حرف آخر سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں یہ وہ بااثر لوگ ہیں جو شاید وی آئی پی پروٹوکول سے آگے کی یا پھر کہیں پیچھے کی چیز ہوتے ہیں جن کیلئے رکنا توہین کی بات ہوتی ہے ،یہ اپنی بات کو کاٹنے والے کو کاٹ دینے کا حق رکھتے ہیں قانون ان کی کی جانے والی حق تلفیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا چلا آرہا ہے۔ہمارے ملک میں معمولی جرائم میں ملوث شخص توجیل جاتا ہے اور ملک لوٹنے والا باہر ہی رہتاہے اگر اِن میں سے کوئی جیل چلابھی جائے توکوئی نہ کوئی وجہ بتاکر یا بیماری کے جواز کے بہانے باہر نکل آتا ہے جب کہ غریب کو یہ سہولت میسر نہیں ہے، پاکستانی جیلوں میں بہت سے قیدی ایسے ہیں جو خطرناک امراض کا شکار ہیں،لیکن انہیں کوئی اطمینان بخش سہولت دستیاب نہیں، پاکستان میں بزنس مین سیاستدان تاجر اور نہ جانے کون کون سے طبقات باقاعدہ مافیاز کا روپ دھارچکے ہیں، ان میں سے بیشتر کی اعلیٰ سطح رشتہ داریاں ہیں ملک میں جس کی بھی حکومت ہو یہ سب کے ساتھ اس حکومت میں شامل ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے پیش نظرفقط اپنے ہی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے، پاکستان کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں آپ کو چند مخصوص خاندان ہی پاکستان کی تقدیر کے مالک نظر آئیں گے یہ لوگ ہرسال کوئی نہ کوئی بحران کھڑا کرکے کھربوں روپے کمالیتے ہیں اور غریب عوام اپنی قسمت کو کوس کر ہمیشہ جلتے کڑھتے رہتے ہیں اگر کوئی غریب شخص بھوک اور افلاس سے تنگ آ کر پانچ سو روپے کی چوری کرتا ہوا پکڑا جائے تواُسے ہمارے قانون کے محا فظ پابند سلاسل کر دیتے ہیں اور اگر کسی بڑے عہدے پر فائز شخص اربوں روپے کی ملکی دولت لوٹ لیتا ہے تو ہمارے قانون کے محا فظ خاموش تما شائی کا کر دار ادا کرتے ہیں یہی کیفیت ہمارے مولوی اور پیر صاحبان کی بھی ہے جو ہمیں نیکی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے مذہبی فسادات اور مختلف عقائد کے چکر میں ڈال کر اپنا مفاد حاصل کرنے میں مصروف عمل ہیں، افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ان وجوہات کی وجہ سے امن و امان عدل و انصاف پیارو محبت بھائی چارہ سچائی اعتماد احترام وفاداری شرم و حیا اور احساس کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے، یہاں تک کہ عدالتی نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے ایسے گھنائو نے نظام میں عدل و انصاف کی توقع رکھنا بس ایک دیوانے کا خواب ہے 14 سو سال قبل ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں کہا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر فضیلت اور برتری نہیں،آپ ﷺ نے فرمایا خبردار زمانہ جاہلیت کی(قبل از اسلام) تمام رسمیں میرے قدموں کے نیچے روند دی گئی ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خبردار میرے بعدگمراہ یا کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو یہ اس خطبے سے لئے گئے چند احکامات ہیں جو رہتی دنیا تک کیلئے ایک شاندار منشور ہے، یہ ہی منشور قائد اعظم نے دیا اور پاکستان کو مساوات کا نظام نافذ کرنے کیلئے بنایا، صد افسوس کہ ہم قائد کی روح کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔