• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

23 مارچ پاکستانی قوم کی تقدیر کی تبدیلی کا دن

تحریر:آصف نسیم راٹھور.....بریڈفورڈ
23 مارچ 1940ءہماری تاریخ کا وہ خوبصورت یاد گاراور روشن دن ہے جسے کوئی ذی شعور پاکستانی خواہ کسی مذہب سے بھی تعلق رکھتا ہو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا ، نوشتۂ تقدیر میں مملکت خدا داد خطۂ پاک سر زمین (پاکستان )کے وجود کا جو رب کائنات نے فیصلہ لکھ رکھا تھا ، وہ در اصل 23 مارچ کے دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانان ہند کی تقدیر بدلنے کی نوید کا مظہر بنا کر دکھا یا تھا، ہم پاکستانی عوام اس مبارک دن کو قرار داد یوم پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ہر سال تمام محب وطن ، فدایان پاکستان اس عظیم دن کو انتہائی محبت وعقیدت اور خوب صورت انداز میں ، جوش وجذبے سے مناتے ہیں۔ “خدا کرے میری ارض پاک پہ اُترے “ “وہ فصلِ گلُ جسے اندیشۂ زوال نہ ہو “ ہماری تاریخ میں شائد 23 مارچ جیساخوشی کا دن کوئی اور نہیں ہے، اس روز آل انڈیا مسلم لیگ کے 34 ویں سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کی قرارداد منظور کی گئی۔ جسے قرارداد لاہور بھی کہا جاتا ہے، بانیان پاکستان کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس قرار داد کی منظوری کے مختصر عرصہ میں یعنی سات سال کے بعد ہی برصغیر کے مسلمانوں کو اللہ تعالی نے ہندوؤں اور انگریزوں کی طرف سے ناگفتہ بہ اور پریشان کن حالات سے نجات عطا فرما دی اور مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ آزاد ریاست کا قیام لاکھوں مسلمانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد پاکستان کی شکل میں تحفے کے طور پر عطا فرمایا گیا، 23 مارچ کا دن درحقیقت پاکستان بنانے والے اور قربانیاں دینے والوں اور اہل وطن کیلئے تجدید عہد و وفا کا دن ہے ،یہ وہ عظیم دن ہے جب انگریز کی غلامی سے نجات پانے کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال کی جماعت نے قرار داد پاکستان منظور کی گئی، قرارداد پاکستان کا نام قراداد لاہور تھا لیکن متعصب ہندو پریس نے از خود اس قرار داد کو قراردادِ پاکستان کہنا شروع کردیا۔ 23مارچ کا دن ہمارے مشاہیر کی جد و جُہد آزادی اور رات دن کی بے پناہ تکالیف دہ قُربانیوں کے صلہ میں ہماری آنے والی نسلوں کیلئے بہترین تحفہ اور ہدیہ ہے۔ قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دور رس اور تاریخ کا دھارا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان جسے منٹو پارک کہا جاتا ہے، لاکھوں مسلمان اکٹھے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی، جسے مسلمانوں نے اپنی جان مال سے بھی زیادہ پذیرائی دیتے ہوئے قبول کیا ۔ وہ قرار داد کیا تھی وہ اللہ تعالی کی طرف سے مُسلمانان ہند کیلئے ایک خصوصی جنت نما عنایت و بشارت کا ظہور تھا، وہ قرار داد تھی، قرارداد پاکستان، 23 مارچ کُرۂ ارض پر وہ عظیم دن ہے جب انگریز کی غلامی اور تسلط سے نجات پانے کے لیے قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ اس قرار داد کی روشنی میں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی خدا داد صلاحیتوں ، ذہانت و قابلیت، عقل و دانش ، سیاسی فہم و بصیرت و فراست، عزم و استقلال ، بہادری و جرات، یقین محکم اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے دنیا کے نقشے پر ایک ایسی نئی اسلامی مملکت کا اضافہ کیا جو برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی ، مذہبی فریڈم کے تقدُس کیلئے نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ 23 مارچ 1940ء کو شہر لاہور میں مسلمانان ہند نے اپنی منزل مقصود کا اعلان کیا تھا۔ اور دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ہم ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے آزاد خطوں کی جدوجہد کا اعلان کرتے ہیں، قوم کو ایک واضح منزل مقصود کا تعین اور نصب العین مل چکا تھا اور خوش قسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ ، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ، علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے مدبر و مفکر قائد و لیڈر کی سرپرستی بھی حاصل تھی جن کی قیادت سحر انگیز اور ولولہ انگیز ہونے کے علاوہ سیاست میں صداقت و شرافت اور دیانتداری کی امین و علمبردار تھی 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک مسلمانان ہند مسلم لیگ کے پرچم تلے یکجا اور متحد ہو چکے تھے۔ وائسرائے ہند لارڈ ویول نے مسلم لیگ اور مطالبہ پاکستان کی مقبولیت اور دوسری جماعتوں کی طاقت کا اندازہ کرنے کے لیے انتخابات کروائے۔ کانگرس کی مخالفت کے باوجود مسلم لیگ کو تاریخی فتح حاصل ہوئی اس طرح حصول پاکستان کی منزل قریب سے قریب تر ہوگئی۔اکتوبر 1946ء میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی جس میں مسلم نمائندگان کی قیادت خان لیاقت علی خان نےکی، ادھر حکومتی ایوانوں میں قائد اعظمؒ مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ اور قیام پاکستان کے لیے سیاسی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف ہندو مسلم فسادات نے پورے ملک کو برُی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ان فسادات میں لاکھوں معصوم مسلمانوں کو بے دردی اور سفاکی سے موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا، اس کے بعد 3جون کو تقسیم ہند کے منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ اس طرح 14 اگست 1947ء کو علامہ محمد اقبال ، قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے جانثار ساتھیوں کے خوبصورت خواب کی تعبیر و انتہائی مشکل ترین جدوجُہد کے بعد مملکت خدا داد کلمۂ اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی ،لاکھوں جانوں کے نذرانے اور خون کے دریا بہانے کے بعد مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست کی تکمیل کو عملی جامہ پہنایا گیا یہ سلطنت جس کو کلمۂ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ۔ (23 مارچ 1940ء) کو متفقہ قرارداد پاکستان کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں نے علیحدہ ریاست حاصل کی لیکن بدقسمتی سے آج کا پاکستان بابائے قوم کے مقاصد و فرمودات اور نظریات کے بالکل برعکس ہے۔جن مقاصد کیلئے پاکستان معرض وجود میں آیا اور لاکھوں لوگوں کو شہید کیا گیا،اولادوں اور مال و متاع کے نذرانے پیش کیئے گئے، کسمپرسی کے عالم میں در بدر کی ٹوکریاں کھائیں ، فقر و فاقے ، بھوک افلاس کے سمندر مسکنت کی حالت میں عبور کیئے، سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے وہ قیامت خیز منظر درد ناک اور کرب ناک وقت دیکھا ہے اس وقت کی سنگینی اور نزاکت کو کون جان سکتا ہے، باقی ہمارے مشاہیر و اکابرین نے جن نظریات و تخیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی بنیاد رکھی اور ان گنت قربانیاں دی تھیں، وہ آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے، وہ فکری اور تعمیری جدوجہد جو مسلمانوں کے مستقبل کی آئینہ دار اور ترقی وکامیابی، فلاح بہبود کی حقیقی ضامن تھی ، 23مارچ کا دن ہر سال پاکستانی قوم کو اُس جذبے کی یاد دلاتا ہے جو پاکستان کی شکل میں ایک خوبصورت مملکت کے وجود کا باعث بنا، یعنی پاکستان بنانے کا مطلب کیا تھا ،قائداعظم محمد علی جناح نے 22 مارچ کو ہونے والے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار کہا کہ’’ہندوستان میں مسئلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ہے یعنی یہ دو قوموں کا مسئلہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پورہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس صورت میں ایک ہی راہ ہے کہ دونوں قومیتوں کی علیحدہ مملکتیں ہوں‘‘۔ دوسرے دن انہی خطوط پر23 مارچ کو اس زمانہ کے بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق المعروف شیرِ بنگال نے قراردادِ لاہور پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’اس وقت تک کوئی آئینی پلان نہ تو قابلِ عمل ہوگااورنہ مسلمانوں کو قبول ہوگا جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو۔ شیرِ بنگال مولوی فضل الحق کی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کرکے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں، جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اورحاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔ مولوی فضل الحق کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنماچوہدری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد (خیبرپختونخواہ) سے سرداراورنگ زیب، سندھ سے سرعبداللہ ہارون اوربلوچستان سے قاضی عیسیٰ نے کی۔ قراردادِ پاکستان24مارچ کو ہونے والے اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔ اپریل1941میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور کو جماعت کے آئین میں شامل کرلیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔ 23مارچ 1940 برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہرا دن ہے۔ اس روز آل انڈیا مسلم لیگ کے چونتیسویں سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کی قرارداد منظور کی گئی۔ اللہ کے فضل سے قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیر قیادت کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ مسلمانوں نے چارسو الفاط پرمشتمل اس قرارداد کو صرف سات سال کے مختصر ترین عرصہ میں حقیقت کا روپ پہنا دیا ۔ اسلام آباد کے قومی میوزیم میں تحریک پاکستان کے ان سات برسوں کو زندہ کیا گیا ہے ۔ اسے دیکھ کر ʼلے کے رہیں گے پاکستان بن کے رہے گا پاکستانʼ کی صدائیں کانوں میں گونجنےلگتی ہیں۔ آج کے نوجوان جدوجہد اورقربانیوں کی اس داستان کا حصہ تو نہیں تھے لیکن وہ ملک کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنا کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں ۔ قرارداد پاکستان کی 74ویں سالگرہ مناتے پاکستانی نوجوان پرُعزم ہیں کہ وہ ملک کا مستقبل تابناک بنانے اورقائد اعظم کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے میں دل و جان سے محنت کریں گے۔ یوم ِتجدید عہد کا تقاضا ہے کہ قائد کے فرمان کو یاد رکھا جائے کہ پاکستان ایک روشن خیال اسلامی ، جمہوری ریاست ہو گی جہاں انسانی مساوات ، سماجی و معاشی عدل اور قانون کی حکمرانی کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔
یورپ سے سے مزید