• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب سرجری کے بغیر موٹاپے کا علاج کریں

اب سرجری کے بغیر موٹاپے کا علاج کریں
اب سرجری کے بغیر موٹاپے کا علاج کریں

جسم پر موٹاپا آنے میں جتنا وقت لگتا ہے اتنا ہی وقت اسے ختم ہونے میں بھی لگتا ہے۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب کسی قسم کی سرجری کے بغیر بھی موٹاپے میں کمی کی جاسکتی ہے۔

اب لیزر ٹریٹمنٹ کے ذریعے بھی موٹاپے کو کم کیا جاسکتا ہے، تحقیق کے دوران اس حوالے سے کیے جانے والے ابتدائی تجربات حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، اب ایک (امپلانٹ) کے ذریعے معدے میں بھوک لگانے والے خلیات کو دبایا یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ 

یہ بات تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ جسم میں گریلن نامی ایک ہارمون  کھانے کی طلب بڑھانے اور چربی جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

اگرچہ یہ ہارمون انسانی جسم میں دماغ، لبلبےاور چھوٹی آنت سے بھی خارج ہوتا ہے لیکن معدے کا اوپری حصّہ اس ہارمون کو زیادہ مقدارمیں خارج کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کوریا کی کیتھولک یونیورسٹی کےماہرین نےخلیات سے گریلن کی پیداوار روکنے کے لیے ایک آلہ بنایا ہے۔

اس آلے کو ’انٹراگیسٹرک سیٹیٹی انڈیوسنگ ڈیوائس(آئی ایس ڈی)‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اسے کسی بھی سرجری کے بغیر ایک اسٹینٹ کی مدد سے معدے کے اوپری حصے ’ایسوفیگس‘ تک پہنچایا جاتا ہے۔

اس اسٹینٹ کو فائبرآپٹک لیزر سے پیٹ میں ڈالا جاتا ہے، اس کے اوپر ایک دوا  میتھائلن بلو لگائی جاتی ہے، جوکہ ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے۔

اس لیزر کی روشنی میتھائلن پر پڑنے سے آکسیجن کی ایک خاص قسم ’سنگلٹ آکسیجن‘ پیدا ہوتی ہے۔ 

یہ آکسیجن اپنے ارد گرد سے ان تمام خلیات کو تباہ کردیتی ہے جوکہ گریلن ہارمون سے پیدا ہوتے ہیں اور اسٹینٹ کو واپس کھینچ لیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق سب سے پہلے نوعمر خنزیروں پر کی گئی تھی جس کے کے نتیجے میں صرف ایک ہفتے کے دوران ان جانوروں میں گریلن کی سطح کم ہوگئی اور وزن بھی کم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ 

ان جانوروں پر اس لیزر تھیراپی کا اثر کئی ہفتوں تک رہا۔

یاد رہے کہ ابھی یہ تحقیق انسانوں پر نہیں کی گئی ہے لیکن تحقیقات کے ابتدائی تجربات بہت مثبت ہیں۔


صحت سے مزید