لندن (پی اے) این ایس پی سی سی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے درمیان نقصان دہ جنسی رویوں کے بارے میں چلڈرن ہیلپ لائن کو کالز کی تعداد میں گزشتہ سال 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چلڈرن ہیلپ لائن این ایس پی سی سی کو 2365کالز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے تقریباً 600ریفرلز پولیس اور سوشل سروسز سمیت ایکسٹرنل ایجنسیز کو کئے گئے۔ چلڈرن چیرٹی کا کہنا ہے کہ سکولز میں ریلیشن شپ اینڈ سیکس ایجوکیشن کیوریکولم کو مناسب طریقے سے وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈپارٹمنٹ فار ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس سال نئی گائیڈنس تیار کر رہا ہے۔ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ نئی گائیڈنس سے سکولز کو اعتماد کے ساتھ سیکسوئل ابیوز اور ہراسگی جیسے موضوعات کو اعتماد سے پڑھانے میں مدد مل سکے گی۔ این سی پی ایس ایس نے کہا کہ ایسے کیسز کی رپورٹنگ میں اضافہ جزوی طور پر ان ہزاروں شہادتوں سے کم ہے، جو گزشتہ سال ایوری ون از انوئیٹڈ ویب سائٹ پر نوجوانوں اور 9سال سے کم عمر بچوں کی جانب سے پوسٹ کی گئی تھیں، جس نے اس ایشو کو اجگر کیا تھا۔ اس صورت حال کے نتیجے میں آفسٹڈ ریویو کیا گیا، جس میں یہ پتہ چلا کہ سکول جانے کی عمر کے بچوں میں سیکسوئل ہراسمنٹ معمول بن گیا ہے۔ واچ ڈاگ نے متنبہ کیا کہ طلبہ اکثر ابیوز کی رپورٹ کرنے کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھتے ہیں۔ سیکسوئل ابیوز عام طور پر سکول کے ہائر بغیر سپروائزڈ جگہوں مثلاً پارٹیز یا پارکس میں ہوتی ہے۔ ایک لڑکی جیسمین، جو اصل نام نہیں ہے جب 16 سال کی تھی تو اس کے تعلقات آن لائن ملنے والے ایک لڑکے سے قائم ہوئے تھے۔ اس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تعلقات کی ابتدا سے ہی اس کا (لڑکے) بہت زیادہ کنٹرولنگ اور ہیرا پھیری والا رویہ تھا اور مجھ سے توقع کی جاتی تھی کہ مباشرت کی تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ کروں گی۔ جب ہمارے تعلقات ختم ہوئے تو اس نے میری رضامندی کے بغیر ہی انہیں آن لائن شیئر کر دیا۔ لڑکی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو میں خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی کیونکہ میرے پاس معلومات کی کمی تھی، مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ غیر قانونی ہے جب تک کہ میرے دوست نے یہ تجویز نہیں دی۔ جیسمین کا کہنا تھا کہ میں نے خود کو ایک ملین میں ایک فرد جیسا محسوس کیا کہ کسی بھی شخص نے ایسا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھے مدد حاصل کرنے کیلئے کہاں جانا ہے اور کس سے بات کرنی ہے۔ بعد میں اس لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن جیسمین نے الزامات کو ڈراپ کر دیا تھا کیونکہ وہ محسوس نہیں کرتی تھی کہ اسے کورٹ کیس کیلئے سپورٹ حاصل ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں اس نے یونیورسٹی چھوڑ دی تھی لیکن اب وہ اپنی ضرورت کی مدد حاصل کرنے کے بعد اپنی ڈریم جاب کر رہی ہے۔ جیسمین نے کہا کہ حقیقت میں جو کچھ بھی ہوا تھا، اس پر کارروائی کرنے میں مجھے کئی سال لگ گئے۔ میں اب دوسروں کو یہ سمجھانے میں ان کی مدد کرناچاہتی ہوں کہ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو آپ کو اس بارے میں مدد حاصل کرنے کیلئے کسی سے بات کرنے میں شرمندگی یا خوف محسوس نہیں کرنا چاہئے۔ این ایس پی سی سی نے کہا کہ اس کی ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی کالز سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں کو جنسی نام پکارنے، ناپسندیدہ جنسی چھونے اور بغیر رضامندی کے عریاں تصاویر شیئر کرنے کے ساتھ سنگین جنسی زیادتی اور عصمت دری کے واقعات کا سامنا ہے۔ ایک باپ نے مشورہ حاصل کرنے کیلئے چلڈرن چیرٹی کو فون کیا تھا جب اس کے 12 سالہ بیٹے سے اس کے دوست نے اس کو اپنے پرائیویٹ پارٹس دکھانے کیلئے کہا تھا۔ ایک اور کال ایک لڑکی سے متعلق تھی، جسے سکول میں لڑکوں کے ایک گروپ نے باقاعدگی سے اس کی چھاتیوں کو چھوا تھا لیکن اساتذہ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ این ایس پی سی سی کا کہنا ہے کہ بہت سے اساتذہ اب بھی ریلیشن شپ اینڈ سیکس ایجوکیشن کیوریکولم (آر ایس ای) کو پڑھانے کیلئے اعتماد سے محروم ہیں۔ این ایس پی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو سر پیٹر وان لیس نے کہا کہ گزشتہ سال ہر کسی کی مدعو کردہ شہادتوں سے شروع ہونے والی گفتگو ایک واٹرشیڈ لمحہ تھا کیونکہ نوجوانوں کی بے مثال تعداد ناقابل قبول پیئر آن پیئر سیکسوئل ابیوز کو چیلنج کرنے کیلئے آگے آئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر ایک سکول کو اعلیٰ معیار کے نصاب کی فراہمی کیلئے ضروری سپورٹ حاصل ہو۔ ڈپارٹمتٹ فار ایجوکیشن (ڈی ایف ای) کے ایک ترجمان نے ہمیں بتایا ہے کہ اس نے سیف گارڈنگ گائیڈنس کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے اور گزشتہ سال کے آفسٹڈ ریویو کے بعد اساتذہ کیلئے وسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سال رواں کے آغاز میں ہم نے چیرٹیز کے ساتھ پارٹنر شپ کے ذریعے ایک نئی ہارم فل سیکسوئل بیہیویئر سپورٹ سروس شروع کی ہے جو اساتذہ اور سیف گارڈنگ پروفیشنلز کو ابیوز کے واقعات سے نمٹنے کیلئے مزید مدد فراہم کر رہی ہے۔