• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرفورڈ شائر کونسل نے ماہرین کے اعتراض کے باوجود جڑواں بچوں کو الگ کردیا

لندن (پی اے )ہرفورڈشائر کونسل کی سوشل سروسز نے ماہرین کے اس اعتراض کے باوجود کے اس بچوں کو نقصان پہنچ سکتاہے جڑواں بچوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا،3سالہ جڑواں ایک جھگڑالو گھر سے تعلق رکھتے الگ کیاگیا ،ہیرفورڈ شائر کونسل نے اپنی اس سنگین غلطی پر معافی مانگی ہے ،اطلاعات کے مطابق ایک نوجوان ماں کو اس کے ایک بچے کی اسٹریپ بی انفیکشن کے سبب موت پر غلط طور پر اس موت کا ذمہ دار قراردیاگیا اور اس کے 3سالہ بچے اور ماں کے کمسن بھائی کو کیئر میں منتقل کردیاگیا،کائونٹی میں 2014میں ان کے جھگڑالو گھر سے جب بریڈی اور گریس کو علیحدہ کیا گیا تو ان کی عمر صرف 3سال تھی ،عدالت کے واضح احکام کے باوجود کہ ان کو ایک ساتھ ہی گود لیاجاسکتاہے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیاگیا اور علیحدہ علیحدہ گود لینے والوں کے سپرد کردیاگیا،ان کو گود لینے والے والدین کا کہناہے کہ ہرفورڈ شائر کونسل نے بچوں کے پس منظر کے بارے میں پوری طرح مطلع نہیں کیا اور جب ان کے رویئے کو چیلنج کیاگیا تو سوالات کے جوا ب نہیں دئے گئے۔گریس کو گود لینے والی ماں نے بتایا کہ گریس کی ابتدائی زندگی بہت ہی بکھری بکھری گزری وہ صرف یہ جانتی تھی کہ بریڈی بھی یہاں تھا اور اچانک اسے کوئی چھین کر لے گیا، گریس یقیناً یہ سوچتی ہوگی کہ وہ اب کبھی بریڈی کو نہیں دیکھ سکے گی ،بعد میں فیملیز کو معلوم ہوا کہ جڑواں بچوں کو کبھی ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کرنا چاہئے ،لیکن کونسل نے ماہرین کےاس مشورے کوتبدیل کردیا کہ اس سے بچوں کو نقصان پہنچے گا ،جب سوشل ورکرز نے بریڈی کو واپس کیئر میں لے جانے کی کوشش تو ان کو گود لینے والے والدین نے مزاحمت کی اور یہ لڑائی لندن ہائیکورٹ تک پہنچ گئی۔ جہاں ماہرین کایہ تجزیہ ظاہرہوا کہ جڑواں بچوں کو علیحدہ کیاجائے تو وہ اس کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔عدالت میں جسٹس کیہان نے کونسل کے رویئے کو گمراہ کن قرار دیا۔لیکن جج نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ اب کوئی دوسرا قدم بچوں کے مفاد میں نہیں ہوگا جس کی وجہ سے بچے اب بھی علیحدہ علیحدہ ہی رہتے ہیں لیکن ان کو گود لینے والوں کاکہنا کہ اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور خوش وخرم ہیں،ہرفورڈ شائر کونسل نے اپنی سنگین غلطی کی وجہ سے بچوں اور فیملیز سے معافی مانگی ہے ۔کونسل نے کہا ہے کہ فوری تبدیلی اولین ترجیح ہے۔اور اس نے کام کا بوجھ کم کرنے کیلئے ایک 3 سالہ منصوبہ تیار کیاہے جس کے تحت مزید عملہ رکھاجائے گا اور قیادت کو بہتر بنایاجائے گا تاکہ بچوں اور فیملیز کو ان کی ضرورت کے مطابق معیاری سپورٹ حاصل ہوسکے۔چلڈرن سروسز کو کام کے اضافی بوجھ کا سامنا ہے فی الوقت انگلینڈ میں 80,000 ہزار بچے کیئر میں ہیں یہ تعداد 10 سال پہلے کے مقابلے میں 13,000 زیادہ ہے جبکہ بچوںکے پروٹیکشن کیلئے ریفرل میں بہت کم اضافہ ہواہے ,سوشل ورکرز کی جانب سے تفتیش میں کم وبیش60 فیصد اضافہ ہواہے۔

یورپ سے سے مزید