• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زرداری نے نواز شریف کو قائل اور فضل الرحمٰن کو منایا

اسلام آباد (فاروق اقدس/نامہ نگار خصوصی) ملکی موجودہ صورتحال میں مشکل فیصلوں کا سامنا کرتے ہوئے حکومت کی آئینی مدت پوری کی جائے یا پھر اسمبلیاں تحلیل کرکے قبل ازوقت انتخاب کی راہ اختیار کی جائے.

 اس موضوع پر فیصلوں میں تذبذب اور منقسم آراء کا اختتام کس طرح ہوا اور اس حوالے سے اتحادی جماعتوں کے قائدین ایک پیج پر کس طرح آئے کہ یہ فیصلہ پرعزم انداز میں متفقہ طور پر کیا گیا کہ نہ تو اسمبلیاں تحلیل ہوں گی اور نہ ہی قبل ازوقت انتخابات بلکہ اتحادی حکومت آنے والی معاشی اور سیاسی صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور ہر صورت میں اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ 

یہ فیصلہ اتوار کی شب مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہوا اور اس فیصلے کے مرکزی کرداروں میں زرداری، فضل الرحمان اور لندن سے نواز شریف شامل تھے ۔

اس ضمن میں موصولہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد خبروں میں یہ صورتحال سامنے آرہی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے بعض مرکزی رہنما اور قائدین موجودہ حکومت کی جانب سے ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر بعض سخت اور مشکل فیصلے کرنے سے گریزاں اس لئے ہیں کہ ان فیصلوں سے آنے والے انتخابات میں انہیں عوامی حمایت سے محروم ہونے کے خدشہ لاحق تھے اور اس بات کا یقینی امکان بھی کہ انہیں الیکشن لڑنے میں بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ 

دوسری طرف اتحادی حکومت کے دو اہم فریق آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان اس کے برعکس اس حوالے سے ایک پیج پر تھے کہ ’’حکومت ہر صورت میں اپنی آئینی مدت پورے کرے‘‘ اور یہ بھی کہ الیکشن آنے تک حکومت اپنی کارکردگی کے حوالے سے آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کرے، تاہم مسلم لیگ (ن) کے بعض قائدین کی جانب سے آراء میں اختلاف کے باعث صورتحال ایک تنازعے کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی اور یہ تاثر زور پکڑتا جارہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت (جس میں وزیراعظم شہباز شریف شامل نہیں) اسمبلیوں کی تحلیل اور ملک میں فوری الیکشن کے حامی ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید