• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

عمران خان: وزیراعظم سے کم عہدہ قبول کرنے کو تیار نہیں

نئے مالی سال کا خسارے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری ہے۔ سینٹ نے مالیاتی بل پر صرف سفارشات دینی ہیں۔ مالیاتی بل کی منظوری قومی اسمبلی نے دینی ہے۔ گزشتہ تین سالوں سےپی ٹی آئی کی حکومت کو بجٹ کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت اور ہنگامہ آ رائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایوان نے نعرے بازی اور بجٹ دستاویز پھاڑنے کے مناظر دیکھے تھے لیکن موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل خوش قسمت ہیں کہ انہیں بجٹ تقر یر کیلئے پر سکون ماحول ملا۔ فرینڈلی اپوزیشن ملی۔

ویسے بھی اپو زیشن کے ممبران کی تعداد بھی کم رہ گئی ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی سے استعفوں کا غیر سیا سی فیصلہ کرکےحکومت کیلئے آ سانیاں پیدا کردی ہیں۔ بظاہر عمران خان ماضی میں یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ حکومت یا اقتدار ان کا مسلہ ہی نہیں ہے لیکن جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو بجائے اس کے کہ وہ وقار کے ساتھ تحریک کا سامنا کرتے اور اس کے نتائج کو قبول کرکے جمہوری جذبے کا مظاہرہ کرتے انہوں نے ڈپٹی اسپیکر قام سوری ‘ اسپیکر اسد قیصر اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ذ ریعے ہر انتہائی قدم اٹھایا۔ 

انہوں نے اسمبلی سے مستعفی ہونے کا جواز بھی بہت دلچسپ و عجیب دیا کہ ہم ان ڈاکوئوں اور چوروں کے ساتھ اسمبلی میِں نہیں بیٹھ سکتے۔ گویا اگر وہ حکومت میں ہوں تو ان مبینہ چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں لیکن اپوزیشن میں نہیں بیٹھ سکتے۔ انہوں نے استعفوں کا فیصلہ کرکے پارٹی میں تقسیم کی بنیاد خود ہی رکھ دی۔ منحرف گروپ نے قومی اسمبلی میں نشستیں سنبھال لیں۔ راجہ ریاض اپو زیشن لیڈر بن گئے۔ حکومت کے مزے ہوگئے۔ اب قومی اسمبلی کی کاروائی پرسکون ماحول میں چل رہی ہے۔ حکومت دھڑا دھڑ قانون سازی کررہی ہے۔

جن ممبران نے استعفے دیے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اسپیکر کے بلانے پر تصدیق کیلئے نہیں آیا۔ جب استعفے دیے ہیں تو تصدیق کیلئے بھی آ نا چاہئے تھا۔ شیخ رشید احمد ‘ فواد چوہدری اور دیگر جب ضمانتوں کیلئے ہائی کورٹ گئے تو دعویٰ کیا کہ وہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ گویا استعفے دے بھی دیے اور رکنیت چھوڑنا بھی نہیں چاہتے۔ انہیں خوف ہے کہ ضمنی الیکشن میں اپنی نشست ہی نہ کھو بیٹھیں۔ 

ان مستعفی ممبران قومی اسمبلی میں بھی پھوٹ پڑ گئی ہے اور پہلے ممبر جان محمد جمالی عمران خان کی ہدایت نظر انداز کر کے بجٹ کے روز نہ صرف قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ان کی نشست پر جاکرملے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستعفی ممبران کا ضبط جواب دے رہا ہے۔ 

اگر عمران خان استعفوں کا اعلان نہ کرتے تو آج اپو زیشن لیڈر کی سیٹ پر بیٹھتے۔ اپوزیشن لیڈر کا منصب بہت باوقار ہوتا ہے لیکن عمران خان نے بزعم خود ہی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے عہدے پر بٹھایا جا ئے اس سے کم کوئی کردار انہیں  قبول نہیں ہے۔

ان کا یہی خبط عظمت انہیں لے ڈوبا ہے اور انہوں نے اپنے سر پرستوں سے لڑائی مول لے لی ہے۔ انہوں نےجذبات میں آکر اسمبلی سے جانے کا فیصلہ کیا ورنہ اسمبلی میں اپو زیشن لیڈر کی نشست پر بیٹھا عمران خان شہباز شریف کیلئے زیادہ مشکلات پیدا کرسکتا تھا۔ جس طرح عمران خان کی حکومت اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر کھڑی تھی اسی طرح شہباز شریف کی حکومت بھی اتحادی جماعتوں کے سہارے قائم ہے۔ عمران خان کو 176ووٹ پڑے تھے اور شہباز شریف کو175ملے ہیں۔ 

اسمبلی سے استعفوں کا کارڈ تب موثر ہوسکتا تھا اگر پی ٹی آئی قومی اسمبلی کے ساتھ ہی تمام صو بائی اسمبلیوں سے بھی مستعفی ہو جاتی۔ ایسے حالات میں عام انتخابات کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہ رہتا مگر عمران خان کے پی حکومت بھی نہیں کھونا چاہتے۔ پنجاب ‘ سندھ اور بلوچستان اسمبلی میں بھی بیٹھے ہیں تو پھر قومی اسمبلی میں بیٹھنے میں کیا مضائقہ تھا سوائے اس کے کہ ان کی انا کو ٹھیس لگی ہے کہ شہباز شریف کیوں وزیر اعظم بن گئے۔ اگر شہباز شریف کی جگہ کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو عمران خان اسمبلی سے نہ جاتے۔ 

دوسرا جذباتی فیصلہ اسلام آ باد کی جانب لانگ مارچ کا تھا۔ انہوں نے پہلے بیس لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کیا پھر اسے بڑھا کر 25لاکھ کردیا۔ان کا خیال تھا کہ پورے ملک سے انسانوں کا سمندر اسلام آ باد کی جانب نکلے گا اور وہ حکومت کو جام کردیں گے مگر آخر میں وہ سپریم کورٹ سے راستے کھولنے کی بھیک مانگتے نظر آئے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی حکمت عملی کا میاب رہی۔ عمران خان کو سیا سی طور پر یہ بڑا دھچکہ لگا ہے کہ وہ اسلام آ باد مارچ کیلئے لوگوں کو بڑی تعداد میں نکالنے میں ناکام رہے حالا نکہ انہوں نے مارچ سے قبل ملک گیر جلسے کئے۔ 

انہوں نے دو نوں آخری پتے ابتدا میں استعمال کرلئے اور اب سر پکڑ کر پریشان بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ نے انہیں جو ریلیف دیاتھا اس کا بھی انہوں نے غلط استعمال کیا۔ وہ جی نائن ایچ نائن میں پڑاؤ ڈال دیتے تو ٹھیک تھا۔ انہوں نے ڈی چوک کی کال دے کر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی۔ آئی جی اسلام آ باد اور چیف کمشنر نے سپریم کورٹ میں جو رپورٹس جمع کرائی ہیں وہ عمران خان کے خلاف چارج شیٹ سے کم نہیں ہیں۔ عمران خان پہلے اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کرتے رہے۔ 

پھر انہیں دھمکانے پر آگئے۔ اب کہ رہے ہیں کہ میں عوام کے پاس جاؤں گا۔ پہلے کہتے تھے کہ اصل فیصلہ کن کردار اسٹیبلشمنٹ کا ہوتا ہے۔اب وہ عوام کی بات کر رہے ہیں۔ اگلے لانگ مار چ کو بھی انہوں نے سپر یم کورٹ کے فیصلہ سے مشروط کردیا ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ ان کی مایوسی میں اضافہ ہو گا کیونکہ موجودہ حکومت دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔ حکومت کا فوری الیکشن کرانے کا مطالبہ تسلیم کرنے کو ئی ارادہ نہیں ہے۔ حکومت نے نیب تر میمی بل اور انتخابات تر میمی بل منظور کرا لئے ہیں۔ 

الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری کر دی ہے۔ اب صرف چیئر مین نیب کی تقرری باقی ہے۔ وزیر اعظم نے اس کیلئے اپو زیشن لیڈر راجہ ریاض سے مشاورت کر لی ہے۔ جس دن شہباز شریف اور آصف علی زرادری کے درمیان نام پر اتفاق ہو گیا یہ تقرری بھی ہو جا ئے گی۔

حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج اس وقت بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ یہ وہی چیلنج ہے جو عمران خان کو بھی درپیش تھا۔ اس وقت کی اپو زیشن نے مہنگائی کو ہی بنیادی ایشو بنایا تھا مگر عمران خان ابھی تک امپورٹڈ حکومت کی رٹ لگا رہے ہیں۔ امریکی مداخلت کا بیانیہ دن بدن کمزور پڑ رہا ہے۔ اس وقت عوام پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں ‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے پریشان ہیں۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید