• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

رمضان المبارک: سندھ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں بے بس

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تھرپارکر میں کوئلے سے چلنے والے 1650 میگاواٹ بجلی کے 2 منصوبوں کا افتتاح کر دیا جس سے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداوار 3300 میگاواٹ ہو جائے گی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام کوٹ تھر کا ایک روزہ دور کیا اور 330 میگاواٹ تھل نووا تھر اور 1320 میگاواٹ شنگھائی الیکٹرک منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزرا چوہدری سالک حسین، احسن اقبال، انجینئر خرم دستگیر خان، مریم اورنگزیب، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، چینی نائب ناظم الامور پانگ چن شوئی اورسندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ بھی موجود تھے۔

یہ منصوبے 3.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے تعمیر کئے گئے ہیں اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تھرکا صحرا آج پورے پاکستان کےلئے روشنی پھیلا رہا ہے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا مرکز بن رہا ہے، زراعت، ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری اور اکنامک زونز کا قیام سی پیک کا اگلہ مرحلہ ہے جسے اب آگے بڑھانے کا وقت آگیا ہے، امید کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبے صرف کاغذوں اور افتتاح تک محدود نہیں رہیں گے انہیں پایہ تکمیل تک بھی پہنچایا جائے گا۔ 

دوسری طرف پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی دو منصوبوں کا افتتاح کیا انہوں نے کورنگی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز اور جوہر چورنگی پر ضیا محی الدین فلائی اوور کا افتتاح کیابعدازاں بلاول بھٹو نے اس حوالے سے ویڈیو پیغام میں کہاکہ آج میں نے ضلع شرقی میں ضیامحی الدین فلائی اوور کا افتتاح کیا، اس حلقے سے خان صاحب منتخب ہوئے تھے مگر حکومت سندھ نے صرف 5 ماہ میں وہ کردکھایا جو وزیراعظم ہونے کے باوجود عمران خان 4 سال میں نہیں کرسکے، عمران خان نے وزیراعظم ہوتے ہوئے اس علاقے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ 

فلائی اوور کی تعمیر ایک اہم اقدام ہے تاہم شہری یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ گذشتہ بارش میں ٹوٹنے والی ایک سو چھ سڑکوں کی مرمت کون کرے گا اور کب ہو گی؟ ادھر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھی سستے بازاروں اور کم آمدنی والے خاندانوں میں سستے آٹے کی تقسیم کا مژدہ سنایا انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے کابینہ نے فیصلے کئے تھے، جس کے تحت صوبے بھر میں 135بچت بازار مختلف شہروں میں لگنے شروع ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ 78 لاکھ خاندانوں کوآٹے کی خریداری پر سبسڈی دی جارہی ہے ، جس پر 15.6 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت فوڈ انسپکٹرز اور محکمہ سپلائی اینڈ پرائسزکنٹرول کے افسران اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فعال ہیں۔ صوبائی وزیر کے اعلان کے مطابق فی خاندان اوسطـ پانچ افراد شمار کئے جائیں تو اس پیکیج سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد لگ بھگ چار کروڑ کے قریب بنتی ہے جو بہت بڑا اقدام ہے تاہم گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بڑھتی مہنگائی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے انتظامیہ پرائس لسٹوں کا جائزہ لیں میں خود بازاروں کا دورہ کروں گا شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں مکمل ناکام قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض حلقوں کے مطابق رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ناجائاز منافع خور سرگرم ہوگئے سندھ حکومت حسب روایت رمضان المبارک میں شہریوں کو ریلیف دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

سندھ حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ دکانداروں نے رمضان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا ہے جبکہ کمشنر کراچی سمیت ماتحت اسسٹنٹ کمشنرز غائب ہیں۔ شہر بھر میں دکاندار کمشنر کراچی کی ریٹ لسٹ کے بجائے من مانی قیمتوں پر اشیائے خوردونوش مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ہیں۔ سبزی ، دال، چاول، گھی اور گوشت کی قیمتوں میں من مانااضافہ کردیا گیا ہے۔ 

غیرقانونی ٹھیلے اور پتھارے والے بھی مہنگے داموں اشیا فروخت کرنے لگے۔ شہر کے مختلف علاقوں کے دکانداروں نے کمشنر کراچی کی ریٹ لسٹ کو ہوا میں اڑادیا۔ ادھر مختلف علاقوں میں رمضان المبارک میں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے بعض علاقوں میں سحری کے اوقات میں بھی چولہے ٹھنڈے رہے اور شہریوں نے بازار سے تیار شدہ سحری سے روزہ رکھا۔ شہریوں کے مطابق پی آئی بی کالونی، اورنگی ٹاؤن سیکٹر10، اخترکالونی، اعظم ٹاؤن، محمودآباد، نارتھ کراچی، نیوکراچی، ناگن چورنگی، نارتھ ناظم آباد ، گلشن اقبال اوردیگرعلاقوں میں جمعرات کی صبح6 بجے سے گیس کی فراہمی بند رہی، جبکہ ایس ایس جی سی کی جانب سے صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔ 

گلشن حدید، اسٹیل ٹاؤن، گھگھر پھاٹک، پپری میمن گوٹھ، قائدآباد، ملیر، شرافی گوٹھ ودیگر علاقوں میں سحری کے بعد گیس کی لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی ہے گیس لوڈ شیڈنگ کے خلاف شہر کے متعدد علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور کئی مقامات پر عوام نے احتجاجا"سڑکیں بند کر دی جس سے ٹریفک کئی کئی گھنٹے جام ہوگیا۔ ادھر شہر میں علما کے قتل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے پہلے نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے سنی علما کونسل کے رہنما مولانا عبدالقیوم کو شہد کر دیا پھر اہلسنت والجماعت کے رہنما مولانا سلیم کھتری کو شہید کر دیا گیا مذہبی رہنماؤں کی شہادت قانوں نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے دوسر ی طرف بے گناہ شہری بھی اسٹریٹ کرمنل کے ہاتھوں زندگی کی بازیاں ہارتے رہے۔

رواں سال کے 80 دنوں کےد وران اسٹریٹ کرائمز میں29 افراد کی ہلاکت اور 140 کے زخمی ہونے کے بعد کراچی کے شہری جرائم پیشہ افراد کے رحم وکرم پرہیں۔ سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی(سی پی ایل سی) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں گزشتہ دو ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جنوری 2023 سے فروری2023 کے دوران جرائم کے 14000 سے زائد واقعات ہوئے شہر میں رواں سال کے پہلے 80 دنوں میں اسٹریٹ کرائمز کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران مجموعی طور پر 29 افراد ہلاک اور تقریبا 140 افراد زخمی ہوئے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید