مولانا محمّد راشد شفیع
عید الاضحٰی کے موقعے پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جانور قربان کرنا دینِ اسلام کی ایک اہم ترین عبادت ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان اِن مقرّرہ ایّام میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں جانور اللہ کی رضا کی خاطر ذبح کرتے ہیں۔ قربانی کی عبادت بندے کی اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ عشق و محبّت کی مظہر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بندہ اللہ تبارک و تعالی کی رضا اور خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اُس نے جانوروں کو ذبح کرنا اس کے قائم مقام قرار دے دیا۔
خوش نصیب ہے وہ شخص، جسے مالی وسعت حاصل ہو اور وہ اِس فریضے کو پورے خلوص سے انجام دے، جب کہ مالی استطاعت کے باوجود اِس عظیم عبادت سے محرومی بڑی بدنصیبی کی بات ہے۔بارگاہِ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیّدنا آدم علیہ السّلام ہی سے چلا آ رہا ہے۔ چناں چہ اللہ تعالی نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا قصّہ ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالی کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عُمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلّہ پیش کیا۔اُس وقت قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ آ کر قربانی کو کھا لیتی، چناں چہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھا لیا اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی، یوں وہ قبولیت سے محروم ہو گئی۔
قربانی کا عمل ہر اُمّت میں رائج رہا ہے، البتہ طریقۂ کار مختلف رہا۔ سورۃ الحج آیت نمبر34 میں ارشادِ ربّانی ہے،’’ اور ہم نے ہر اُمّت کے لیے قربانی اِس غرض کے لیے مقرّر کی کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں، جو اللہ نے اُنہیں عطا فرمائے۔‘‘زمانۂ جاہلیت میں بھی قربانی کو عبادت سمجھا جاتا تھا، مگر وہ جانوروں کو بُتوں کے نام پر قربان کیا کرتے تھے، اِسی طرح آج بھی مختلف مذاہب میں قربانی ایک مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے سورۃ الکوثر میں نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ ’’اپنے ربّ کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔‘‘سورۂ انعام میں ارشاد ہے، ’’(آپ ﷺکہہ دیجیے)بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اُس اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عظیم الشّان قربانی
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بڑھاپے میں اولاد سے نوازا اور پھر بیوی اور شیر خوار بچّے کو سنسان وادی میں چھوڑنے کا حکم آگیا۔ خلیل اللہؑ نے حکم کی تعمیل میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا اوردونوں کو ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے، جہاں کھانے کو کچھ میّسر تھا، نہ پینے کے لیے پانی کا کوئی گھونٹ۔ دُور دُور تک کوئی انسان نظر نہیں آتا تھا۔ جب اِس امتحان میں سرخ رُو رہے، تو ایک اور آزمائش سامنے تھی۔ بچّہ کچھ بڑا ہوا تو ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔
صاحبانِ اولاد اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کس قدر بڑی آزمائش تھی۔چوں کہ انبیاء کرام علیہم السّلام کا خواب بھی وحی کے درجے میں ہوتا ہے، اِس لیے صبح اُٹھتے ہی اُس خواب کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا۔قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے،”سو جب وہ لڑکا ایسی عُمر کو پہنچا کہ ابراہیم (علیہ السّلام) کے ساتھ چلنے پِھرنے لگا، تو ابراہیم (علیہ السّلام) نے فرمایا، ’’بیٹا! مَیں دیکھتا ہوں کہ تم کو (اللہ کے حکم سے) ذبح کررہا ہوں، سو، تم بھی سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ وہ بولے،’’ ابّا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے، آپ کیجے، انشاء اللہ آپ مجھ کو صبرکرنے والوں میں پائیں گے۔“
یہ امتحان کس قدر سخت تھا اِس کی طرف اشارہ خود اللہ ربُ العزّت نے”فلما بلغ معہ السعي“ سے اشارہ فرما دیا کہ ارمانوں سے مانگے ہوئے اُس بیٹے کو قربان کرنے کا حکم اُس وقت دیا گیا، جب یہ بیٹا اپنے باپ کے ساتھ چلنے پِھرنے کے قابل ہوگیا تھا اور پرورش کی مشقّتیں برداشت کرنے کے بعد اب وقت آیا تھا کہ وہ قوّتِ بازو بن کر باپ کا سہارا ثابت ہو۔ مفسّرین نے لکھا ہے کہ اُس وقت حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی عُمر تقریباً تیرہ سال تھی۔
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ’’ ذبح کرنے کا یہ حکم براہِ راست کسی فرشتے وغیرہ کے ذریعے بھی نازل کیا جاسکتا تھا، لیکن خواب میں دِکھانے کی بظاہر حکمت یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی اطاعت شعاری اپنے کمال کے ساتھ ظاہر ہو۔ خواب کے ذریعے دیے ہوئے حکم میں انسانی نفس کے لیے تاویلات کی بڑی گنجائش تھی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تاویلات کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اللہ ربّ العزّت کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا اور اِس امتحان میں کام یاب ہوئے۔‘‘
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’جب وہ دونوں تیارہوگئے، تو باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔‘‘ روایت ہے کہ چُھری چلانے سے پہلے بیٹے نے کہا،’’ ابّا جان میری کچھ وصیّتیں ہیں۔ پہلی وصیّت تو یہ ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ دیں تاکہ اگر مَیں تڑپوں تو آپ کے لباس پر خون کا چھینٹا نہ پڑے، ذبح کرنے سے پہلے چُھری تیزکر لیجیے تاکہ یہ فریضہ ادا کرنے میں تاخیر نہ ہوجائے۔اپنی آنکھوں پرپٹّی باندھ لیجیے کہیں محبّت کی وجہ سے آپ اِس فریضے سے رہ نہ جائیں۔ اور میرا خون آلود کُرتا میری والدہ کے پاس پہنچا دیجیے گا تاکہ وہ اس کُرتے کو دیکھ کر اپنے دل کوتسلّی دے لیا کریں۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے نازک حلق پرچُھری رکھی تو وہ کند ہوگئی، بار بار چلائی مگر وہ کام سے انکاری رہی۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اُسے ایک پتھر پر دے مارا، تو پتھر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آوازآئی،”بے شک ہم نے پکارا اے ابراہیم! تُو نے خواب سچ کردِکھایا، ہم نیک لوگوں کو یونہی جزا دیتے ہیں، بے شک یہ بڑی آزمائش ہے، ہم نے اس کا فدیہ ذبح عظیم کے ساتھ کردیا اور اسے بعد والوں میں باقی رکھا۔“
روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے آسمانی آواز سُن کر اوپر کی طرف دیکھا، تو حضرت جبرائیل علیہ السّلام ایک دنبہ لیے کھڑے تھے،جسے اُنھوں نے ذبح کیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی قربانی قبول فرما لی اور اسے یادگار کے طور پر قیامت تک باقی رکھا، مسلمان اسی یاد میں ہرسال جانور قربان کرتے ہیں۔
جانور قربان کرنے کی فضیلت
قربانی کی ایک عظیم الشّان صُورت وہ ہے، جو اللہ تعالی نے اُمّتِ محمّدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صُورت عطا فرمائی جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ احادیثِ مبارکہؐ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا،’’ یا رسول اللہ ﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،’’ تمہارے باپ، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی سُنّت ہے۔‘‘
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا،’’یارسول اللہ ﷺ!اِس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟‘‘ فرمایا،’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔‘‘عرض کیا’’اور اُون میں ؟‘‘ فرمایا،’’ اس کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ)۔ایک اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،’’ ایّامِ قربانی (یعنی10 تا 12 ذی الحج) انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں سمیت حاضر ہوگا اور بلاشُبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے، تو اے مومنو! خُوش دِلی سے قُربانی کیا کرو۔‘‘ (تِرمِذی)۔
ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی، حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد فرمایا’’اے فاطمہؓ !اُٹھو اپنی قُربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور اُسے لے کر آؤ کيوں کہ اُس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تمہارے پچھلے گناہ بخش ديے جائيں گے۔‘‘ اُنہوں نے عرض کیا’’ یا رسول اللہ ﷺ ! يہ انعام ہم اہلِ بیت کے ساتھ خاص ہے يا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟‘‘ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔‘‘(المستدرک)۔اِسی طرح ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِگرامی ہے،’’جس میں وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)۔
حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ منوّرہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔‘‘(سنن ترمذی)۔ نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا اِس عمل کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کے لیے کافی ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیاہ، سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے، اپنے پاؤں کو اُن کی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے اور اپنے دستِ مبارک سے اُنھیں ذبح فرماتے۔‘‘(صحیح بخاری)۔
قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اِس امر سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے حجتہ الوداع کے موقعے پر ایک سو اونٹوں کی قربانی فرمائی۔ ایک روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ اقدس سے اِن ایک سو میں سے63 اونٹوں کو ذبح فرمایا،جب کہ باقی اونٹ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے آپ ﷺ کے حکم پر ذبح کیے۔(صحیح بخاری)۔
قربانی کس پر واجب ہے؟
اِس سلسلے میں جامعہ علومِ اسلامیہ، علّامہ محمّد یوسف بنوری ٹاؤن،کراچی کے ایک فتوے کے مطابق،قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے، جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایّام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زاید اِتنا سامان موجود ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو،تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔
قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زاید سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اور اس کا تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ۔اگر کوئی شخص ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے مقرّرہ نصاب کا مالک ہوجائے، تو اُس پر قربانی واجب ہے۔
قربانی سے متعلق چند اہم مسائل
(1) بعض گھرانوں میں گھر کے تمام افراد کی طرف سے صرف ایک بکرا قربان کیا جاتا ہے، حالاں کہ بسا اوقات گھر کے کئی افراد صاحبِ نصاب ہوتے ہیں اور اِس وجہ سے اُن سب پر قربانی واجب ہوتی ہے، لہٰذا اُن سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کرنا ضروری ہے۔(2)بڑے جانور مثلاً گائے، بھینس اور اُونٹ میں سات حصّے ہوسکتے ہیں۔ (عالمگیری)۔(3) کسی دوسرے شخص کی طرف سے واجب قربانی ادا کرنے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے، ورنہ قربانی ادا نہیں ہوگی۔
البتہ، اگر کسی جگہ پر اپنے متعلقین کی طرف سے قربانی کرنے کی عادت اور رواج ہے، تو اس صُورت میں اجازت لینا ضروری نہیں، بغیر اجازت بھی قربانی کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔(4)قربانی کے وقت قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ مثلاً قربانی کرنے کی بجائے بکرا یا اُس کی قیمت صدقہ کرنے سے قربانی ادا نہیں ہوگی۔بعض افراد کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ قربانی کرنے کی بجائے کسی ضرورت مند یا غریب افراد کی مدد کرنی چاہیے۔
اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا بہت نیک عمل ہے اور قرآن و حدیث میں ایسا کرنے کی بہت ترغیب بھی دی گئی ہے، تاہم، قربانی ایک مخصوص عبادت ہے، جو جانور قربان کرنے ہی سے ادا ہوتی ہے۔ اگر قربانی کرنا پیسے اور وقت کا زیاں ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی قربانی کرنے کی تاکید نہ فرماتے۔
پھر یہ کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل سے ثابت ہے کہ عید الاضحٰی پر جانور قربان کرنا اللہ تبارک و تعالی کی رضا اور خوش نودی کا باعث ہے۔ (5) قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا ضروری ہے۔(6) گو کہ قربانی کا گوشت مکمل طور پر خود بھی رکھا جاسکتا ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ اس کے تین حصّے کیے جائیں۔ ایک حصّہ اپنے لیے رکھے، دوسرا حصّہ رشتے داروں کو دے اور تیسرا حصّہ فقراء ومساکین کو دے۔ یہ اِس لیے بھی ضروری ہے کہ تمام لوگ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔