• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امامیہ ویلفیئر آرگنائزیشن سویڈن کے زیر اہتمام مجلس عاشور

مالمو (نمائندہ جنگ) سویڈن کے شہر مالمو میں امامیہ ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے یکم محرم سے نویں محرم تک مجالسِ اور عاشورہ کی مجلس کا اہتمام کیا گیا، محرم کی مجالس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی مالمو شہر کی اہلسنت و جماعت کی مذہبی ، سماجی و سیاسی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مالمو شہر میں سنی، شیعہ بھائی چارگی اپنی مثال آپ ہے۔مولانا سید میثم عباس نقوی اور ادارہ منہاج القرآن کے خطیب محمد اصغر قادری نے فضائل اہلبیت اور مصائب شہدائے کربلاؓ بیان کئے۔مجالس میں اہلسنت و جماعت سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیات ، سویڈن میں اقلیتوں کی سیاسی جماعت پارٹیت نیانس کے نامزد کردہ پارلیمانی امیدوار زبیر حسین اور پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ کے محمد سرور نےخصوصی شرکت کی۔ مقامی ذاکرین اہلبیت سید شیراز، حامد رضا، ذوالفقار علی،گلفام عباس، سید وقی عباس اور بین الاقوامی شہریت یافتہ نوحہ خاں سلیم رضا نگری نے بھی ذکر اہلبیت بیان کیا۔ سید میثم عباس نقوی نے شہادت علی اکبرؓ اس انداز میں بیان کی کہ ہر آنکھ پُرنم ہوگئی، مجلس عزا کے اختتام پر ماتم داری کی گئی اور لنگر حسینی بھی تقسیم کیا گیا ۔ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے خطیب اہلسنت اصغر قادری نے کہا کہ دین میں اخوت ہے ،بھائی چارہ ہے، نفرت کی کوئی گنجائش نہیں، اس لئے مسلک کوئی بھی ہو سب کا احترام لازمی ہے۔میثم عباس نقوی کا کہنا تھا کہ انسان کو چاہئے کہ وہ ذلت کا پیغام ترک کردے کیونکہ نفرت انگیزی اور ذہنی غلامی ذلت کا باعث ہے ،اس لئے ہمیں اس راہ کو ترک کرنا ہے اور اتحادِ بین المسلمین قائم کرکے دنیا کو مثبت پیغام دینا ہے۔ سید شیراز کا کہنا تھا کہ ہمارے اداروں کی کاوشوں سے جو سنی،شیعہ اتحاد مالمو شہر میں مثال بنا ہے انشاللہ دنیا بھر میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور تمام مسلمان یکجا ہوں گے۔پارٹیت نیانس کے پارلیمانی امیدوار زبیر حسین نے کہا کہ یورپ اور خصوصاً سویڈن میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی روک تھام کہ لئے مسلم امہ کا اس طرح کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم ہمیشہ سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے مگر آج تک مسلمان حقیقی اتحاد نہیں بنا پائے، اگر ہم مسلمان فرقہ واریت سے بالاتر ہوکر اتحاد قائم کریں اور اس اتحاد کو مقامی سیاست کا حصہ بنا کر ایوانوں تک پہنچیں تو یقینی طور پر ہم اس طرح کی قانون سازی کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے جہاں کسی مذہب کی بے حرمتی اور کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کی دل آزاری نہ ہوسکے۔