• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی تدفین کا عمل مکمل ہوگیا اور چارلسIIIنئے بادشاہ بن گئے، برطانویوں نے جس انداز سے ملکہ کے ساتھ اور اس نظام بادشاہت کے ساتھ اپنے لگائو کا اظہار کیا اس کی مثال نہیں ملتی، لوگ چوبیس، چوبیس گھنٹے تک قطاروں میں کھڑے اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ پانچ، چھ میل لمبی قطار میں ان کی باری کب آئے گی کہ وہ صرف ملکہ کے تابوت کے پاس سے گزر کر سلامی یا عقیدت کا اظہار کرسکیں، ملکہ کا چہرہ کسی کو نہیں دکھایا گیا، ملکہ کو پورے مسیحی اعزازات اور علامات کے ساتھ آخری سفر پر رخصت کیا گیا، بادشاہت کو عیسائیت کے عقائد کے مطابق براہ راست خدا کی ودیت سمجھا جاتا ہے اور خدا بادشاہوں کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے، منارکی چرچ آف انگلینڈ کی بھی سربراہ ہے، برطانیہ میں بادشاہت کو یہ پوزیشن1530ء میں ہنری ہشتم (8th) کے دور میں عطا ہوئی، اب آرچ آف بشپ اور بشپ کی نامزدگی منارک یعنی ملکہ یا بادشاہ وزیراعظم کے مشورے سے کرتے ہیں جب کہ روحانی پیشوا آرچ بشپ آف کنٹربری کو مانا جاتا ہے، جب میں ملکہ کی تدفین سے قبل کی آخری رسومات دیکھ رہا تھا تو دلچسپ باتیں نوٹ کرنے کو ملیں، کچھ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں، شاہی خاندان کے طور طریقوں کے مطابق ملکہ کا تابوت تو 30 سال قبل ہی تیار ہوگیا تھا بلکہ شاہی خاندان کے دیگر اہم لوگوں کے تابوت بھی ان کی زندگی میں ہی تیار کرلیے جاتے ہیں جوکہ انگلینڈ کی ایک مشہور فیونرل کمپنی کرتی ہے، تابوت کے اندر لیڈ اور زنک کی تہہ لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے تابوت کافی بھاری ہوجاتا ہے، اس میں باڈی داخل کرنے کے بعد اسے مکمل طور پر سیل کردیا جاتا ہے اور اندر کی تمام ہوا اور نمی کھینچ لی جاتی ہے، اس مکمل خلا کے ماحول میں جسدخاکی کئی دہائیوں بلکہ صدیوں میں بھی خراب نہیں ہوتا، باڈی کو علیحدہ سے ادویات سے محفوظ کردیا جاتا ہے، تابوت وزنی ہونے کی وجہ سے اسے آٹھ مضبوط جوان اٹھاتے ہیں، اس سب کچھ کی ناصرف برسہا برس سے پریکٹس کی جاتی ہے بلکہ مرنے سے لے کر تدفین تک کے تمام معاملات اور باریک تفصیلات تک ملکہ یا بادشاہ کی زندگی میں ہی طے ہوچکی ہوتی ہیں، ملکہ الزبتھ نے تمام معاملات جس میں ان کے جنازے کو کہاں کہاں لے جایا جائے گا، خاندان کے کون لوگ اسے دیکھ سکیں گے، جانشینی کا عمل کس طرح ہوگا، کون سی رسومات کب اور کیسے ادا ہوں گی، سب کی زندگی میں ہی پڑتال کرلی تھی، ملکہ کے تابوت کو اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے جن حصوں میں گھمایا گیا وہاں، وہاں کے برٹش عوام نے جس عقیدت کے ساتھ ملکہ کو الوداع کیا اور سڑکوں کے گرد کھڑے ہوکر پھول نچھاور کیے اور نعرے لگائے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بادشاہت پرست قوم ہے، میں اس جمہوری ملک میں اس بادشاہت پرستی کی جڑیں کھوجنے لگا تو ادراک ہوا کہ ملکہ کا71سالہ دور ،ان کی پوری96سالہ زندگی میں تمام نشیب و فراز سے گزر کربرطانیہ ایک طاقتور اور خوشحال ملک بنا ہے اور بادشاہت کا چند صدیوں پر پھیلا نوآبادیاتی دور فقط خوشحال ہی نہیں بلکہ ان کے اندر اعلیٰ النسل ہونے کا احساس بھی دے کر گیا ہے جوکہ سوسائٹی میں نسل پرستوں کو حوصلہ دیتا رہتا ہے، جنگ عظیم کے بعد سے لے کر اب تک کی نوآبادیوں اور آزاد ہونے والے کمزور ممالک سے لوٹ کھسوٹ کی دولت نے نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو مضبوط کیا بلکہ یہاں کے عوام بھی اس میں پورے حصہ دار بنے، برطانیہ میں منارکی، کی ہمیشہ سے یہ خوبی رہی ہے کہ جیسے جیسے سوسائٹی میں جمہوری اقدار مضبوط ہوتی گئیں منارکی نے پیچھے ہٹنے میں مزاحمت نہیں کی بلکہ مطلق العنان بادشاہت سے اعزازی بادشاہت کا سفر احسن طریقے سے کیا جس سے بادشاہت (Sovereign) تو رہی لیکن اس کی علامتی حیثیت کو بھی عوام رحمت کا سایہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور ملکہ یا بادشاہ کی درازی عمر کی دعا کرتے ہیں، اتنے ترقی یافتہ ہونے کے باوجود شاہی خاندان ابھی بھی بہت سی توہم پرستی کی روایات برقرار رکھے ہوئے ہے، مثلاً ایک محل سے دوسرے محل کے درمیان شہد کی مکھیوں کو ملکہ کی وفات کی باقاعدہ طریقے سے چھتوں کے پاس جاکر اطلاع دی گئی اور باقاعدہ پاس جاکر کہا گیا کہ اب آپ کی ملکہ آپ میں نہیں رہی، وہ آپ کی بہت اچھی آقا تھی، اب چارلس آپ کا آقا اور نگہبان ہوگا، یہ شاہی خاندان کی صدیوں پرانی روایت ہے، ان کا اعتقاد ہے کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو یہ شہد کی مکھیاں شہد دینا بند کردیں گی یا پھر چھتہ چھوڑ کر بھاگ جائیں گی یا مر جائیں گی، اس طرح کی ایک اور دلچسپ روایت ہے کہ جب ملکہ پارلیمنٹ میں خطاب کے لیے آتیں یا دورہ کرتیں تو ایک ایم پی کو یرغمال کے طور پر بکنگھم پیلس میں رکھا جاتا ہے اور ملکہ کی واپسی تک وہ وہیں رہتا ہے، یہ ان کی کئی سو سال پرانی روایت ہے اور پھر نیلم پتھر کو اس شاہی خاندان میں بہت عقیدت کے خوش قسمتی کے اعتقاد کے ساتھ رکھا جاتا ہے، ٹاور آف لندن ایک قلعہ ہے جوکہ ٹاور برج لندن میں ہے، یہ وہی قلع ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کا قیمتی ہیرا کوہ نور رکھا گیا ہے، اس قلعے کی روایت یہ ہے کہ روزانہ گارڈز پورے قلعے کے پھاٹکوں کی چابیاں لے کر پورے ٹاور آف لندن کا چکر لگاتے ہیں، یہ روایت بھی قلعہ کی تعمیر سے لے کر ابھی تک جاری ہے، اسے مارڈرن آٹومیٹک لاک سسٹم سے مبرا رکھا گیا ہے، اس طرح جنات پر اس شاہی خاندان کا بہت اعتقاد ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ شہزادی این کے نارخاک کے گھر پر جنات کا قبضہ ہے، جہاں شہزادی کو چار بغیر سروں والے گھوڑوں کی بگھی پر سوار دیکھا گیا، جس کا بگھی بان بھی بغیر سر کے تھا، اس قسم کے اعتقادات والی ملکہ الزبتھ کی تدفین کے وقت تمام تاج، چرچ کی طاقت کی علامت والا سونے کا خود اور طاقت کی چھڑی تابوت سے اتاری گئی،یہ تمام اشیا اس کی طاقت کی علامات ہیں جوکہ دنیا میں بائبل کے مطابق خدا کی جانب سے ودیت ہیں اور ملکہ کو خدا کے سپرد کرنے سے پہلے اس تمام دنیا کی طاقت اس سے لے لی گئی اور وہ ایک فقط مسیح کی پیروکار کے طور پر تدفین کے عمل میں داخل ہوئی، ان کا تابوت ان کے شوہر پرنس فلپ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ 
یورپ سے سے مزید