• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایچ پائلری پیٹ کے امراض، معدے کے السر اور کینسر کا باعث بنتا ہے، میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی

کراچی (رپورٹ :بابر علی اعوان) ایچ پائلری ایک جراثیم ہے جو پیٹ کے امراض ، معدے کے السر اور کینسر کا باعث بنتا ہے۔ مریض اس کے پازیٹیو آنے سے بہت پریشانی اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ یہاں ایچ پائلری کی شدت اور اس سے کینسر کی شرح انتہائی کم ہے ۔ ایچ پائلری کی تشخیص کے لئے پاکستان میں پہلی بار یوریا بریتھ ٹیسٹ متعارف کرایا جارہا ہے جو 20 منٹ میں سرانجام دیا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ ایک گھنٹے میں آجاتا ہے یہ سب سے زیادہ ریلائبل ٹیسٹ ہے جو دنیا بھر میں کرایا جاتا ہے ۔ ایچ پائلری کی تشخیص اور علاج کے علاوہ اس ضمن میں عوامی رویوں کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،معیاری کھانا کھائیں ، لال گوشت سے اجتناب کریں ، سبزیاں اور پھل کھائیں ، جنک فوڈ سے گریز کریں ، مشروبات کا استعمال ترک کریں ، کھانے کا انداز تبدیل کریں ، بچوں کے ذہن اور اس کلچر کو تبدیل کریں ۔ان خیالات کا اظہار ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اورسربراہ این آئی ایل جی آئی ڈی پروفیسر ڈاکٹر سید محمد زاہد اعظم ،ڈین میڈیسن اور ڈائریکٹر او آئی سی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد ، اسسٹنٹ پروفیسر گیسٹرو اینٹرولوجی این آئی ایل جی آئی ڈی ڈاکٹر عبداللہ بن خالد ،کمرشل ڈائریکٹر ڈاؤ لیب سلیم احمد چوہان اور سی ای او اوٹسو کاحنیف ستار نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی (جنگ گروپ آف نیوز پیپرز) اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال اوجھا کیمپس میں منعقدہ عوامی آگہی سیمیناربعنوان ’’ہیلی کو بیکٹر پائلری کی جدید تشخیص اورعلاج ‘‘سے خطاب کے دوران کیا۔ سیمینار کی نظامت کے فرائض میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی (جنگ گروپ آف نیوز پیپرز) کے چیئرمین واصف ناگی نے سرانجام دیئے ۔ سیمینار میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اورشعبہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد زاہد اعظم نے کہا کہ ہیلی کو بیکٹر پائلری ایک جراثیم ہے جو پیٹ کے امراض ، معدے کے السر اور کینسر کا باعث بنتا ہے۔مریض اس سے بہت ڈرتے ہیں کہ شاید اس سے کینسر ہو جائے گا۔یہ جس کو ایک بار ہو جائے دوبارہ بھی ہوتا ہے عام طور پر مریض جب ڈاکٹر کے پاس آتا ہے تو بتاتا ہے کہ وہ 4 بار علاج کراچکا ہے لیکن پھر بھی اس کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ پائلری کی تشخیص کے لئے تین قسم کے ٹیسٹ ہوتے ہیں پہلی قسم میں خون کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ یہ اینٹی باڈی کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو الائیزا یا کٹ پر کیا جاتا ہے ۔ جب کسی کو پہلی بار تکلیف ہو تو اس کا خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہےاور دوا تجویز کی جاتی ہے ۔خون کے ٹیسٹ میں عموماً ایچ پائلری آتا ہے کیونکہ خون کا ٹیسٹ یہ بتاتا ہے کہ کبھی ایچ پائلری ہوا تھا ۔ دوسرے قسم میں پاخانے کانمونہ لیا جاتا ہے کیونکہ یہ مرض بھی فضلے سے پھیلتا ہے ۔ اس قسم کے ٹیسٹ سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جراثیم موجو د ہے اور فعال ہے ۔اس ٹیسٹ پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ تیسری قسم میں انڈو اسکوپی کی جاتی ہے یہ زیادہ قابل بھروسہ تشخیص ہوتی ہے لیکن یہ عام طور پر نہیں کرایا جاتا۔ ان تینوں اقسام کے علاوہ پاکستان میں پہلی بار یوریا بریتھ ٹیسٹ متعارف کرایا جارہا ہے جو 20منٹ میں سرانجام دیا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے مریض کو ایک تھیلی دی جاتی ہے اور مریض کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اسے پھلائے ۔ اس کے بعد مریض کو ایک کیپسول کھلایا جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد دوبارہ تھیلی دی جاتی ہے جو مریض پھلاتا ہے ۔ یوں یہ ٹیسٹ مکمل ہو جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ ایک گھنٹے میں آجاتا ہے یہ سب سے زیادہ ریلائبل ٹیسٹ ہے جو دنیا بھر میں کرایا جاتا ہے ۔ڈین میڈیسن اور ڈائریکٹر او آئی سی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ایچ پائلری کے حوالے سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر ہم سب اپنا ٹیسٹ کرائیں تو ہوسکتا ہے کہ سب کے ٹیسٹ پازیٹیو آئیں لیکن یہ اچانک شدت کیوں اختیار کر جاتا ہے کیوں حملہ کر دیتا ہے ۔ اس کے لئے عوامی رویوں کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب بھی کھائیں معیاری کھانا کھائیں تاکہ معدہ متاثر نہ ہو۔ بدقسمتی سے نئی نسل کو یہ نعرے دیئے جارہے ہیں کہ کچھ کو تالے لگا دیجئے اور موٹر سائیکل پر منگوا لیجئے ۔ اگر آپ کچن کو تالے لگائیں گے تو معیاری کھانا کیسے کھائیں گے ۔ صحت خراب ہو جائے گی ۔ مشروبات کا استعمال ترک کریں ، کھانے کا انداز تبدیل کریں ، بچوں کے ذہن اور اس کلچر کو تبدیل کریں ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ایچ پائلری کے لئے ہم کینیڈا میں بھی یہی ٹیسٹ کرایاکرتے تھے لیکن یہاں پاخانے کے نمونوں سے تشخیص کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ جو علاج مریض کو لکھ کر دیا جاتا ہے اس کو شروع کر کے چھوڑ دیا جاتا ہےا ور پورا نہیں کیا جاتا جس سے ادویات کے خلاف مرض کی مزاحمت بڑھتی ہے پھر بہت خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ اس لئے باقائدہ تشخیص کرائی جائے ، ادویات پوری لی جائیں اور مکمل علاج کرایا جائے تو پوری زندگی اس سے جان چھوٹ جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں مریض کو بااختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مریض ڈاکٹر سے ضرور پوچھیں کہ جو دوا لکھ کر دی جارہی ہے اس کے مضر اثرات کیا ہیں ؟ اس دوا کے علاوہ اور کیا آپشن ہیں کیا کوئی اور دوا لی جاسکتی ہے ۔ اسسٹنٹ پروفیسر گیسٹرو اینٹرولوجی این آئی ایل جی آئی ڈی ڈاکٹر عبداللہ بن خالد نے کہا کہ مریض جب ایچ پائلری کی مثبت رپورٹ لے کر آتا ہے تو بہت خوف کا شکار ہوتا ہے کہ شاید السر یا کینسر ہو گیا ہےحالانکہ ایسا نہیں ہوتا، علاج ضرور کرایا جائے لیکن خوف کا شکار نہ ہوں کیونکہ پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ یہاں ایچ پائلری سے کینسر کی شرح انتہائی کم ہے ۔اگر کسی کو پیٹ کا مرض نہیں لیکن اس کے باوجود ٹیسٹ کرایا جائے تو 30فیصد آبادی کا ٹیسٹ مثبت آئے گالیکن پاکستان میں یہ پریشانی کی بات نہیں البتہ اگر کسی کے خاندان میں یہ مرض موجود ہے یا وہ پہلے اس کا شکار ہو چکا ہے تو پھر علاج کرائے ۔ جاپان میں اس سے کینسر کی شرح بہت زیادہ ہے اس لئے وہاں فوراً تشخیص اور علاج کرایا جاتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سائنس کہتی ہےکہ اگر 100افرا کو پیٹ کے مسائل ہیں اور ان کا ایچ پائلری مثبت آئے تو دوا لینے کے بعد صرف 10سے 20فیصد کے پیٹ کے مسائل حل ہوں گے ۔اگر ایچ پائلری مثبت آجائے اور علاج نہ کیا جائے پھر ایسا سمجھا جائے کہ کینسر ہو جائے گا توآدھی دنیا کو کینسر ہوتا کیونکہ ہر کسی کو ایچ پائلری ہوتا ہے لیکن صرف چند کو کینسر ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو پہلی بار ایچ پائلری کا ٹیسٹ کرانا ہے تو وہ خون کا ٹیسٹ کرایا جائے لیکن اگر کوئی پہلے ٹیسٹ کراچکا ہے تو وہ یوریا بریتھ ٹیسٹ کرائے ۔انہوں نے مذید کہا کہ پاکستان میں اگر کسی کو مرض کی تشخیص ہو جائے تو 7 سے 10 دنوں کی اینٹی بائیوٹک کا کورس کرایا جاتا ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے لال گوشت کا استعمال ترک کریں اور سبزیاں اور پھل کھائیں ۔ کمرشل ڈائریکٹر ڈاؤ لیب سلیم احمد چوہان نے کہا کہ یوریا بریتھ ٹیسٹ پاکستان میں اوٹسوکا کمپنی نےمتعارف کرا دیا ہے جو ڈاؤ یونیورسٹی لیب کی 50 برانجوں میں سرانجام دیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے لئے عملے کو تربیت دے دی گئی ہے اور گھروں میں بھی جاکر نمونہ لیا جاسکے گا ۔ اس کی شیلف لائف بھی اچھی ہے جبکہ اس کا نمونہ تادیر محفوظ بھی رکھا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپنے مراکز پر نئی مصنوعات لائیں اور کم قیمت میں مریض کو فائدہ دیں ۔ یہ براہ راست مریض کو فروخت نہیں کی جاسکے گی ۔ اس کے ٹیسٹ کچی آبادیوں میں بھی کرائے جائیں گے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ایچ پائلری خاندان میں ایک کو لگ جائے تو دوسرے کو بھی منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔ اس لئے ڈاؤ یونیورسٹی اس کی قیادت اور مارکیٹنگ کرے گی تاکہ ایچ پائلری کی درست تشخیص ہو سکے ۔ سی ای او اوٹسو کاحنیف ستار کا کہنا تھا کہ اوٹسوکا کئی نئی چیزیں متعارف کراچکا ہے ۔ 1921سے 2021تک اوٹسوکا کے 100سال مکمل ہوگئے اور اس عرصہ کے دوران اس نے متعدد ایجادات کیں ۔ ہم مریضوں کی سیفٹی پر بہت توجہ دیتے ہیں اور مریضوں کی فلاح کے لئے کام کرتےہیں ۔ ہمارے لئے مریض کی صحت سب سے پہلے ہے اور ہم آگہی کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ چیئرمین میر خلیل الرحمان میموریل سوسائٹی واصف ناگی نے کہا کہ ایچ پائلری کی درست تشخیص کے بعد موزوں علاج ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کے بجائے عوام میڈیکل اسٹور والوں سے ادویات تجویز کرانے پر زور دے رہے ہیں ۔ ہر میڈیکل اسٹور والا خود کو ڈاکٹر سمجھتا ہے جس کے باعث علاج مکمل نہیں ہوپاتا نہ صحت یابی ہو پاتی ہے اور ایچ پائلری دوبارہ پازیٹیو آجاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خورا کے معیار کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوان جنک فوڈ کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس سے پیٹ کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ عوام کو اپنا مجموعی رویہ بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی 25سال سے صحت پر سیمینار ز کرارہی ہے جس کا مقصد عوام کو آگہی دینا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
اہم خبریں سے مزید