• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھوئی ہوئی میراث...چوراہا……حسن نثار

ٹیکنالوجی نے جیتنا اور انسان نے ہار جانا ہے اور اسی شکست میں انسان کی فتح ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہی کا ترجمہ تو علم و ہنر ہے جس کے حصول کی ہمیں بار بار تاکید کی گئی لیکن ہم نے حسب عادت اس پرتنازعہ کھڑا کرلیا حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی قسم کے فرامین، فرمودات اور فتوے سائنس اور ٹیکنالوجی کاراستہ نہیں روک سکتے کہ ان کی طاقت ہر قسم کی مزاحمت کو روند کے رکھ دیتی ہے۔
کیا یہ بہت ہی دلچسپ حقیقت نہیں کہ کل تک تصویر کو’’حرام‘‘ قرار دینے والی مائنڈ سیٹ کے لئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ’’حلال‘‘ ہے حالانکہ یہ تصویر کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ان کے بغیر آپ حج و عمرے کی سعادت حاصل نہیں کرسکتے اور نہ ہی زیارتوں کے لئے تشریف لے جاسکتے ہیں۔ کرنسی نوٹ کسے پسند نہیں؟ ہمارا یتیم سا روپیہ ہو تو اس پر بابائے قوم کی تصویر ہوتی ہے، ڈالر ہو تو اس پر امریکن رہنمائوں کی اور یہی حال باقی کرنسیوں کا ہے یعنی تصویریں ہی تصویریں ۔
آپ کو یہ سن کر شاید ہنسی آئے اور یقین نہ آئے کہ جب ٹریکٹر نیا نیا آیا تو زبان زدعام تھا کہ یہ گوروں کی سازش ہے اور اس کا ہل ہماری زمینیں جلادے گا۔ صرف چند عشرے قبل جب رائیونڈ میں بجلی پہنچانے کی کوشش کی گئی تو مقامی لوگوں نے خنجر، نیزے اور لاٹھیاں نکال لیں کہ ہم حکومت کو اپنے بچے مارنے کی ا جازت نہیں دیں گے۔ جب انگریز برصغیر میں ریلوے کی پٹڑی بچھارہا تھا تو عوام میں زبان زد عام تھا کہ انگریز ہمارے ملک میں ’’لوہے کے پٹے‘‘ اس لئے بچھا رہا ہے تاکہ کل کلاں ضرورت محسوس ہو توہندوستان کو گھسیٹ کر انگلستان لے جاسکے۔ انتہا یہ کہ جب ریلوے کا باقاعدہ آغاز ہوا تو یہ ’’کہانی‘‘ بہت مقبول تھی کہ صاحب لوگوں نے لوہے کے ڈبے میں جن قید کررکھے ہیں جو ابلتا ہوا پانی پیتے اور دہکتے ہوئے کوئلے کھاتے ہیں۔ جب قید سے رہائی کے لئے زور لگاتے ہیں تو ریل چلنے لگتی ہے۔ یہ تھا بھاپ کے انجن کا فہم۔ غالب جیسا جینئس ’’ماچس‘‘ دیکھ کر عش عش کر اٹھا تھا کہ واہ کیا قوم ہے جو آگ کو جیب میں ڈالے پھرتی ہے۔ پہلی بار نلکا یعنی ہینڈ پمپ دیکھا تو کنوئوں کےعادی ہوش کھو بیٹھے تھے اور اسے’’بمبا‘‘ کہتے تھے۔
اہل مغرب بھی جب تک ذہنی طور پر پسماندہ اور مسخ شدہ تھے تو علم و ہنر کے لئے ایسی ہی مزاحمت کے عادی تھے۔ یہاں تک کہ جب چھری کانٹے کا استعمال شروع ہوا تو پادریوں نے’’فتوئوں‘‘ کے ڈھیر لگادئیے۔ جس نے متحرک تصویر متعارف کراکے سینما کی بنیاد رکھی اسے پولیس اٹھا کر لے گئی تھی۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جتنی جہالت ہوگی سائنس اور ٹیکنالوجی کی اتنی ہی مخالفت و مزاحمت ہوگی۔ جیسے جیسے دماغ روشن ہوتا جائے گا، ویسے ویسے رویے تبدیل ہوتے جائیں گے اور جہاں تک تعلق ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ’’نقصانات‘‘ کا تو ایسی سوچ ہی احمقانہ ہے کیونکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی معصوم ، بے ضرر اور سو فیصد بے قصور ہے۔ مجرم، ضرررساں اور قصوروار صرف وہ ہیں جو ان کا غلط استعمال کرتے ہیں مثلاً اگر آپ ہیروشیما، ناگاساکی پر ایٹم بم گراتے ہیں تو اس میں بیچاری ایٹمی توانائی کا بھلا کیا قصور؟ اگر کوئی لحیم شحیم صحتمند آدمی اپنی جسمانی طاقت کو غنڈہ گردی کے لئے استعمال کرے تو وہ شخص قابل مذمت ہے نہ کہ جسمانی طاقت۔اسی طرح ہیلن آف ٹرائے کا حسن و جمال تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے تو کیا حسین عورتوں کو پیدا ہوتے ہی ماردیا جائے؟جشم بددور پاکستانی فحش سائٹس دیکھنے میں نمبرون ہیں تو اس میں ٹیکنالوجی کا کیا دوش؟ وہی ٹی وی جس پر ہم غامدی صاحب، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم یا ڈاکٹر ذاکر نائیک کی خوبصورت باتیں سنتے ہیں، اسی پر سٹیج ڈراموں کے عریاں رقص اور فحش جگتیں بھی موجود ہیں سو سائنس ٹیکنالوجی کو نفع نقصان کے پلڑوں میں رکھنا پرلے درجہ کی حماقت ہے۔
انسان کی اوریجنل فطری رفتار گھوڑے ،چیتے ہرن سے کہیں کم تھی۔ اس نے اس میں ہزاروں لاکھوں گنا اضافہ کرلیا۔ انسان کی آواز چند ایکڑ سے آگے نہ جاسکتی تھی لیکن اب؟ابھی کل تک کی بات ہے،بڑے بڑے’’عالم پناہ‘‘ اور’’ظل سبحانی‘‘ اسہال کے ہاتھوں انتقال فرما جاتے تھے، آج دل کا آپریشن مائینر سرجری اور لیور ٹرانسپلانٹ عام سی بات ہے اور یہ کس نے بتایا کہ زندہ رہنے کے لئے ایک ہی کڈنی کافی ہے............ دوسرا کڈنی اضافی ہے تو عزیز از جان طلبا و طالبات! ............اپنے اللہ اور آقا کی ہدایات و تعلیمات پر عمل کرو کہ علم تمہاری کھوئی ہوئی میراث ہے اور علم کیا ہے؟
’’سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘
تمہیں کائنات بارے تفکر و تدبر کا حکم ہے، تحصیل کائنات و تسخیر کائنات عبادات سے کم نہیں۔ خدا تمہارے دماغوں کو روشن اور دلوں کو منور کرے۔آمین)
پرائیویٹ تعلیمی ادارہ میں طلبہ سے خطاب
تازہ ترین