• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر مملکت نے سیاسی طور پر دانشمندی کا ثبوت دیا، وزیر دفاع

کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے سیاسی طور پر دانشمندی کا ثبوت دیا، پاکستانیوں کی 98فیصد ہیجانی کیفیت ختم ہوگئی ہوگی اور وہ ہماری حکومت سے توقع کرینگے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صدر مملکت کو اس طرح سے لاہور میں فائل بغل میں لے کر نہیں جانا چاہئے تھا۔ پروگرام کی تفصیل یوں ہے۔ حامد میر: آپ بہت پر امید تھے کہ آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفکیشن چھبیس سے پہلے ہوجائے گا اور وہ ہوگیا، آپ بتائیں گے صدر اور وزیراعظم میں اتفاق کیسے ہوا؟ خواجہ آصف : اندازے اور قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کرنا چاہئے، یہ تاریخیں کہ ہمیں کس دن لیٹر بھیجنا ہے اور کس دن آنا ہے یہ سارا شیڈول پہلے ہی طے ہوگیا تھا،صدر مملکت نے آج جو کچھ کیا سیاسی طور پر دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ صدر عارف علوی نے اپنے عہدے کا تقاضا پورا کیا ہے۔ حامد میر: اب آپ کی صدر سے ناراضی ختم؟ خواجہ آصف: حالات اس قسم کے ہونے چاہئیں کہ باقی نو دس مہینے ہم معاشی ریکوری کی طرف جائیں۔حامد میر: آپ بہت اچھی خبر دے رہے ہیں کہ وزیردفاع جنہوں نے ہمارے پروگرام میں بیٹھ کر کہا تھا کہ میں اسے صدر نہیں مانتا؟ خواجہ آصف: جب وہ پی ٹی آئی کے ورکر کی حیثیت سے کام کریں گے تو پھر میرا ایسا کہنا بنتا ہے، جس دن وہ صدر مملکت یا سپریم کمانڈر کی حیثیت سے کام کریں گے تو میرا انہیں سراہنا بھی بنتا ہے۔ حامد میر: صدر صاحب آج جس جہاز پر لاہور گئے وہ آپ کو پتا ہے کون سا جہاز تھا؟ خواجہ آصف: میرا خیال وہ وزیراعظم کا جہاز استعمال کرتے ہیں۔ حامد میر: کتنی اچھی بات ہے کہ ہمارے صدر پاکستان آج وزیراعظم شہباز شریف کے جہاز پر بیٹھ کر عمران خان کو ملنے لاہور گئے، پھر واپس آکر سمری پر دستخط کردیئے، میں تو اس پر تالی بجاتا ہوں،یہ قوم کو کتنی اچھی خبر ملی ہے؟ خواجہ آصف: یہ خوش آئند بات ہے، میں بھی تالی بجاتا ہوں، پاکستانی قوم کو بہت دیر سے اچھی خبریں نہیں مل رہی تھیں، ہولناک قسم کی ہیجان خیز خبریں تھیں، عام پاکستانی بازار میں کاروبار کرنے والا بندہ سکون میں نہیں تھا، میرا خیال ہے آج پاکستانیوں کی 98فیصد ہیجانی کیفیت ختم ہوگئی ہوگی اور وہ ہماری حکومت سے توقع کریں گے۔ حامد میر: صدر صاحب کی آج جو لاہور آنی جانی تھی وہ صرف یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ ہم اور عمران خان بھی relevant ہیں؟ خواجہ آصف: سیاسی دانشمندی compell کرتی ہے کہ relevant رہنے کیلئے بجائے اس کے کہ وہ ضد کرتے کہ میں نہیں سائن کرتا یا ان کے لیڈر انہیں کہتے کہ تم سائن نہ کروں، کل بھی انہوں نے کہا تھا کہ ہم آئین کے اندر کھیلیں گے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے ایک پولیٹیکل اسٹروک اچھا کھیلا ہے، اس سے پہلے جب سے وہ حکومت سے دور ہوئے ہیں انہوں نے جو بھی اپنی طرف سے دانشمندی کی، امریکا پر الزام، اسٹیبلشمنٹ پر الزام، سارے الزام بالآخر انہیں واپس لینا پڑے۔ حامد میر: آپ عاصم منیر صاحب کو retain کررہے ہیں یہ آپ نے کس قانون کے تحت کیا ہے، آرمی ایکٹ کے تحت کیا ہے؟ خواجہ آصف: یہ اس میں درج ہے آرمی ایکٹ میں۔ جب کوئی میجر سے اوپر فوجی افسر ریٹائر ہوتا ہے تو اس کی پرمیشن منسٹری دیتی ہے، اس کے بغیر وہ ریٹائر نہیں ہوسکتا، چاہے due date پر اس کی فائل آجاتی ہے کہ اس نے ریٹائر ہونا ہے، جب تک منسٹری اس کو سائن آف نہیں کرتی تب تک وہ اسٹرینتھ پر رہتا ہے، اس کے ساتھ ہی retention کا آپشن بھی موجود ہے اس کو ایک سال کی retention دی جاسکتی ہے اس کے بعد renew کرنا پڑے گی نئی کرنا پڑے گی، لیکن ایک سال کیلئے جنرلز کی سروسزretain کی جاسکتی ہیں، اس میں ہم نے کوئی جمع تفریق نہیں کی۔ حامد میر: عمران خان نے پچھلے دنوں پہلے امریکی سازش کا اپنا بیانیہ neget کیا انہوں نے کہا کہ میں اب امریکا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں؟ خواجہ آصف: میں آپ کو بتاؤں ابھی 26سے پہلے ہوگیا ناں، اس کی کیا کہتے ہیں جو ابھی آپ نے سوال پوچھا تھا، اس کی اس طرح relevance نہیں رہی۔ حامد میر: عمران خان نے پہلے امریکا کے ساتھ اپنی لڑائی بند کی ہے، آج کے بعد یہ بھی تاثر پیدا ہوگا کہ اب وہ فوج کے ساتھ بھی لڑائی نہیں کرنا چاہتے اور نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے ہیں، اب ان کا فوکس وفاقی حکومت کے ساتھ لڑائی پر ہوگا؟ خواجہ آصف: سیاستدانوں کی سیاستدانوں کے ساتھ لڑائی ہوتی ہے۔ حامد میر: آپ کے خیال میں عمران خان نے امریکا اور فوج کے ساتھ لڑائی بند کردی ہے اور پھڈا صرف آپ کے ساتھ کرنا ہے کہ مجھے نئے الیکشن کی تاریخ دو تو اس میں آپ کو کوئی پرابلم نہیں ہے؟ خواجہ آصف: نہیں، ہمیں کوئی پرابلم نہیں ہے، سیاستدانوں کی سیاستدانوں کے ساتھ لڑائی ہوتی ہے، اپوزیشن ہوتی ہے، یہ ساری چیزیں سیاست کا حصہ ہے، اگر آئین و قانون کی حدود میں رہ کر ساری چیزیں کی جائیں تو حکومت کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ حامد میر: بہت شکریہ۔ ارشد شریف کے معاملہ پر سلمان اقبال صاحب اگر اپنا موقف دینا چاہیں تو ہمارا پلیٹ فارم ان کیلئے حاضر ہے۔
اہم خبریں سے مزید