• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: جنازہ گاہ یا کسی دوسری جگہ وقت کی نماز جماعت سے ادا ہورہی تھی، باہر سے آنے والے شخص نے اسے جنازہ سمجھ کر جنازہ کی نیت کر لی، لیکن یہ جنازہ نہیں تھا ، ایسی صورت میں کیاکیاجائے ؟

جواب: آپ نے سوال میں جو صورت بیان کی ،ایسا بالعموم نہیں ہوتا، نماز جنازہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے وقتی نماز سے جدا ہوتی ہے ، رکوع ، سجود اور قعدہ نہیں ہوتا، جنازہ گاہ میں عام طور پر وقتی نمازیں (مثلاً ظہر ،عصر یا عشاء) ادا نہیں کی جاتیں۔ جنازہ گاہ میں سامنے میت رکھی ہوتی ہے اور بالعموم جنازہ کھلی جگہ پر ہوتا ہے، تاہم اگر کوئی لاعلمی میں اُس نماز میں شریک ہوا تو معلوم ہونے پر نیت توڑ دے اور نمازِ جنازہ کی نیت کرکے اس میں شامل ہوجائے اور بعد میں اپنی فرض نماز پڑھ لے ،لیکن اگر وہ آخر وقت تک شامل رہا تو نہ فرض نماز ادا ہوئی اور نہ جنازہ ،کیونکہ نیت کے بغیر عبادت ادا نہیں ہوتی، نیت زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں، دل کا ارادہ کافی ہے۔

تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : ترجمہ:’’ اگر دو فرضوں کی نیت کی جیسے فرض نماز اور نمازِ جنازہ ،تو نیت فرض نماز کی ہوگی اور اگر دو فرضوں کی نیت کی تو نیت وقتی نماز کی ہوگی اور اگر دو قضا نمازوں کی نیت کی تو اگر وہ صاحبِ ترتیب ہے، توپہلی نماز کے لیے نیت ہوگی ورنہ نیت لغو ہوگی ،پس اسے یاد رکھنا چاہیے، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار، جلد1،ص:439)‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ یعنی فرض نماز کی قوت کی وجہ سے نیت اس فرض نماز کے لیے ہوگی ،کیونکہ اس کی فرضیت عین ہے اور یہ حقیقۃً نماز ہے اور جنازہ فرض کفایہ ہے اور وہ مطلق نماز نہیں ہے، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد1،ص:439)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید