آپ کے مسئال اور ان کا حل
سوال: میرے والد جن کی عمر تقریباً 80 سال ہے، اپنی نماز کے حوالے سے بہت پریشان ہیں، انہیں بھول بہت ہوتی ہے، اٹکتے بھی بہت ہیں اور صرف چار رکعت پڑھنے میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، اس حوالے سے بہت پریشان ہیں اور ان کا دل ایک گھنٹہ پڑھنے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتا کہ انہوں نے صحیح نماز پڑھی ہے یا نہیں برائے مہربانی اس بارے میں راہ نمائی فرما دیں کہ ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے والد اپنی غالب رائے پر عمل کرکے نماز پڑھ لیں تو نماز ہوجائے گی، اس کے اعادہ کی ضروت نہیں ہوگی، اس لیے اپنی استطاعت کے بقدر کوشش کرکے جو نماز پڑھ لیں، اس پر اطمینان رکھیں، کسی قسم کا شک وشبہ نہ رکھیں، اگر اکیلے نماز پڑھنا ان کے لیے دشوار ہوجائے اور یہ مسئلہ زیادہ ہونے لگے تو کوئی شخص ان کے قریب کھڑے ہوکر نماز کا اشارہ کر کے ان کے ساتھ ارکان ادا کرتا رہے، یا انہیں اشارے وغیرہ سے بتاتا رہے، جس سے وہ اپنی نماز پوری کرلیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، ان کی نماز ادا ہوجائے گی۔
ارشادِ ربّانی ہے : ’’اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مکلّف نہیں بناتا مگر اسی کا جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو۔‘‘ (از بیان القرآن: سورۃالبقرہ:286 -ج:1: ص:209، ط: مکتبہ رحمانیہ - رد ّالمحتار 2/ 100 - نفع المفتیٰ والسائل، کتاب الصلوۃ، باب مايتعلق بالأعذار المسقطۃ لأرکان الصلوات، ص:374، ط: دارالفاروق)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk