• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بوسیدہ ہوجانے والی قبر میں نئی میّت کی تدفین

تفہیم المسائل

سوال: کیا عورت کی قبر میں اس کے شوہر اور غیر محرم مرد کو اور مرد کی قبر میں اس کی بیوہ اور غیر محرم عورت کو دفن کرنا جائز ہے؟ ( محمد قاسم ، لاہور)

جواب: آپ کے سوال کا براہِ راست جواب یہ ہے کہ شدید ضرورت کی صورت میں کسی بوسیدہ قبر میں دوبارہ تدفین کی جانی مقصود ہو تو میّت کے فنا ہوچکنے کے بعد اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عورت کی قبر میں اس کے شوہر یا کسی غیر محرم مرد کو اورمرد کی قبرمیں اس کی بیوہ یا کسی غیر محرم عورت کو دفن کیا جارہا ہے اور اس پر جواز یا عدمِ جواز کا کوئی حکم شرعی مرتب نہیں ہوتا۔

شریعت کا اصول تو یہ ہے کہ مطلقاً قبر کھود کر دوسری میّت کو اس میں دفنانا، ناجائز و گناہ ہے، قبر چاہے بچے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی۔ کسی بھی قبر کو کھول کر دوسرا مُردہ اس میں دفن کرناجائز نہیں ہے، علّامہ علاء الدین کاسانی حنفی لکھتے ہیں: قبر کھودنا اللہ پاک کے حق کی وجہ سے حرام ہے،(بدائع الصنائع،جلد2،صفحہ55)‘‘۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: ترجمہ:جب میّت قبر میں مٹی ہو جائے، تب بھی کسی دوسرے کو اس قبر میں دفن کرنا، مکروہ ہے، کیونکہ میّت کی عزت و تکریم اب بھی باقی ہے‘‘۔(فتاویٰ تاتارخانیہ، جلد3،صفحہ75)

دُرَرُ الحکام میں ہے: ترجمہ:’’میّت کو قبر سے نہیں نکالا جائے گا‘‘۔ حاشیہ شرنبلالیہ میں ہے: ترجمہ: یعنی قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد میّت کو قبر سے نکالنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ قبر کو کھودنے کی ممانعت ہے، جیسا کہ’’ تبیین ‘‘میں ہے اور ’’بحر الرائق ‘‘میں فرمایا: ایسا کرنا حرام ہے،(حاشیہ شرنبلالی مع درر الحکام،جلد1، صفحہ167)‘‘۔

امام اہلسنت امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:’’میّت اگرچہ خاک ہوگیا ہو، بلا ضرورتِ شدیدہ اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا، جائز نہیں،(فتاویٰ رضویہ، جلد9،صفحہ390)‘‘۔

البتہ اگر قبرستان میں جگہ نہ ہو، نئے قبرستان بھی الاٹ نہ کیے جارہے ہوں تو شدید ضرورت کی صورت میں اتنی پرانی قبریں جن کے آثار مٹ چکے ہوں اور میّت کا جسم تحلیل ہوکر مٹی میں مل جانے کا غالب یقین ہو، تو قبر صاف کر کے اس میں دوسری میّت دفن کرنا جائز ہے، اگر قبر کھولنے پر پہلی میّت کی ہڈیاں یا دیگر کوئی باقیات ملیں تو احترام کے ساتھ یکجا کرکے قبر کی ایک طرف دفن کر دی جائیں گی اور نئی میّت اور ان ہڈیوں کے درمیان مٹی کی آڑ بنا دی جائے گی۔

علامہ کما ل الدین المعروف ابن ہمام پرانی قبر میں دوبارہ میّت دفن کرنے کے حوالے سے لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور دوسری دفعہ دفن کرنے کے لیے قبر کو نہ کھودا جائے، سوائے اس صورت کے جب پہلی میّت بوسیدہ ہو جائے اور اس کی ہڈیاں باقی نہ رہی ہوں۔

اگر تدفین کے لیے کوئی جگہ نہ ملے تو پہلے کی ہڈیاں بھی اسی قبر میں ساتھ ملا دی جائیں گی اور درمیان میں مٹی کی آڑ بنا دی جائے گی،( فتح القدیر، جلد2، ص:141، بیروت)‘‘۔علامہ ابن عابدین شامی ؒ نے بھی اپنے حاشیہ ردالمحتار( جلد2، ص: 233، بیروت)میں یہی لکھا ہے۔

فقہاء نے پرانی اور بوسیدہ قبر کو کھولنے اور اس میں دوسری میّت کی تدفین کرنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ اگر کسی قبر میں دفن میّت کا جسم گل جانے اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی ہونے کا یقین ہو تو اس قبر میں بوقت ضرورت دوسری میّت کو دفنانا جائز ہے اور اگر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی قبر کھولنے پر پہلی میّت کا جسم مکمل اور تازہ رہے تو فوراً قبر بند کردی جائے اور اس میں تدفین نہ کی جائے۔

گورکن کا ازخود بوسیدہ یا پرانی قبروں کو کھول کر اس میں دوسری میّت دفن کرنا جاہلانہ عمل ہے ، شریعتِ مُطہرہ اس کی اجازت نہیں دیتی، علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ: اور جن قبروں میں میّت فنا نہیں ہوئیں، اُنہیں کھودنا جاہل گورکنوں کا کام ہے اور ان قبروں میں دوسری میتیں دفن کرنا کھلی معصیت ہے۔

یہ کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے جو اس امر کو مباح کردے کہ دویا زائد میتوں کو ابتداء ً ایک قبر میں جمع کردیا جائے۔ مقصود یہ ہوکہ آدمی کو اس کے قریبی رشتے دار کے ساتھ دفن کیاجائے یا اس مقبرہ میں جگہ کی تنگی ہے جبکہ دوسرے قبرستان میں جگہ موجود ہے اگرچہ وہ قبرستان ایسا ہو کہ وہاں دفن کرنے سے برکت حاصل کی جاتی ہو ،چہ جائیکہ کہ یہ اور اس جیسے امور قبر اکھیڑنے اور ایک میّت کو دوسری میّت پر داخل کرنے کو مباح قرار دے دے، جبکہ پہلی میّت بوسیدہ نہ ہوئی ہو، ساتھ ہی ساتھ اس میں پہلی میّت کی حُرمت کی پامالی اور اجزا کو الگ الگ کرنا لازم آتا ہو ، پس اس عمل سے بچو ،(ردّالمحتار مع الدرالمختار ، جلد2، ص:233)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید