• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: ایک سال قبل شوہر نے بیوی کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا، سال بعد پنچایت میں شوہر بیوی کے درمیان فیصلہ کیا گیا کہ لڑکی کا سارا جہیز کا سامان، زیور لڑکے کو دیا جائے اور لڑکا طلاق دے دے، اس فیصلے کے بعد وہاں موجود تمام لوگوں کے سامنے لڑکا تین کنکر پھینک کر چلاگیا اور منہ سے کچھ نہیں بولا یعنی طلاق کے الفاظ نہیں کہے، اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ (محمد سلمان)

جواب: طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق دینے والا طلاق کے صریح الفاظ استعمال کرے یاا لفاظِ کنایہ طلاق کی نیت سے کہے ہوں یا مذاکرۂ طلاق کے دوران ایسا لفظ استعمال کرے جو معنیٰ کے لحاظ سے طلاق پر دلالت کرتا ہو، علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’لفظ مخصوص سے مراد ایسا لفظ جو طلاق کے معنیٰ پر دلالت کرتا ہو، لفظ صریح ہویا کنایہ‘‘ ۔

مزید لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس شخص کا اپنی بیوی سے کوئی جھگڑا ہو اور شوہر نے طلاق کی نیت سے اُسے تین کنکریاں دیں، اس نے صراحتاً یا کنایۃً (طلاق کے) الفاظ ذکر نہیں کیے، تو طلاق واقع نہیں ہوگی، جیسا کہ خیر رملی اور دیگر نے فتویٰ دیا ہے، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد 3، ص:230)‘‘۔

اگر طلاق دینے والے نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں، جن میں نہ صراحتاً طلاق کا معنی پایا جاتا ہو اور نہ وہ الفاظ معنیٰ کے لحاظ سے طلاق پر دلالت کرتے ہوں، تو اُس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ شوہر بیوی کی طرف طلاق دینے کی نیت سے تین پتھریا کنکر پھینکے اور اس کے ساتھ طلاق کے صریح یا کنایہ الفاظ استعمال نہ کرے تو ایسی صورت میں صرف تین پتھر یا کنکر پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، صورت مسئولہ میں شوہر کے تین کنکر/پتھر پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، پتھر پھینکنا نہ تو صراحتًا لفظ طلاق پر دلالت کرتا ہے اور نہ اس میں طلاق کا معنیٰ پایا جاتا ہے، اس لیے شوہر کے پتھر پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

علامہ ابن عابدین شامی ’’مَالَمْ یُسْتَعْمل‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں: ترجمہ:’’پس عورت کی طرف تین پتھر پھینکنے اور عورت کے بال مونڈنے کا حکم دینے سے طلاق واقع نہ ہوگی، اگرچہ وہ پتھر پھینکنے اور بال مونڈنے سے طلاق کا اعتقاد رکھتا ہو، جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کیونکہ طلاق کا رکن لفظ ہے یاجو اس لفظ کے قائم مقام ہے، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد 3، ص:247) ‘‘ ۔

پس یہ طلاق نہیں ہے اور دونوں کے درمیان رشتۂ ازدواج بدستور قائم ہے۔ لڑکی کے والدین کی طرف سے ملنے والا جہیز کا تمام سامان اور زیور لڑکی کی ملکیت ہے، خدانخواستہ طلاق کی صورت میں لڑکی کو واپس ملے گا، شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے جو زیور لڑکی کو ہبہ کیا گیا، وہ بھی لڑکی کی ملکیت ہے، پنچایت کا تمام سامان اور زیور لڑکے کو دینے کا فیصلہ غلط اور خلافِ شرع ہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید