آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: دیکھا گیا ہے کہ کچھ افراد خطّاطی کر کے سال کی محنت کے بعد بہت بڑا قرآن مجید بناتے ہیں اور اسے ایک ریکارڈ کے طور پر تصور کرتے ہیں، کوئی خاتون کپڑے پر سلائی کر کے کئی سال محنت کر کے قرآنِ مجید بناتی ہیں، کیا اللہ یا اس کے رسول ﷺ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے؟ کیا قرآن میں اس کے بارے میں کچھ فرمایا گیا ہے؟ قرآن کے مطابق تو الله نے قرآن مجید کو انسانوں کے لیے ہدایت کے طور پر نازل کیا ہے، شریعت کے مطابق اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب: قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جو انسانوں کی ہدایت اور راہ نمائی کے لیے اتاری گئی ہے، قرآنِ کریم کا اصل مقصد ہدایت، تدبر اور عمل ہے، لیکن چوں کہ قرآنِ مجید کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف ہے، اس لیے اس سے متعلق ہر چیز کا ادب و احترام واجب اور اس کی تعظیم اہلِ ایمان کا شعار ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص قرآنِ مجید کی تعظیم، محبت اور خدمت کے جذبے سے اپنی فنی مہارت (مثلاً خطاطی یا سلائی وغیرہ) کو استعمال کرتے ہوئے قرآنِ مجید لکھتا ہے تو یہ جائز ہے، بلکہ اچھی نیت کے اعتبار سے اجروثواب کا باعث بھی ہوگا، اس میں قرآنِ مجید سے محبت کے ساتھ اس کی عظمت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، تاریخ میں خوبصورت خطاطی کا فن رائج رہا ہے اور اس سے قرآن کی طباعت و کتابت کی خدمت بھی ہوتی رہی ہے، خوبصورت، صاف اور واضح خط میں دیدہ زیب طباعت ہو تو عام آدمی کے لیے بھی مصحف میں تلاوت سہل ہوتی ہے۔
خوبصورت خطاطی کے ساتھ قرآنِ مجید لکھنے سے اس کے کتابِ ہدایت ہونے میں فرق نہیں آتا، خطاطی کر کے بھی اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے، اور جو ہدایت حاصل کرنے سے محروم رہے وہ ایسے بھی محروم رہ سکتا ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص محض شہرت، ریاکاری، مقابلہ بازی کے جذبے سے ایسا کرے یا اس مخصوص طریقے پر لکھنے کو سنت یا ضروری سمجھے تو یہ درست نہیں ہوگا۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk