• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسئال اور ان کا حل

سوال: ہم سب اکٹھے رہتے ہیں، میری بیوی کے پاس ساڑھے چار تولہ سونا ہے، اسی طرح بڑے بھائی کی بیوی کے پاس پانچ تولہ سونا ہے، امی کے پاس چار تولہ سونا ہے۔ کیا ہم یہ سب اکٹھا کرکے زکوٰۃ ادا کریں گے یا اپنا اپنا کرکے؟ باقی کھانا پینا اکٹھا ہے۔ میں الگ ملازمت کرتا ہوں اور بھائی علیحدہ ملازمت کرتے ہیں، لیکن ہم سب بھائیوں کی رقم ابو کے پاس جاتی ہے۔

جواب: زکوٰۃ کے واجب ہونے یا نہ ہونے میں ہر شخص کی ذاتی ملکیت کا اعتبار ہوتا ہے، اکٹھا رہنے سے گھر کے تمام افراد کی زکوٰۃ کا حساب اکٹھا کرنا درست نہیں، آپ کی والدہ اپنے چار تولہ سونے کی، بیوی ساڑھے چار تولہ سونے کی اور بھابھی اپنے پانچ تولہ سونے کی مالکہ ہیں۔

اگر ان کے پاس مذکورہ سونے کے علاوہ بنیادی ضرورت سے زائد نقدی، چاندی یا مالِ تجارت نہیں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر ان میں سے کچھ بھی موجود ہے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اگر زکوٰۃ واجب ہو تو وہ ان خواتین پر ہوگی، لیکن اگر ان سے اجازت لینے کے بعد گھر کا سربراہ یا کوئی ان کی طرف سے ادا کردے تو یہ بھی درست ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید