مولانا محمد راشد شفیع
’’حج’’ امّتِ مسلمہ کی وحدت، اخوت اور اجتماعیت کا عظیم ترین مظہر ہے۔ جہاں رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ مقدس اجتماع ہے جس میں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے مسلمان ایک ہی لباس، ایک ہی نعرہ اور ایک ہی مرکز کے گرد جمع ہوکر اپنی بندگی کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ’’حج ‘‘دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جن کا رب ایک، دین ایک اور قبلہ ایک ہے۔
اس موقع پر انسان اپنی انفرادی حیثیت کو بھلا کر ملّت کے وسیع تر مفاد کا شعور حاصل کرتا ہے۔ ’’حج‘‘ انسان کو عاجزی، انکساری اور صبر و تحمل کا درس دیتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں مضمر ہے۔ یہ روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے اور امّت کے اجتماعی مسائل پر غور و فکر اور ان کے حل کی طرف متوجہ ہونے کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
حج کی ادائیگی انسان کے دل میں تقویٰ، اخلاص اور للہیت کی شمع روشن کرتی اور اسے گناہوں سے توبہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہاں ہر فرد اپنے رب کے حضور جواب دہی کا احساس لے کر کھڑا ہوتا اور اپنی زندگی کو سنوارنے کا عہد کرتا ہے۔ ’’حج ‘‘امّت کے درمیان محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کو فروغ دیتا اور دلوں کو قریب لاتا ہے۔ یہ وہ عظیم عبادت ہے جو انسان کو دنیاوی تفاخر سے نکال کر سادگی اور مساوات کا عملی نمونہ بناتی ہے۔
حج کے موقع پر ادا کیے جانے والے مناسک دراصل اطاعت و تسلیم اور قربانی کے اسباق سکھاتے ہیں جو پوری زندگی کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں۔ یہ اجتماع مسلمانوں کو ان کی اصل پہچان اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کے علمبردار ہیں۔
حج کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگیوں میں اتحاد، نظم اور اخلاص کو اپنائیں اور امّت کی بھلائی کے لیے متحد ہو جائیں۔ یہ عبادت انسان کو ایک نئی روحانی زندگی عطا کرتی اور اسے اپنے رب کے قریب کر دیتی ہے۔ یہ درحقیقت ایک ایسا جامع نظامِ تربیت ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے"اورلوگوں میں جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج فرض ہے اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہاں کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے"(سورۂ آل عمران،97)اس سے پتا چلتاہے کہ حج اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہوتا ہے جس کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات کے اخراجات، نیز اہل وعیال کے واجبی خرچے پورے کرنے کے بعد اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کےضروری اخراجات (آمد و رفت اور وہاں کے قیام وطعام وغیرہ) پورے ہوسکتے ہوں۔(ہدایہ،کتاب الحج)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد تمام لوگوں کو حج بیت اللہ کی دعوت دی۔چناں چہ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں، تو ان کے لیے بستیاں بلند کر دی گئیں اور پہاڑ پست کر دیئے گئے، تو انہوں نے فرمایا: لوگو! اپنے رب کی دعوت کو قبول کرو، تو انہوں نے اسے قبول کیا(مسند اسحاق بن راھويہ/کتاب المناسک/حدیث: 388)
احادیثِ مبارکہ میں بھی نبی اکرمﷺ نے حج کی اہمیت اور فضیلت کو بیان فرمایا ہے،چنانچہ سیّدنا ابن عباس ؓسے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔“(مسند احمد/حدیث: 1834)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا، پھر عرض کیا گیا، اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، پھر آپ ﷺ سے عرض کیا گیا، اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’حج مقبول‘‘۔(صحیح مسلم،کتاب الایمان) ایک اور روایت میں نبی اکرم ﷺ نے مقبول حج کوجنّت کا بدلہ قرار دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک عمرہ سے دوسرا عمرہ درمیان کے گناہوں کا کفّارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنّت کے سوا اور کچھ نہیں۔ (صحیح بخاری،کتاب الحج) اسی طرح امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم آپﷺ کے ساتھ جہاد اور غزوے میں شریک نہ ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لیکن سب سے بہتر اور اچھا جہاد حج مبرور ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ،جب سے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے تو اس کے بعد سے میں حج نہیں چھوڑتی ہوں۔(صحیح بخاری،کتاب الحج،باب حج النساء)
اسی طرح حج و عمرہ کرنے کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں اور فقر کو بھی ختم فرماتا ہے۔ جیسا کہ ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حج اور عمرہ پے در پے (ایک کے بعد دوسرا) کرو، کیونکہ وہ فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل دور کر دیتی ہے اور حج مقبول کی جزا صرف جنّت ہی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابيح/کتاب المناسک)
اسی طرح دیگر روایات میں بھی حج جیسے مبارک عمل کی فضیلت کو نبی اکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے، جیسا کہ حضرت ابو اُمامہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں کوئی ظاہری ضرورت یا کوئی ظالم بادشاہ یا روکنے والی بیماری (یعنی سخت مرض) نہ روکے اور وہ پھر (بھی) حج نہ کرے اور (فریضہ حج کی ادائیگی کے بغیر ہی) مر جائے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر (اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے)۔"(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الحج، الفصل الثالث ، رقم الحدیث:2535،)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے جس میں نہ کوئی بیہودہ بات ہو اور نہ کسی گناہ کا ارتکاب ہو تو وہ ایسے لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے ابھی جنا ہو۔"(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الحج، الفصل الاول،رقم الحدیث:2507،)
’’ حج‘‘ اتنا مبارک عمل ہے کہ ارکان حج میں سے ہر ہر رکن پر بھی اللہ تعالیٰ اجر و ثواب عطا فرماتا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں منیٰ کی مسجد میں حاضر تھا کہ دو شخص ایک انصاری اور ایک ثقفی حاضر خدمت ہوئے اور سلام کے بعد عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ ! ہم کچھ دریافت کرنے آئے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا دل چاہے تو تم دریافت کر لو اور تم کہو تو میں بتاؤں کہ تم کیا دریافت کرنا چاہتے ہو؟
انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺہی ارشاد فرما دیں، ثقفی شخص نے انصاری کو کہا تم پوچھو، اس نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ ! ارشاد فرمائیے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم حج کے متعلق دریافت کرنے آئے ہو کہ حج کے ارادے سے گھر سے نکلنے کا کیا ثواب ہے؟ طواف کے بعد دو رکعت پڑھنے کا کیا فائدہ ہے ؟ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کا کیا ثواب ہے؟ عرفات پر ٹھہرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے کا، قربانی کرنے کا اور طواف زیارت کرنے کا کیا کیا ثواب ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ اس پاک ذات کی قسم، جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، یہی سوالات ہمارے ذہن میں تھے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:حج کا ارادہ کر کے گھر سے نکلنے کے بعد تمہاری (سواری) اونٹنی جو ایک قدم رکھتی ہے یا اٹھاتی ہے وہ تمہارے اعمال میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے، ایک گناہ معاف ہوتا ہے، طواف کے بعد دو رکعتوں کا ثواب ایسا ہے، جیسا ایک عربی غلام کو آزاد کیا ہو، صفا و مروہ کے درمیان سعی کا ثواب ستّر غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہے، عرفات کے میدان میں وقوف کا ( ثواب یہ ہے کہ ) حق تعالیٰ شانہ دنیا کے آسمان پر اتر کر فرشتوں سے فخر کے طور پر فرماتا ہے کہ میرے بندے دور دور سے پراگندہ بال آئے ہوئے ہیں، میری رحمت کے امید وار ہیں، اگر تم لوگوں کے گناہ ریت کے ذرّوں کے برابر ہوں یا بارش کے قطروں کے برابر ہوں یا سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں، تب بھی میں نے معاف کر دیا، میرے بندو! جاؤ بخشے بخشائے چلے جاؤ، تمہارے بھی گناہ معاف ہیں اور جن کی تم سفارش کروان کے بھی گناہ معاف ہیں، شیطانوں کے کنکریاں مارنے کا یہ ثواب ہے کہ ہر کنکری کے بدلے ایک بڑا گناہ جو ہلاک کر دینے والا ہو معاف ہوتا ہے، اور قربانی کا بدلہ اللہ کے یہاں تمہارے لئے ذخیرہ ہے، اور سر منڈانے میں ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے، اس کے بعد آدمی جب طواف زیارت کرتا ہے تو ایسے حال میں طواف کرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا، اور ایک فرشتہ مونڈھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ آئندہ از سر نو اعمال کرتے رہو، تمہارے پچھلے سب گناہ معاف ہو چکے ہیں۔(مجمع الزّوائد،کتاب الحج،باب فضل الحج)
خلاصہ تحریر یہ ہے کہ حج امّتِ مسلمہ کی وحدت، اخوت اور اجتماعیت کا بے مثال مظہر ہے جو مسلمانوں کو رنگ و نسل اور قومیت کے تمام امتیازات سے بالا تر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ یہ عبادت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ تمام مسلمان ایک رب، ایک دین اور ایک قبلہ پر متفق ہیں۔
حج نہ صرف ایک روحانی عمل ہے بلکہ یہ انسان کو اجتماعی شعور، باہمی محبت اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے اندر عاجزی، صبر اور انکساری جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔ حج کی فرضیت قرآن کریم سے ثابت ہے اور یہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر لازم ہے، جس سے اس عبادت کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی حج کی عظمت اور فضیلت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے، یہاں تک کہ حجِ مبرور کا بدلہ جنّت قرار دیا گیا ہے۔ یہ عبادت انسان کے گناہوں کی معافی، روحانی پاکیزگی اور اللہ سے قرب کا ذریعہ بنتی ہے۔مزید برآں، حج کے مناسک انسان کو اطاعت، قربانی اور تسلیم و رضا کے عملی اسباق سکھاتے ہیں جو پوری زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
یہ عبادت امّت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی اور انہیں دینِ اسلام کے علمبردار بننے کی ترغیب دیتی ہے۔’’ حج‘‘ درحقیقت ایک جامع تربیتی نظام ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتا ہے اور انسان کو ایک نئی، پاکیزہ اور بامقصد زندگی کی طرف گامزن کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حج کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اس سال جو حجاج کرام حج کی ادائیگی فرما رہے ہیں ان کی اس عبادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔(آمین بجاہ النبی الکریمﷺ)