• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسئال اور ان کا حل

سوال: دائمی اسلامی جنتری میں جو وقت زوالِ آفتاب کا درج ہوتا ہے، وہاں سے زوال شروع ہوتا ہے یا وہاں زوال ختم ہوتا ہے، اگر شروع ہوتا ہے تو کتنی دیر نماز نہیں پڑھ سکتے ؟

جواب: سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان کسی بھی دن جتنا بھی فاصلہ ہوتا ہے، اس کے عین نصف کو وقتِ نصف النّہار حقیقی یا وقتِ استواء کہتے ہیں، اور استوائے شمس (نصف النّہار) کے وقت نماز منع ہے، جب سورج مغرب کی جانب ڈھل جائے تو زوال کا وقت ہوجاتا ہے، زوال کے وقت نماز پڑھنا منع نہیں ہے، ممانعت استوائے شمس یعنی نصف النہار کے وقت ہے، مگر لوگ زوال کہہ کر نصف النہار مراد لیتے ہیں۔

جنتریوں میں درج وقتِ زوال سے احتیاطاً پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد تک نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، وقتِ زوال کے بعد پانچ منٹ گزرتے ہی ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید