آپ کے مسئال اور ان کا حل
سوال: اگر امام فرض نماز میں قرأت میں غلطی کرے یا بھول جائے تو مقتدیوں میں سے کوئی لقمہ دے سکتا ہے یا جائز نہیں ہے؟ نیز امام جہاں بھول جائے وہیں قرأت ختم کر کے رکوع کر لے، بشرطیکہ کم از کم تین آیات درست پڑھ چکا ہو یا کوئی دوسری آیات پڑھے؟
جواب: فرض نماز میں اگر امام نماز کے دوران قرأت کرتے ہوئے بھول جائے تو مقتدی کے لیے اپنے امام کو لقمہ دینا جائز ہے، لیکن صرف غلطی بتانا مقصود ہو، اپنی قرأت مقصود نہ ہو، کیوں کہ امام کے پیچھے تلاوت کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔
تاہم یہ ملحوظ رہے کہ مقتدی کے لیے امام کو لقمہ دینے (غلطی بتانے) میں جلدی کرنا مکروہ ہے، اسی طرح امام کے لیے مقتدی کی جانب سے راہ نمائی اور لقمہ کا انتظار کرنا بھی مکروہ ہے، ایسی صورت میں اگر واجب مقدار قرأت نہ کی ہو تو امام کو چاہیے کہ وہ کسی اور سورت سے ضروری قرأت کر لے یا کوئی اور سورت پڑھ لے، اگر واجب قرأ ت کی مقدار پڑھ لی ہو تو رکوع کرلے۔
اسی طرح مقتدیوں کو بھی چاہیے کہ جب تک لقمہ دینے کی شدید ضرورت نہ ہو، امام کو لقمہ نہ دیں، شدید ضرورت سے مراد یہ ہے کہ مثلاً امام بھولنے کی وجہ سے خاموش کھڑا ہے اور رکوع بھی نہیں کررہا یا ایسی غلطی کرے جس سے معنی میں ایسی تبدیلی ہوجائے جس کی اصلاح نہ کی گئی تو نماز فاسد ہوجائے گی تو اس صورت میں لقمہ دینا چاہیے۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk