مولانا محمد عرفان اللہ اختر
ہر مہذب معاشرہ کچھ بنیادی اخلاقی اقدار پر قائم ہوتا ہے۔ ان اقدار میں حیا، عفّت، پاکیزگی، شرم و لحاظ اور اخلاقی ضبط کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے اس نے فرد، خاندان اور معاشرے کی تطہیر کے لیے شرم و حیا کو نہ صرف اخلاقی خوبی بلکہ ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔
مگر بدقسمتی سے موجودہ دور، بالخصوص سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال نے فحاشی اور بے حیائی کو اس قدر عام کر دیا ہے کہ برائی اب برائی محسوس ہی نہیں ہوتی، بلکہ بعض حلقوں میں اسے آزادی، ماڈرن ازم اور ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔فحاشی و بے حیائی محض ایک گناہ نہیں، بلکہ فکری یلغار ہے جو معاشرے کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق فحاشی صرف کھلے زنا یا بدکاری کا نام نہیں، بلکہ بے پردگی، فحش گفتگو، عریانی، جنسی اشتعال انگیز مواد، بے حیائی پر مبنی تصاویر، ویڈیوز اور تحریریں، ان تمام اعمال کی تشہیر و ترغیب یہ سب فحاشی کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ ایک انفرادی گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی فساد بھی ہے، کیونکہ اس کا اثر صرف کرنے والے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دیکھنے، سننے اور متاثر ہونے والے سب اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔
قرآن نے فحاشی کو نہ صرف غلط عمل قرار دیا ہے، بلکہ اس کے قریب بھی جانے سے روکا ہے۔ قرآنی حکم ہے : ’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ فحاشی اور برا راستہ ہے۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل:۳۲)
اسی طرح ایک اور آیت میں اللہ فرماتا ہے:’’کہہ دو! میرے ربّ نے تمام فحش چیزوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ حرام کیا ہے۔‘‘ (سورۃ الاعراف:۳۳)یہ آیات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام نے فحاشی کی ہر شکل سے بچنے اور اس کے پھیلاؤ سے روکنے کے لیے سخت ہدایات دی ہیں۔
فحاشی پھیلانے والوں کے لیے قرآن کی آیت سخت وعید اور عذاب کا وعدہ بیان کرتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے…‘‘ (سورۃ النّور :۱۹)یہ آیت ایسے عناصر کے لیے وعید ہے جو فحاشی و بے حیائی کو عام کرنا چاہتے ہیں اور آج سوشل میڈیا اس کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا ہے۔
قرآنی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فحاشی کو ہر صورت میں ناپسند فرمایا ہے، خواہ وہ کھلے عام ہو یا خفیہ، فرد کی سطح پر ہو یا معاشرے میں پھیلائی جا رہی ہو۔ خصوصی طور پر قرآن اس ذہنیت کو انتہائی خطرناک قرار دیتا ہے جو یہ چاہتی ہو کہ ایمان والوں کے معاشرے میں بے حیائی عام ہو جائے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کے لیے قرآن‘ دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا کی وعید سناتا ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ قرآن صرف عملِ بد کو نہیں، بلکہ برائی کے پھیلانے، اس کی خواہش رکھنے اور اس کی تشہیر کرنے کو بھی جرم قرار دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر فحش مواد شیئر کرنا، لائک کرنا، آگے پھیلانا یا اس کی حمایت کرنا ، یہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔
حیا ایمان کا حصہ ہے اور اس کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہر دین کا ایک خاص وصف ہے اور اسلام کا خاص وصف حیا ہے۔‘‘ (موطا امام مالک) یہ حدیث حیا کی بنیادی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے۔
حیا کا زوال دراصل اسلام سے فاصلے کا نشان ہے، اور سوشل میڈیا پر بے حیائی پھیلانے والے اسی زوال کا حصہ بنتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے صرف برائی کرنے والوں کو نہیں، بلکہ خاموش رہنے والوں کو بھی مخاطب کیا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے: ’’تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے، پھر دل میں برا جانے، یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر فحاشی اور بے حیائی پھیلانے کے خلاف خاموش رہنا بھی قابلِ مذمت عمل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں حیا کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ آپﷺ نے واضح فرمایا کہ: ’’حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘
حیا خیر ہی خیر لاتی ہے اور جب کسی معاشرے سے حیا اُٹھا لی جائے تو وہاں ہر قسم کی برائی بے خوف ہو جاتی ہے۔ احادیثِ مبارکہ کا مفہوم یہ بتاتا ہے کہ بے حیائی دراصل انسان کو گناہوں پر جری بنا دیتی ہے۔ جب دل سے شرم ختم ہو جائے تو آنکھ، کان، زبان اور جسم سب بے لگام ہو جاتے ہیں۔
آج سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی ’’حیا کے خاتمے‘‘ کی عملی تصویر ہے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں، مگر اس کا غلط استعمال، بے مقصد آزادی، دینی و اخلاقی نگرانی کا فقدان اسے فحاشی پھیلانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بنا چکا ہے، جس کی بناء پر یہ فحاشی کا سب سے طاقتور ہتھیار بن رہا ہے۔
یہ وہ خاموش زہر ہے جو حیا کو ختم کرتا ہے، غیرت کو مٹا دیتا ہے،خاندان کے نظام کو کمزور کرتا ہے اور زنا، بے راہ روی اور اخلاقی انارکی کو جنم دیتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں فحاشی عام ہو جائے، برائی پر نکیر ختم ہو جائے اور نیکی کو دقیانوسیت سمجھا جانے لگے تو پھر اللہ کی پکڑ آتی ہے، اجتماعی زوال شروع ہو جاتا ہے اور برے لوگوں کے ساتھ اچھے بھی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام صرف فرد کی اصلاح نہیں، بلکہ اجتماعی اصلاح پر زور دیتا ہے۔ خاموش تماشائی بھی بری الذمہ نہیں، بلکہ گناہ ہوتے دیکھ کر اس پر خاموش رہنے والا ، اسے معمولی سمجھنے والا اور اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ روکنے والا بھی جواب دہ ہے۔ سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا، یا یہ کہہ دینا کہ:’’یہ میرا مسئلہ نہیں‘‘ اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔
موجودہ دور میں ہماری ذمہ داری ہے کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں ہم اپنے اندر حیا کو زندہ رکھیں، سوشل میڈیا کے استعمال میں خوفِ خدا کو ملحوظ رکھیں، فحش مواد سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی حکمت سے روکیں، اپنے بچوں اور نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کی فکر و سعی کریں، بے حیائی کو آزادی نہیں‘ معاشرتی و اخلاقی فساد سمجھیں۔
فحاشی اور بے حیائی کوئی معمولی سماجی برائی نہیں، بلکہ یہ ایمان، اخلاق، خاندان اور تہذیب کے لیے کھلا خطرہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات ہمیں صاف بتاتی ہیں: جو لوگ معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں، وہ صرف دوسروں کو نہیں، بلکہ اپنے انجام کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔
اگر ہم ایک پاکیزہ، باحیا اور صالح معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سوشل میڈیا سمیت زندگی کے ہر شعبے میں حیا کو واپس لانا ہوگا، کیونکہ جہاں حیا زندہ ہوتی ہے، وہاں ایمان زندہ رہتا ہے۔