• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مالی معاملات میں وصیت کے اصول اور اس کے احکام

قاضی محمد فیاص عالم قاسمی

انسان کی روح اس کے جسم سے نکلتے ہی اس کی یہ ملکیت اس سے سلب ہوجاتی ہے اور مال مکمل طور پر اسی مالکِ حقیقی کے قبضہ میں رہ جاتا ہے، لیکن چوں کہ موت سے قبل اس نے اس مال کی حفاظت کی تھی، اس لیے اس کے کفن ودفن اور قرض وغیر ہ میں اس مالِ متروکہ کو استعمال کر نے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس کے بعد بھی اگر مال بچ جائے تو جن لوگوں کا اس میّت کے ساتھ قریبی رشتہ تھا اور جن کے نان ونفقہ کا انتظام وہ اسی مال سے کیا کر تاتھا، خداوند قدوس نے اس مالِ متروکہ کوان ہی لوگوں کے درمیا ن متعینہ حصوں میں تقسیم فرما دیا اور اس مال کی حفاظت ان پر لازم کر دی۔ اس سے استفادہ کر نے، نیز اس کے قریبی رشتے داروں کے نان ونفقہ کابند وبست کر نے کو ضروری قرار دیا۔

جب انسان بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو اسے قدم قدم پر دوسروں کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر کوئی اس کی اچھی طرح سے خدمت کرتا ہےاور قدم قدم پر ساتھ دیتا ہے، وہ اس احسان کے بدلے اپنی وفات سے پہلے اسے کچھ مال یاجائیداد میں سے کچھ حصہ دیے جانے کی وصیت کرتا ہے۔

اسی طرح بعض دفعہ انسان اپنی جائیداد کاکچھ حصہ کسی مدرسہ یا مسجد یاکسی رفاہی ادارے کو وصیت کرنا چاہتا ہے، مگر ناواقفیت کی وجہ سے وصیت باطل ہوجاتی ہے۔

ہم نے باب الوصیۃ کا جائزہ لیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ وصیت کے بہت سے سوالوں میں وصیت باطل ہوئی ہے، اس طرح وصیت کرنے والوں کی خواہشات اپنے محسنین کے حوالے سے پوری نہیں ہوپاتی ہیں۔ اسی طرح اگر اس کے کسی بیٹے یابیٹی نے دیگر وارثین کے مقابلے میں اپنے والد بزرگوارکی زیادہ خدمت کی تو اس کے لیے بھی ہبہ کے بجائے وصیت کیے جانے کی رسم موجود ہے۔

چوں کہ تجہیز وتکفین اور قرض سے میّت کا حق متعلق ہے اور وارثین کے درمیان تقسیم کر نے میں خودمال کا حقِ حفاظت متعلق ہے، اس لیے اس میں کوئی خاص شرط نہیں لگائی گئی، جب کہ وصیت جس کا تعلق اجنبی سے ہوتا ہے، اس میں دو شرطوں کو ملحوظ رکھا گیا۔

پہلی شرط: وصیت کسی وارث کے لیے نہ ہو، یعنی بیٹا بیٹی، ماں باپ، اور بیٹے کی موجودگی میں بھائی بہن کے لیے وصیت جائز نہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: بے شک، اللہ تعالیٰ نے ہر صاحبِ حق کا حق متعین کر دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔ (ترمذی:۲/۳۲)

دوسری شرط: وصیت ثلث مال یعنی ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، چنانچہ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں بیمار ہوگیا تو آں حضور ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور میری صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں دوسروں کے لیے پورے مال کی وصیت کردوں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: تو کیا آدھے کی کردوں؟ 

آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: ایک تہائی کی کردوں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: ایک تہائی بھی بہت ہے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا: اپنی اولاد کو مال دار بناکر چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ (مسلم ۲/۴۰، ترمذی ۲/۳۴)

پس اگر کوئی ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے یا اپنے وارث ہی کے لیے وصیت کرے، مثلاً اس کے مرنے کے بعد فلاں کو ایک تہائی سے زیادہ مال دیا جائے یا اس کے مرنے کے بعد اس کے فلاں وارث کو اتنا مال(اس کے شرعی حصہ کے علاوہ) دیا جائے، تو ایسی وصیت معتبر نہیں، البتہ اگر دیگر ورثاء مورث کی وفات کے بعد راضی ہوجائیں تو پھر اس کا اعتبار ہوگا، مورث کی وفات سے پہلے ان کی رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم ﷺنے ارشادفرمایا: وارث کے لیے وصیت نہیں ہے، مگر یہ کہ دوسرے وارثین اجازت دیں ۔ (سنن سعید بن منصور:۴۲۶)

حضرت ابن مسعودؓ، شریح ؒ، طاوسؒ، سفیان ثوریؒ، امام ابوحنیفہ ؒ، امام شافعی ؒاور دیگر فقہاء کا یہی مسلک ہے۔(أوجز المسالک ۱۴/۳۴۸ ۔ الدرالمختارمع ردالمحتار ۱۰/۳۴۰)

میّت کے مالِ متروکہ سے پہلے اس کی تجہیز وتکفین کا نظم کیاجائے گا، اگر اس کے اوپر قرض ہےتو اس کی ادائیگی کی جائے گی، پھر اگر کچھ مال بچ جاتاہے تو اس کے وارثین میں مال شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔

غیروارث رشتے داروں کے لیے وصیت کے سلسلے میں یہ تفصیل ملحوظ ہے کہ اگر مورث کے وارثین مالدار ہیں یا مال بہت زیادہ ہے توان کے لیے وصیت کر نا مستحب ہوگا، چنانچہ مفتی شفیع صاحب ؒ فرماتے ہیں: باجماعِ امّت یہ ظاہر ہے کہ جن رشتے داروں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہے، ان کے لیے میّت پر وصیت کر نا فرض اور لازم نہیں ہے، البتہ بشرطِ ضرورت صرف مستحب رہ جاتی ہے اور اگر وارثین غریب ہیں یا مال کم ہے تو وصیت کرنا بہتر نہیں ہے۔ (معارف القرآن:۱/۴۳۹)

فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ اگر کسی کے چھوٹے بچے ہوں، یا بڑے ہوں، لیکن مال کم ہو تو امام ابوحنیفہ ؒ اور حضرت امام ابویوسف ؒ کے نزدیک وصیت نہ کرنا بہتر ہے اور اگر اولاد بڑی ہو اور مال بھی زیادہ ہو تو پہلے واجبات کی وصیت کرے، پھر غیروارث رشتے داروں کے لیے، اس کے بعد پڑوسیوں کے لیے کرے۔ (فتاویٰ قاضیخان علیٰ الہندیۃ: ۳/۴۹۳)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: کسی بھی مسلمان کے پاس کوئی مال ہوجس کی اسے وصیت کرنی ہے، تو اس کے لیے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ دوراتیں گزرجائیں اور اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ (صحیح بخاری:۲۷۳۸) اس حدیث میں جہاں ایک طرف وصیت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، وہیں دوسری طرف اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ وصیت نامہ بنوالیا جائے، تاکہ وارثین اوروصی کے درمیان کسی طرح کااختلاف نہ ہو۔ 

واضح رہے کہ قانونی طور پر وصیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس لیے کسی بھی طرح کی جائز وصیت ہو، اسے قلمبند کرلینا چاہیے۔ اس کے لیے کسی شرعی ادارہ مثلاً دارالقضاء سے وثیقہ اور وصیت نامہ بنوالیا جائے، تاکہ بعد وفات کسی طرح کی کوئی شرعی قباحت اور اختلاف نہ ہو۔

اقراء سے مزید