آپ کے مسئال اور ان کا حل
سوال: میں نے کچھ رقم سود نہ لینے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی ہے، اگر میں یہ رقم سیونگ اکاؤنٹ میں رکھ کر اس کا سود کسی فلاحی ادارے کو عطیہ کردوں تو یہ جائز ہوگا؟ نیز یہ سودی پیسے کسی مستحق شخص کو بھی دیے جاسکتے ہیں؟
جواب: بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اور جس طرح سودی رقم کا استعمال کرنا حرام ہے، اسی طرح سودی رقم کو وصول کرنا بھی حرام ہے، قرآن وحدیث میں سود کے لین دین پر بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں،قرآنِ کریم میں اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ جنگ کے متردف قرار دیا گیا ہے اور سودی معاملات کرنے والے اور اس میں تعاون کرنے والوں پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، لہٰذا بینک کے منافع بخش اکاؤنٹ کھلوانا ہی جائز نہیں ہے۔
اس نیت سے سود وصول کرنا کہ اسے خود استعمال نہیں کریں گے، بلکہ غریبوں کا تعاون اور مدد کریں گے، شرعاً جائز نہیں ہے، حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک مال سے ہی صدقہ قبول کرتے ہیں۔
نیز ایسے لوگ حرام کا ارتکاب کرکے خود تو گناہ گار ہوتے ہیں اورغریبوں کادنیوی فائدہ کرتے ہیں، یہ بڑی نادانی ہے کہ انسان اپنا دینی نقصان کرکے دوسروں کا بھلا کرے اور دوسروں کے دنیوی فائدے کے لیے اپنی آخرت برباد کرے۔
حرام رقم غلطی سے ملکیت میں آگئی ہو تو اسے صدقہ کرنا لازم ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدقہ کی نیت سے انسان حرام کماتا رہے، مشرکینِ مکہ سخت قحط کے زمانے میں جوا کھیلتے تھے اور اس کے نتیجے میں جیتی ہوئی اشیاءخود استعمال میں نہیں لاتے تھے، بلکہ فقیروں پر صدقہ کردیا کرتے تھے، مگر اس کے باوجود ان کاعمل ناجائز اور حرام ہونے کی وجہ سے اس کی مذمت کی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ صدقہ اور لوگوں کی فلاح وبہبود کی نیت سےحرام مال کمانے کی اجازت نہیں۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk