• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ بندی اور معاہدے کی پاس داری (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں)

ڈاکٹر نعمان نعیم

اسلام کی بنیاد امن و سلامتی اور انسان دوستی پر ہے، اسلام سلامتی، اور ایمان، امن سے عبارت ہے، اسلام نے دنیا کو پُرامن بقائے باہم پر مبنی احترامِ انسانیت کا فلسفہ عطا کیا، اس نے یہ ضابطہ عطا کیا کہ اسلام کی نظر میں انسان کی جان محترم ہے۔

اسلام میں جنگ بندی کے اصول امن، اخلاقیات اور انسانیت کے تحفظ پر مبنی ہیں، جو دشمن کی طرف سے صلح کی پیشکش، معاہدوں کی پاس داری اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ جنگ بندی ہونے کی حالت یا کیفیت، دو ملکوں کے درمیان صلح مصالحت کے لیے عارضی جنگ روکنے کے لیے کیا گیا معاہدہ ہے۔ اسلامی قانون جنگ کے دوران بھی رحم اور انصاف پر زور دیتا ہے اور معاہدہ ہونے کی صورت میں فوری لڑائی روکنا لازمی قرار دیتا ہے۔

اسلام میں جنگ بندی (صلح) ایک اہم اصول ہے، جسے "معاہدہ" یا "عہد" کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر دشمن امن یا جنگ بندی کی طرف مائل ہو تو اسے قبول کرنا ضروری ہے، اور معاہدے کی پاس داری ہر حال میں لازم ہے، چاہے وہ دشمن کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جنگ بندی کے دوران انسانی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہوتا ہے اور دھوکہ دہی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

اگر دشمن جنگ کے بجائے امن اور صلح کا ہاتھ بڑھائے تو اسلام امن کو ترجیح دینے کا حکم دیتا ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاہدوں کی مکمل پاس دا ری کریں۔ قرآن کریم میں "عہد" کو پورا کرنے کا سخت حکم دیا گیا ہے، خواہ معاہدہ کسی غیر مسلم گروہ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ اگر جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے تو اسے توڑنا جائز نہیں، جب تک کہ دوسری طرف سے کھلی خیانت نہ ہو۔ 

جنگ بندی کے دوران دشمن کو دھوکہ دینا یا معاہدے کی آڑ میں کوئی کارروائی کرنا حرام ہے۔ معاہدے کے تحت دشمن کی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، اور ان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا جو جنگ میں حصہ نہیں لے رہے۔ 

اسلام میں جنگ بندی (عہد نامہ/صلح) ایک مقدس ذمہ داری ہے، جس میں فریقین کے درمیان امن قائم کرنے، خوں ریزی روکنے اور معاہدے کی پاسداری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسلام دشمن کے ساتھ طے پانے والے ہر معاہدے کا احترام کرنے، خلاف ورزی نہ کرنے اور امن کو ترجیح دینے کا حکم دیتا ہے، چاہے جنگی حالات ہی کیوں نہ ہوں۔

معاہدے کی پابندی (وفاء بالعھد): قرآن کریم میں واضح حکم ہے کہ "اے ایمان والو! اپنی گرہوں (معاہدوں) کو پورا کرو۔" (سورۃ المائدہ: 1) معاہدہ توڑنا منافقت کی نشانی اور سنگین گناہ ہے۔ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو، تو مسلمانوں کو بھی امن اور جنگ بندی کو ترجیح دینی چاہیے، جیسا کہ سورۃ الانفال میں حکم دیا گیا ہے۔ معاہدہ توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن جب تک وہ پاسداری کریں، معاہدہ برقرار رکھنا فرض ہے۔

رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ جیسے مواقع پر انتہائی کٹھن حالات میں بھی معاہدے کی پاسداری کی، جو مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ جنگ بندی کے دوران دونوں اطراف کے شہریوں، املاک اور حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوتا ہے، جس میں اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسلام میں جنگ بندی صرف ایک عسکری حکمت عملی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے، جس کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور امن کا قیام ہے۔

شریعت مطہرہ میں معاہدے کی پاسداری کی بڑی تاکید آئی ہے، حدیث میں آتا ہے کہ جوشخص معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا وہ کامل مؤمن نہیں ہوسکتا۔لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ طے ہواہو تو دونوں کو اس کی پاسداری کرنا چاہیے ،ورنہ خلاف ورزی کرنے والا گنہگار ہوگا ۔

اسلام نے حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے جو اصلاحات کیں، پیغمبر اسلامﷺ نے کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی ان پر عمل کرنے کی درخشاں روایت قائم رکھی۔ کیا دنیا کی کوئی قوم بشمول مغرب کے حالتِ جنگ میں عہد کی پاسداری کی ایسی ایک مثال بھی پیش کر سکتی ہے؟ کیا مغرب کی مہذب کہلانے والی اقوام حالتِ جنگ میں دشمن کے ساتھ ایسے اخلاقی برتاؤ کا تصور بھی کر سکتی ہے؟

مسلمانوں کا حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری کا ریکارڈ اتنا شاندار ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺاور آپﷺ کی تربیت یافتہ جماعت متعدد جنگیں کرتی ہے، نصف سے زیادہ دنیا فتح کرتی ہے مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا، ان عظیم الشان فتوحات اور مسلسل جنگوں میں کبھی کسی عورت، بچے یا بوڑھے پر ہاتھ اٹھایا ہو۔جنگ میں انسانی حقوق کے متعلق اسلام کی عطا کردہ اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کا نتیجہ اور اس کی برکت تھی کہ چند ہی سالوں میں نہ صرف جزیرۃ العرب و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ ایشیا، افریقہ کا بڑا حصہ اسلام کے سایۂ عاطفت میں پناہ گزین ہو گیا۔ یہ اتنی سرعت سے اسلام کی طرف آئیں کہ مؤرخین محوِ حیرت ہیں۔

اسلام کا فلسفۂ امن یہ ہے کہ طاقت اور ہتھیار نفس و خواہش پرست جنگ کے دلدادہ لوگوں کے بجائے انسانی حقوق کے پاسبان و محافظ جہاد کا تصور رکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہو۔ انسانی تاریخ شاہد ہے، دنیا میں امن صرف اسی وقت قائم ہو سکا جب تلوار خوفِ خدا رکھنے والوں کے ہاتھوں میں تھی۔ ماضی کی طرح مستقبل میں جب بھی دنیا میں صحیح معنٰی میں امن قائم ہو گا وہ اسلام کے ارفع فلسفۂ امن یعنی جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ ہی ہوگا۔

دنیا میں حق وصداقت کے غلبے اور برتری اور شر وفساد کے خاتمہ کے لیے مختلف قوموں کے درمیان آویزش وٹکراؤ کے اپنے اسی ازلی قانون وروایت کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے یوں ارشاد فرمایا: ’’جو اپنے گھروں سے بے وجہ نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ایک دوسرے سے زور نہ گھٹواتا رہتا تو نصاریٰ کے عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے سب منہدم ہوگئے ہوتے، بے شک اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ (کے دین)کی مدد کرے گا، بے شک اللہ تعالیٰ قوت والا،غلبے والا ہے، وہ جس کو چاہے غلبہ دے سکتا ہے‘‘۔

مذکورہ بالا آیت میں مسلمانوں کو جو قتال کی اجازت دی گئی ہے، وہ نہایت ہی ناگزیر حالت میں ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو یہ جنگ کی اجازت اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ زمین میں فساد وبگاڑ کریں، بلکہ اس جنگ کی اجازت کا مقصد یہ ہے کہ وہ جملہ مذاہب کی آزادی کو قائم رکھیں، بد امنی اور انارکی کا خاتمہ کریں۔

اسلام میں جنگ ایک نہایت اصولی عمل ہے، لہٰذا ہمیں اس کے متعلق کسی طرح کے بھید بھاؤ یا معذرت خواہانہ رویہ کے اختیار کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے، اس کی تعلیمات دیگر مذاہب کی طرح محض چند رسوم وعقائد کا مجموعہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ انسان کا خود ساختہ اپنے ہاتھوں بنایا ہوا قانون ودستور ہے؛ بلکہ خالقِ کائنات کا نازل کردہ نظامِ حیات ہے، جس میں ہر شعبۂ زندگی کے متعلق انسانیت کے لیے رہنما اصول بتائے گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو ہر شخص اپنا سکتا ہے، کوئی بھی شخص ان اصول کو اپنا کر اس کے دامن رحمت وعافیت میں جگہ پاسکتا ہے۔

اسلامی قانونِ جنگ کا ایک حسین اور خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے دورانِ جنگ بے قصور، نہتے اور کمزور لوگوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کی ہے، عملاً جن لوگوں نے جنگ میں حصہ لیا ہے یا جنہوں نے مشوروں اور خدمات کے ذریعے ان کو مدد بہم پہنچائی ہے، یہی لوگ قتل کے مستحق ہوں گے، بقیہ بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور خلوت نشین عابدوں اورزاہدوں سے ہرگز تعرض نہ کیا جاتا۔ دورانِ جنگ بے قصور لوگوں کے قتل کو تو رہنے دیجیے، اسلام نے سرسبز وشاداب کھیتوں، پھل دار درختوں اورباغات کو بھی نقصان پہنچانے سے روکا ہے۔

عہدِ نبوی میں آنحضرت ﷺنے جہاں کہیں بھی کسی آبادی کو نرغے میں لیا، وہاں کی ساری آبادی اور قبیلے کے سارے لوگ بنفس نفیس اور عملاً جنگ میں شریک تھے؛ البتہ عہدِ صحابہؓ میں عموماً مسلمانوں کا مقابلہ وہاں کی آبادی سے نہیں، بلکہ حکومت کے منظم فوجیوں سے ہوا ہے؛ اس لیے مجاہدین نے اس ملک میں فاتحانہ داخل ہونے کے بعد وہاں کی عوامی املاک یا وہاں کے باشندوں کے مال وجان پر کسی طرح کی دست درازی نہیں کی ، بلکہ وہاں کے مقامی لوگوں نے مسلمانوں کے حسنِ سلوک اور رواداری اور انصاف پر مبنی طرزِ عمل کی تعریف کی ۔

اسلام نے حالتِ جنگ میں جن چیزوں کی سخت تاکید کی ہے، ان میں سے ایک عہد کی پاسداری بھی ہے، بلکہ عام حالات میں بھی وفائے عہد کو ایک مسلمان کے لیے اس کے ایمان کا لازمہ اور خاصہ قرار دیا گیا ہے: ’’ ایک ایمان والے کے شایانِ شان نہیں کہ وہ وعدہ خلافی یا عہد شکنی کرے، بدعہدی یہ تو منافق کا شیوہ ہوتا ہے۔‘‘ (ریاض الصالحین : ۲۹۳)

عہد وپیمان کے پاس ولحاظ کی تاکید کر تے ہوئے اللہ عزوجل نے یوں ارشاد فرمایا: ’’معاہدے کی پاسداری کرو،کیوں کہ اس کے تعلق سے بازپُرس ہوگی ‘‘۔ عام حالات میں پابندیِ عہد کا اس قدر سختی کے ساتھ اسلام مطالبہ کرتا ہے،ظاہر ہے کہ جنگ کی حالت میں اس کی اہمیت مزید دوچند ہوجاتی ہے، اس لیے خصوصاً دورانِ جنگ یہ تاکید کی گئی ہے کہ دشمن خواہ بدعہدی کیوں نہ کرے، مسلمانوں کے لیے ہرگز یہ اجازت نہیں کہ قبل از اطلاع ان کی جانب پیش قدمی کریں یا بغیر انقطاعِ عہد کی اطلاع کے ان پر چڑھ دوڑیں؛ بلکہ ان کی جانب سے عہد شکنی کے باوجود بھی مسلمانوں کے لیے یہ ضروری قراردیا گیا ہے کہ وہ پہلے صاف اور صریح الفاظ میں معاہدے کے خاتمہ کا اعلان کردیں، پھر اس کے بعد ہی وہ جنگی کارروائی کرسکتے ہیں۔

ارشاد خداوندی ہے: ’’اور اگر تجھ کو ڈر ہو کسی قسم سے دغا کا تو پھینک دے ان کا عہد ان کی طرف ایسی طرح پر کہ ہو جاؤ تم اور وہ برابر، بیشک اللہ کو خوش نہیں آتے دغا باز۔‘‘ (سورۃالانفال :۵۸) اس آیت کریمہ میں قانون کی ایک اہم دفعہ بتائی گئی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدے کے دوسرے فریق کی طرف سے خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدے کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں، لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو صاف طور پر ختم کر دینے سے پہلے ہم ان کے خلاف کوئی اقدام کریں، بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ ان کو اطمینان و فرصت کی حالت میں اس سے آگاہ کر دیا جائے کہ تمہاری بدنیتی یا خلاف ورزی ہم پر ظاہر ہوچکی ہے، یا یہ کہ تمہارے معاملات مشتبہ نظر آتے ہیں، اس لیے ہم آئندہ اس معاہدے کے پابند نہیں رہیں گے، تم کو بھی ہر طرح اختیار ہے کہ ہمارے خلاف جو کارروائی چاہو کرو۔

حالیہ تناظر میں جنگ کے تدارک و سدّباب کے لیے پاکستان کی ثالثی ایک بروقت اور دوراندیش سفارتی کوشش اہم کامیابی ہے، اس سے پاکستان کے عالمی کردار اور اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس سے عالمی سطح پرمملکتِ خداداد کی عزت و اہمیت بڑھی ہے۔

اقراء سے مزید