• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعر: فیروز ناطق خسرو

مترجم: گایتری بسٹ

صفحات: 111، قیمت: 500 روپے

ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز، نوشین سینٹر، دوسری منزل، کمرہ نمبر 19،اردو بازار، کراچی۔

فیروز ناطق خسرو کراچی کے سینئر شاعر ہیں۔ اُن کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے ہے۔ اُن کے والدِ گرامی ناطق بدایونی بھی قادر الکلام شاعر تھے اور اُن کا شمار اپنے دَور کے اساتذئہ فن میں ہوتا تھا۔ اُن ہی کی تمام خصوصیات فیروز ناطق خسرو میں بھی دَر آئی ہیں۔ یہ بھی پُرخلوص انسان اور پُرگو شاعر کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ غزل اُن کا بنیادی حوالہ ہے اور نظم نگاری میں بھی کمال حاصل ہے۔ حمد اور نعت بھی لکھتے ہیں، لیکن ’’رثائی شاعری‘‘ اُن کا خاندانی وَرثہ ہے۔ ان تمام حوالوں سے اُن کی کتابیں منظرِعام پر آچکی ہیں۔ 

زیرِ نظر کتاب میں اُن کی50مختصر نظمیں شامل ہیں، جن کا نیپالی زبان میں ترجمہ، نیپال کی معروف ادیبہ اور شاعرہ ’’گایتری بسٹ‘‘ نے نہایت خوش اسلوبی سے کیا ہے۔ وہ اردو میں بھی شاعری کرتی ہیں اور اپنی تحریروں پر زبان و بیان کے حوالے سے فیروز ناطق خسرو سے اصلاح بھی لیتی ہیں۔

صاحبِ کتاب کی ترجمہ نگار سے دوستی فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔ یہ خاتون اب تک سات کتابوں کو اردو سے نیپالی زبان میں منتقل کرچُکی ہیں۔ کتاب کا فلیپ، نیپال کے ممتاز ادیب، شاعر اور دانش وَر، ڈاکٹر نوراج لمسال نے لکھا ہے، جو ریڈیو نیپال کے ڈائریکٹر ہیں۔ بلامبالغہ یہ کتاب پاکستان اور نیپال کے درمیان محبّت و ہم آہنگی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ کتاب کا انتساب بھی ’’پاکستان، نیپال عوام دوستی کے نام‘‘ کیا گیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید