• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالملک

ایک وقت تھا کہ تعلیم یافتہ ہونا، شرافت،مذہبی ، بااخلاق ہونا خوبی گردانے جاتے تھے اور یہی خوبیاں کسی بھی شخص کی وجہ شہرت ہوتی تھیں۔ آج کل بھی انہی خوبیوں کو لوگ پسند کرتے ہیں لیکن موجودہ زمانے میں نوجوانوں کو پڑھائی سے دلچسپی کم کر کے ویڈیوز کے ذریعے پیسہ کمانے میں لگا دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو یہ کہتے تو سنا ہی ہوگا کہ جدید دور ہے، دنیا جدت پسندی کی طرف مائل ہے، دنیا کا سارا نظام ایک مٹھی میں سما چکا ہے، جدت کی انتہا یہ ہے کہ، پاس بیٹھا تو پاس ہے ہی، مگر دنیا کے آخری کونے میں دور بیٹھا بھی اس دور جدید میں قریب آچکا ہے، اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہوا؟ تو کہا جائے گا انٹرنیٹ سے، یوں تو اس کے جتنے فائدے ہیں، تو نقصان کا بھی کوئی احاطہ نہیں۔

ہمارے ملک کے سارے نوجوان جن کے پاس انٹرنیٹ ہے،اس کااستعمال کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک چائینا کی ایک کمپنی بائیٹ ڈانس کاپراڈکٹ ہے۔ یہ ایک سوشل میڈیا ویڈیو application ہے جس پہ شارٹ ویڈیوز بنائی جا سکتی ہے مطلب ہر قسم کی مذاحیہ ،سنجیدہ یا ٹیلنٹ لوگوں کو دکھانے کے لئے۔ یہ app سال 2017 ء میں چائینا کے علاوہ تمام ممالک میں لانچ کیا گیا اور تھوڑے سے عرصے میں ہی پورے دنیا میں چھا گیا۔ یہی پاکستان میں سب سے زیادہ ڈاون لوڈ کی جانے والی سوشل میڈیا ایپ ہےاور سب نوجوانوں کا پسندیدہ بھی۔یہ دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور پاکستان کی عوام اس میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔

حال ہی میں ایک سروے کے مطابق پاکستان کا نام اُن ممالک کی لسٹ میں آگیا ہے، جہاں ٹک ٹاک سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ نوجوانوں نے اپنی ایک الگ دنیا بسا رکھی ہے۔ یہ ٹک ٹاک کی دنیا ہے، جس کو مختلف کرداروں کی اداکاری اور موسیقی سے سجایا گیا ہے۔ اس نے مزاح سے لے کر کھانوں کی ترکیبوں کو بھی ذریعہ معاش بنا دیا ہے۔

کئی ڈگریاں حاصل کرنے والا نوجوان نوکری کے لیے پورا سال جوتے چٹخاتا، مارا مارا پھرتا رہا اور دوسرا ٹک ٹاک پر وائرل ہو کر گھر بیٹھے لاکھوں کما کر لکھ پتی بن گیا یعنی ہلدی لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آیا۔ اب تعلیم یافتہ نوجوان نسل ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کے لیے ہر حد پار کرنے پر تل گئی ہے یا مجبور کر دی گئی ہے۔ آج کل آپ گھر سے باہر جس پارک، مارکیٹ یا عوامی مقام پر جائیں آپ کو ہاتھ میں موبائل یا کیمرا اٹھائے سجے سنورے نوجوان ضرور ملیں گے جو سیلفیاں یا ویڈیو بناتے نظر آتے ہیں۔ یہ نوجوان کسی فلم کی شوٹنگ نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ویڈیو شیئرنگ سروس ٹک ٹاک پر اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہوتے ہیں۔

لائک فالورز بڑھانے کےلیے بے حیائی و عریانی پر مشتمل وڈیوز اور اشتہار اپلوڈ کرنے سے بھی ذرا بھر نہیں شرماتے۔ یوٹیوب پر اکاؤنٹ بنا کر کمائی کرنا نسل نو تو جیسے روزگار کا بہترین ذریعہ سمجھ بیٹھی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک ٹک ٹاکر آج گلی، محلوں میں ٹک ٹاک بناتا ہوا مل جائے گا۔پاکستان جیسے ملک میں، جہاں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے زیادہ مواقع دستیاب نہیں ، وہاں ٹک ٹاک ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں نوجوان اپنے فن کا برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ذرا سوچیں کیا یہ جدید دور میں جدت کا صحیح استعمال ہے؟ کیا ان چیزوں کے استعمال سے ہم رب کے غضب کو دعوت نہیں دے رہے؟

خصوصاَ بیٹیاں اور بہنیں کیا یہ حیاء کا تماشہ نہیں۔ ہر چیز کے فائدے بھی ہوتے ہیں اور نقصانات بھی یہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اس کو کس طرح استعمال کریں۔ استعمال ایسا ہو کہ آپ یا آپ کے خاندان کی پرورش کے بارے میں کوئی بُرا نہ کہہ سکے ۔ بہت سےنوجوان ٹک ٹاک کی وجہ سے ہی آج کل میڈیا پہ چھائے ہوئے ہے مختلف چینلزپر اُن کو بطور مہمان خصوصی بلایا جاتاہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل نے اپنی ثقافت اور روایات کی دیوار کوپھلانگ کر اپنے معاشرے کی عزت جن اصولوں پر قائم کی جو کسی بھی با شعور پاکستانی کے لئے باعث شرم ہے۔ ٹک ٹاک پر سٹار بن کر پیسے کمانا کوئی بڑا کام نہیں ہے۔ 

اصل کام ایسی ایپس بنانا ہے، جن سے انسانیت کو فائدہ ہو اور ملک کو زرمبادلہ ملے۔ ٹک ٹاک یہ غلط نہیں لیکن غلط انداز میں بنانا غلط ہے اور سنیک وڈیو جیسے شارٹ کٹ استعمال کرنے سے نوجوان راتوں رات امیر بننا چاہتے ہیں۔ میرے پیارے ہم وطن نوجوان ساتھیو! میری بات کا مقصد یہ نہیں کہ ٹک ٹاک استعمال کرنا چھوڑ دیں، یہ غلط نہیں لیکن غلط انداز میں بنانا غلط ہے لیکن اپنی اخلاقی اقدار کو ذہن میں رکھ کر اسے استعمال کریں تو نہ کوئی آپ پر نہ آپ کے خاندان پر انگلی اٹھائے گا۔بہت کچھ کریں بہت کچھ سیکھیں لیکن بس اپنے ملک، معاشرے اور خاندان کی عزت کا خیال رکھیں کیونکہ یہ معاشرہ ہم سے ہے۔