• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ضمنی معرکہ: کیا قریشی اور ڈوگر اہنی نشستیں بچا پائیں گے؟

قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب کا اعلان ہونے کے بعد ملتان میں پہلے مرحلہ میں دونشستوں پر انتخاب کا بگل بج چکا ہے ،دونوں نشستیں ملتان شہر سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ حلقے شہر کا مرکز خیال کئے جاتے ہیں، ان دونوں نشستوں پر جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں، وہ سیا سی میدان کے پرانے شہسوار ہیں، اس لئے یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان نشستوں پر مقابلہ کانٹے دار ہوگا، ان دو حلقوں میں این اے 155اور 156شامل ہیں ،این اے 155 ملک عامر ڈوگراور این اے 156شاہ محمود قریشی کے استعفے منظور ہونے کے بعد خالی ہوئے، تحریک انصاف نے ان دونوں حلقوں میں اپنے پرانے امیدوار برقرار رکھے ہیں، ملک عامر ڈوگراین اے 155اور شاہ محمود قریشی این اے 156سے کاغذات نامزدگی داخل کراچکے ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کی بڑی دلچسپ صورتحال ہے ،این اے 155میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کے دو امیدوار ہیں ، جن میں سے ایک مخدوم جاوید ہاشمی ہیں، جو پہلے بھی اس حلقہ سے انتخاب لڑچکے ہیں ،جبکہ دوسرے امیدوار شیخ طارق رشید ہیں ،جو 2018ءکے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر تھے، مگر وہ پی ٹی آئی کے ملک عامرڈوگر سے تقریباً 55ہزار کی لیڈ سے ہار گئے تھے، دوسرا حلقہ 156ہے ،جہاں یہ حیران کن پیشرفت ہوئی ہے کہ مسلم لیگ نے سینٹررانا محمود الحسن کو ٹکٹ دے دیا ہے ،پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ رانا محمودالحسن کو اس حلقہ سے ٹکٹ نہیں ملے گا ،ٹکٹ نہ ملنے کی خبر پر رانا محمودالحسن کے حامیوں کا یہ ردعمل سامنے آیا تھاکہ ٹکٹ نہ دیا گیا ،تو رانا محمودالحسن آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، ایک خیال یہ بھی تھا کہ اس حلقہ میں مسلم لیگ کے جو دھڑے ہیں ،وہ رانا محمود الحسن کی حمایت نہیں کریں گے ،ان میں عبدالوحید ارائیں ،عامر سعید انصاری اور عبدالغفارڈوگر شامل ہیں ،لیکن کاغذات نامزدگی صرف رانا محمودالحسن نے جمع کرائے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مریم نواز کے حالیہ دورہ ملتان میں جوبڑے فیصلے ہوئے ہیں، ان میں ایک فیصلہ رانا محمود الحسن کو ٹکٹ دینے کا ہے، اس ٹکٹ کے متفقہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا مرحلہ آیا ،تو تینوں دھڑے رانا محمودالحسن کے ساتھ تھے، جہاں تک ان حلقوں کے متوقع سیاسی نتائج کا تعلق ہے ،تو فی الوقت کوئی پیش گوئی نہیں کیا جاسکتی، البتہ قومی حلقہ 155میں ملک عامرڈوگر کا پلڑا بھار ی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں مسلم لیگ ن دو ددھڑوں میں بٹی ہوئی ہے ،ایک دھڑ ا مخدوم جاوید ہاشمی کی حمایت کررہا ہے ،جبکہ دوسرا شیخ طارق رشید کے ساتھ ہے، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پچھلے دنوں جب مریم نواز ملتان آئیں اور انہوں نے ورکرز کنونشن سے خطاب کیا ،تو وہ یہ واضح نہیں کرسکیں کہ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کا امیدوار کون ہوگا۔ 

مخدوم جاوید ہاشمی کا اس حلقہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرانا بڑی سیاسی اہمیت رکھتاہے، اگرچہ انہوں نے نہیں خود نہیں کہا ،مگر ان کے بارے میں کہا یہ جارہا ہے کہ اگر انہیں ٹکٹ نہ بھی دیا گیا، تو وہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور اس حلقہ کو آزاد نہیں چھوڑیں گے، مخدوم جاوید ہاشمی کو مریم نواز کے حالیہ دورہ میں نظرانداز کیا گیا، جبکہ طارق رشید گروپ متحرک نظر آیا، پھر الیکشن کمیشن کے دفتر میں کاغذات نامزدگی داخل کراتے وقت پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا اور جو ہنگامہ آرائی ہوئی ،اس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے طارق رشید کی گرفتاری عمل میں آئی ،اس گرفتاری کی وجہ سے طارق رشید کا نام اعلیٰ سطح تک پہنچ گیا اوران کے قریبی حلقے یقین ظاہر کررہے ہیں کہ ٹکٹ شیخ طارق رشید کو ہی ملے گا۔

مگر دوسری طرف مخدوم جاوید ہاشمی ہیں ،جن کے بارے میں سیاسی و عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ وہ طارق رشید کے مقابلے میں مظبوط امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان کا سیاسی قدکاٹھ اور عوامی سطح پر ان کی مقبولیت کافی زیادہ ہے ،مگر مسئلہ یہ ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی گڈبکس میں نہیں ہیں ، ایسے میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ انہیں دی جاتی ہے کہ نہیں ، اس بار ے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ،پھر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ جس امیدوار کو ان ضمنی انتخابات میں ٹکٹ دیا جائے گا ،وہی عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کا امیدوار ہوگا ، اس لئے یہ معاملہ ابھی کچھ دن بعد کھلے گا کہ ٹکٹ مخدوم جاوید ہاشمی کو ملتی ہے، یا طارق رشید امیدوار بنتے ہیں۔ 

اگر مخدوم جاوید ہاشمی کو ٹکٹ نہ ملی اور وہ آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیں گے ،تو اس کافائدہ بھی تحریک انصاف کے امیدوار ملک عامرڈوگر کو ہوگا ،کیونکہ مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک تقسیم ہوجائے گا اور ملک عامرڈوگر اگر اپنے ووٹروں کو باہر نکالنے میں کامیاب رہے ، تو دوبارہ جیت جائیں گے ،جہاں تک قومی حلقہ 156کا تعلق ہے ،وہاں مخدوم شاہ محمود قریشی کے لئے بڑی مشکل صورتحال پیدا ہوچکی ہے ،کیونکہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں ،انہیں اکثراس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اگر انہوں نے اس سیٹ سے استعفیٰ دیا ہے ،تو پھر وہ دوبارہ اس میں حصہ کیوں لے رہے ہیں ،ایک صحافی نے جب اس حوالے سے شاہ محمود قریشی سے سوال پوچھا ،تو وہ اپنے غصہ پر قابو نہ پاسکے اور انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ آپ کو یہ سوال فیڈ کیا گیا ہے ،حالانکہ انہیں اس سوال کا تسلی بخشن جواب دینا چاہئے تھا کہ آخر پی ٹی آئی کی پالیسی کیا ہے ،ایک طرف وہ مستعفی ہورہی ہے۔

دوسری طرف وہ انہیں نشستوں پر انتخاب میں حصہ لے رہی ہے ۔جہاں تک اس حلقہ میں انتخابی صورتحال کا تعلق ہے ، تو رانا محمودالحسن کی حمایت میں مسلم لیگ کے تمام دھڑے متحد ہونے کے بعد یہ حلقہ شاہ محمود قریشی کے لئے آسان نہیں رہا، یاد رہے کہ رانا محمودالحسن ایک دیرینہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کے والد رانا نورالحسن ایم پی اے رہ چکے ہیں جبکہ رانا محمود الحسن خود ایم این اے اور سینٹرکے عہدے تک پہنچے ہیں۔

ان کا اس حلقہ میں خاصا اثرو رسوخ ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اگر 2018ء کے انتخابات میں بھی رانا محمودالحسن کو ٹکٹ دیا جاتا ، تو اس وقت بھی شاہ محمود قریشی کے لئے یہ نشست جیتنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود تحریک انصاف کے اندر شاہ محمود قریشی کے لئے ایک مزاحمت موجود ہے ،کیونکہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں پارٹی کے اندر گروپ بندی کو فروغ دیا ،نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرکے اپنے خاص لوگوں کو پارٹی مناصب اور حکومتی عہدے دلوائے ،جس کی وجہ سے ملتان میں ترقیاتی کام بھی نہیں ہوسکے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید