• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ میں تقسیم بدقسمتی اور انتہائی خطرناک بات ہے، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سپریم کورٹ کا کے پی اور پنجاب میں الیکشن نہ کرانے پر سوموٹو پہلی سماعت کے بعدجیو کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتےہوئے تجزیہ کاروں حامدمیر ،شاہزیب خانزادہ ،منیب فاروق، انصار عباسی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں تقسیم بدقسمتی اور انتہائی خطرناک بات ہے،سوموٹو نوٹس کی بنیاد ناصرف بڑی ناقص ہے بلکہ بہت احتیاط سے کہوں گا کہ بہت متنازع ہے،سوال یہی اٹھ رہاہے کہ سینئر جج سردار طارق اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بینچ میں شامل کیوں نہیں کیا گیا،پاکستان بار کونسل بھی ایک جج صاحب پر اعتراض اٹھارہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ جج صاحب اس بینچ میں شامل ہوجاتے ہیں جس پر بینچ پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ بدقسمت تاریخ پھر دہرائی جارہی ہے جو کہ افتخار چوہدری کے وقت میں دہرائی گئی تھی ،سینئر ترین جج جو ہوتے ہیں وہ اگلے چیف جسٹس ہوتے ہیں اور ان کا تمام اہم معاملات میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے،بینچ کے اندر سے ہی یہ بات اٹھ گئی ہے کہ یہ سوموٹو نہیں لینا چاہئے تھا یہ سوموٹو نہیں بنتا تھا اور یہ بہت اہم بات ہے کیونکہ اس طرح کی باتیں او رچیزیں ہم نے سپریم کورٹ میں نہیں سنی تھیں مگر یہ اس تقسیم کو ظاہر کررہی ہے جو بدقسمتی سے اس وقت ہمارے سپریم کورٹ میں موجود ہے اور یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔اینکر پرسن ، تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ یہ بینچ اپنی تشکیل کے ساتھ ہی متنازع ہوچکا ہے اور کچھ جج صاحبان نے بھی بینچ کی تشکیل کا جو معاملہ ہے اس پر سوالات اٹھائے ہیں اور چیف جسٹس صاحب نے اس کا کوئی مناسب اور تسلی بخش جواب نہیں دیا ہے اس وقت جس بحران کا ہمیں سامنا ہے اس میں دونوں طرف حکومت اور تحریک انصاف کی طرف سے ایک دوسرے پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جارہا ہے ۔اس وقت پاکستان میں بہت ہی Politicized اور Polarized صورتحال ہے تو اس میں ایک ایسا بنچ جس نے کہ آئینی بحران کو حل کرنا ہے تو اس بینچ کے کچھ ارکان جو ہیں وہ خود بھی سوال اٹھارہے ہیں اور بینچ کے ایک ممبر پر سوال اٹھادیا گیا ہے اس کا نہ وہ ممبر صاحب جواب دے رہے ہیں اور نہ ہی چیف جسٹس کی طرف سے کوئی جواب دیا گیا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید