• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مافیا عدلیہ پر حملہ آور، ہمارے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے، چیف جسٹس نوٹس لیں، عمران خان

لاہور (نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اب مافیا عدلیہ پر حملہ آور ہے ، یہ سیاستدان نہیں مافیا ہے، یہ ججوں کی ٹیپیں بناتا ہے ، وزیر داخلہ جج کی ٹیپ چلا رہاہے ، مریم نواز جج کی ٹیپ چلا رہی ہے ،ارشد ملک کی ٹیپ چل رہی ہے، جسٹس (ر) ثاقب نثار کی ٹیپ چل رہی ہے، یہ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کیلئے سارے حربے استعمال کر رہے ہیں، نامعلوم افراد ہمارے لوگوں کو اٹھا رہے ہیں، چیف جسٹس کوئی ایکشن لیں تاکہ عوام کو حوصلہ ہو کہ عدلیہ ہمیں بچائے گی، پاکستان کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے ، طاقتور کوقانون اور نہ ہی آئین کی کوئی فکر ہے ،تحریک انصاف کو کمزور کرنے کیلئے پولیس اور نا معلوم افراد ہمارے لوگوں کو اٹھا رہے ہیں ، عثمان ڈار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے کلاس فور کے ملازم کو اٹھا کر اس پر بہیمانہ تشدد کر کے اس سے 164کا بیان لیا گیا ، چیف جسٹس پاکستان سے اپیل ہے کہ اس پر از خود نوٹس لیں۔ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار اور مبینہ متاثرہ شخص جاوید علی کے ہمراہ ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارا آئین واضح کہتا ہے کہ ہر انسان کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ، بہت سے لوگ ہیں جو سامنے نہیں آتے ،جاوید علی سامنے آ گیا ہے اس سے عثمان ڈار کے خلاف مرضی کا بیان دلوا کر بلیک میلنگ کی کوشش کی گئی ، اس طرح کے ہتھکنڈوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کو کمزور کر کے ہمارے مخالفین کوانتخابات میں کامیاب کرایا جائے ، جاوید علی نے جو بات کی ہے وہ اس کا قرآن پر حلف دینے کیلئے تیار ہے ، عثمان ڈار کو پھنسانے کیلئے اس پر تشدد کیا گیا ، اسے ننگا کیا گیا ، بیوی بچوں کو ساتھ والے کمرے میں بٹھایا گیا کہ ننگا کر تصویریں بنائینگے اور سوشل میڈیا پر چلائینگے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے گولیاں لگیں میں اس وقت چیف جسٹس سے مخاطب ہوا کہ مجھے جنہوںنے قتل کرنے کی کوشش کی وہ سارے اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ سوشل میڈیا کے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ، ایک لڑکے کے ماں باپ نے کال کی ابھی تک ان کا بیٹا تشدد کے بعد ابھی تک معمول پر نہیں آیا ، نا معلوم افراد سے سب ڈرتے ہیں ،کسی کو تحفظ نہیں ہے کوئی ان کو بچانے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر قاتلانہ حملے کی جے آئی ٹی کے فرانزک شواہد وہ ختم کر دئیے گئے، پراسیکیوٹر جنرل نے جن افسران کے بارے میں کہا کہ انہوں نے شواہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ان کو واپس لا کر بٹھا دیا ہے، ہم کہاںجائیں گے۔ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے جاوید علی کے واقعہ پر از خود نوٹس لیں پتہ چلائیں کون ہیں، اسے کہا گیا کہ پولیس کے اوپر سارا الزام لگانا ہے ۔عدلیہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے ۔رجیم چینج کے بعد جس طرح بنیادی حقوق ختم کئے گئے ہیں لوگوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیاہے ۔ انہوںنے ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے پر امن تحریک شروع کی لیکن ہمارے لوگوں کو دور دراز علاقوںمیں لے کر جارہے ہیں، انہیں کپڑے نہیں دے رہے ، خوف پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میںمہنگائی اکتالیس فیصد پر پہنچ گئی ہے ،ہم بارہ فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے ، یہ سب این آر او دے کر چوروں کو بٹھانے کا نتیجہ ہے ، چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں پوچھیں کون ذمہ دار ہیں کون لکیر کھینچیں، کوئی تو عوام کے ساتھ کھڑا ہے کوئی تو ایکشن لے تاکہ عوام کو حوصلہ ہو ہماری عدلیہ ہمیں بچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بد دیانت الیکشن کمشنر ہے ، غیر جانبدار نگران حکومت کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔مبینہ متاثرہ شخص جاوید علی نے بتایا کہ وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں نوکری کرتا ہے ، اسے یہ کہہ کر ساتھ لے جایا گیا کہ تمہاری سیلری کیلئے درخواست دینی ہے، گیارہ بجے سے لے کر تین بجے تک بٹھایا گیا ، چار بجے کے قریب سات آٹھ پولیس والے آتے ہیں اورمجھے ہتھکڑی لگاتے ہیں اسکے بعد میری آنکھیں باندھ دی جاتی ہیںاورنا معلوم مقام پر لے جاتے ہیں ، مجھے فرش پر لٹا دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید