• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان المبارک کے مقدس ماہ کے دوران روشنیوں کا شہر کہلانے والے کراچی میں ڈاکو راج سر چڑھ بولتا رہا۔ اسٹریٹ کرائمز کابے قابوجن کراچی پولیس کی پہنچ سےکوسوں دوراور ان کے قابو سے باہرنظر آیا۔ شہرمیں جرائم کی تاحال جاری وارداتیں بلند سطح کوچُھو گئیں، جس نےنہ صرف ماضی کے تمام ریکارڈ توڑدئیے، بلکہ کراچی پولیس چیف جاوید اختر اوھوڈو کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی بھی کھول دی ہے۔ 

کراچی پولیس کی خصوصی مہم،ناکے، اسنیپ چیکنگ، چھاپے اور یومیہ بنیاد پر مبینہ پولیس مقابلے بھی بےسودثابت ہوگئے، اس کے با وجود اسٹریٹ کرائمزکے ناسور کو روکنےمیں ناکامی اورکوتاہی پرنہ تواعلیٰ افسران عہدہ چھوڑنے کو تیار ہیں اور حکومت سندھ میں انھیں چھیڑنےکی ہمت ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس چیف نے شاید تاجروں اور غیراہم وفود، نام نہاد میڈیا نمائندوں سےملاقاتیں کرنے، گلدستے وصول کرکے سیلفیاں بنوانے کوہی اپنی ذمے داری سمجھ لیا ہے۔

ماہ رمضان المبارک میں 11ہزار سے زائد وارداتیں، پولیس حکام کی سب اچھا کی ڈھٹائی کم نہ کرسکیں، صرف ایک ماہ میں 11شہریوں کے قتل اورتقریبا 90 افراد کے زخمی ہو کراسپتالوں میں جا پہنچے۔المیہ یہ ہےکہ آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی،زونل ڈی آئی جیز سمیت ضلعی ایس ایس پیز تاحال اپنےعہدوں پر براجمان ہیں ۔ ایک اندازے کےمطابق ماہ صیام سے لے کرعیدالفطر کے چھٹے روز تادم تحریر تقریبا44 سے زائدمعصوم جانیں ظالم لیٹروں کی بھینٹ چڑھ گئیں، جب کہ درجنوںشہری زخمی ہو کراسپتال پہنچائے گئے، جن کےگھر وں عید کی خوشی تہوار کے موقع پرغم اورسوگ میں ڈوبے رہے۔

یومیہ بنیاد پر 300 سے زائد موبائل فون چھینے کی وارداتیں ہوئیں۔ 2500 شہری موٹرسائیکلوں سے محروم کردیئے گئے،جب کہ 77گاڑیاں بھی لےاڑے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں لٹیروں کی ہوش ربا وارداتیں پولیس کی کارکردگی کا بین ثبوت ہیں، جب کہ پولیس کے ہتک آمیزرویوں کے باعث متعدد شہری وارداتوں کی رپورٹ تک درج نہیں کراتےہیں ، ہوٹلز، شاپنگ مالز اور بینک کے اے ٹی ایم سے رقم لے کر نکلنے والے شہری لٹیروں کا آسان ہدف بنے۔ اسٹریٹ کرائمزکی روزانہ درجنوں وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ویڈیوز تواتر سےجاری ہوتی رہیں، اس کے برعکس ملزمان کی دیدہ دلیری اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی اور نااہلی بھی قائم و دائم رہی ہیں، جس کےباعث شہر میں قیام امن، دیوانے کے خواب کا لگتا ہے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تو ڈاکوئوں کے پے درپے وار داتوں نے ریکارڈقائم کر دیئے ۔ سعید آباد تھانے کی حدود سیکٹر 17-Aبلدیہ ٹائون گھر کی دہلیز پر 2ماہ سے بے روزگار نوجوان سوزوکی ڈرائیور دلاور جو بچوں کے عید کے کپڑوں کی خریداری کے لیے کسی سے ادھار رقم لے کر گھر کے قریب پہنچا ہی تھا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اس سے رقم، موبائل فون، ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ چھین کر فرار ہوگئے۔ 

شاہ لطیف ٹاون کی تھانے کی حدو د سیکٹر 17/B میں5 دکانوں کو ایک ساتھ لُوٹ لیا گیا، مسلح ڈاکوؤں نے یکے بعد دیگرے 5 دکانوں کا صفایا کردیا، ٹیلر کی دکان سے80ہزار روپے نقد اور موبائل فونز لوٹ لیے، برگر کے ٹھیلے والے راشد حسین پوری سیل اور جیب میں موجود رقم تقریبا8ہزار روپے اسلحے کے زور پر چھین لیے، حجام کی دکان کے مالک احمد رضا سے پورے دن کی آمدنی، موبائل فون اور دکان پر موجود3 افرادکو بھی ڈکیتوں نے لُوٹ لیا۔ 

جب عوام کی جان و مال کاتحفظ کا حلف اٹھانے والی پولیس کی چندکا لی بھڑیں ہی ڈکیتی، لوٹ ماراوررشوت خوری میں ملوث ہوجائیں، تو شہری کس سے فریاد کریں۔ عید کے روز گبول ٹاون پولیس نے مشتبہ پک اپ کو روکا اور پک اپ سے بھاری مقدار میں اسمگل شدہ چھالیہ برآمد کی، پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ مذکورہ گاڑی اس سے قبل نارتھ ناظم آباد تھانے میں پکڑی گئی تھی، نارتھ ناظم آباد تھانے کے ہیڈ محرر اور اہل کاروں نے ایک لاکھ30 ہزار کے عوض گاڑی چھوڑی، واقعہ کا علم ہونے کے بعد ایس ایس پی سینٹرل نے سخت ایکشن لیا۔ 

ان کی ہدات پرایک لاکھ30 ہزار روپے رشوت کے الزام میں ہیڈ محرر تھانہ نارتھ ناظم آباد اور 4 پولیس اہل کاروں ہیڈ محرر عدنان مجید، کانسٹیبل ملک نادر، کانسٹیبل زوہیب حسین، کانسٹیبل عمیر علی چوہان، کانسٹیبل فرحان ظہیر کو گرفتار کر کےان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور ایس پی گلبرگ کو واقعہ کی انکوائری کی ہدایت کی گئی، انکوائری میں پولیس اہل کاروں پر الزام ثابت ہوگیا اور پولیس اہل کاروں سے رشوت میں لیے گئے90 ہزار روپے بھی برآمد کر لیے۔ 

ایس ایس پی معروف عثمان کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کی سخت پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کارروائی کی اور ملوث پولیس اہل کاروں کے خلاف نارتھ ناظم آباد تھانے میں مقدمہ نمبر 126/23 20 درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دوسری جانب موٹر سائیکل چھیننے اور لوٹ مار کی واردات میں پولیس کا اہل کارہی ملوث نکلا۔ ائیرپورٹ پولیس نےڈسٹرکٹ ایسٹ شعبہ تفتیش میں تعینات پولیس اہل کار ذیشان کو موٹر سائیکل چھیننے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ 

ائیرپورٹ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم پولیس اہلکار ذیشان نے2 ساتھیوں کے ہمراہ شہری سےموٹرسائیکل چھیننےکےعلاوہ شہری سے 2 لاکھ روپے نقد، قیمتی موبائل فون اور دیگر سامان کے علاوہ اس کی نائن ایم ایم پستول بھی چھینی تھی، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شلوار قمیص میں ملبوس شہری عاطف حسین گلی میں موبائل فون پر بات کر رہا تھا کہ اس دوران مسلح موٹر سائیکل سوار ڈاکووں نے انہیں یرغمال بنا کر اسلحے کے زور پر شہری سے مہنگا آئی فون، ایک اور موبائل فون او 2 لاکھ روپے نقد لوٹ لیے،تلاشی کے دوران ڈاکو شہری کا حفاظت کے لیے رکھا ہوا نائن ایم ایم پستول بھی چھین کرفرار ہو گئے تھے۔ 

عید کے چھٹےروز محمد علی سوسائٹی کے قریب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ملز مان کی فائرنگ سےشہری 40 سالہ عبدالروف ولد محمد حسین جاں بحق ہو گیا۔کورنگی میں عید کے پانچویں دن ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے والا نوجوان حذیفہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لا کر اسپتال میں دم توڑ گیا۔مقتول کی نمازجنازہ کے بعدکورنگی نمبر2 میں علاقہ مکینوں نے نوجوان کے قتل کے خلاف شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی، مشتعل مظاہرین نے دونوں اطراف کی سڑکیں بند کردیں، جس کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ 

ڈیفنس 13 ساوتھ اسٹریٹ پی این ایس شفا کےقریب لوٹ مار کر نے والا ایک ڈاکو نیوی کےملازم کی فائرنگ سےمارا گیا،نیوی کا ملازم اپنی بیوی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھاکہ2 مسلح موٹر سائیکل سوارملزمان نے اسےروک کر اسلحہ کے زور پر ڈکیتی کی کوشش کی، اس دوران نیوی کے ملازم نےجرات کا مظاہرہ کر کے ڈاکو سے پستول چھین کراسے گولی مار دی، وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا ،جب کہ دوسرا ڈاکو موقع سے فرارہو گیا۔ ایس ایس پی ساوتھ کے مطابق ہلاک ہونے والا مبینہ ڈاکو شیراز رحمان 10 سے زائد مقدمات میں پہلے بھی گرفتار ہو کرجیل جا چکا ہے، جس کے خلاف زیادہ تر مقدمات فیروز آباد اور ڈیفنس تھانے میں درج ہیں ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید