• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: عیدِ قرباں کے موقع پر بکثرت لوگ جانور ذبح کرتے ہیں، گائے، بیل اور آج کل بڑی جسامت والے مہنگے جانوروں کا رواج چل پڑا ہے، کیٹل فارم ایسے جانوروں کو خصوصی طور پر تیار کرتے ہیں اور بڑے اہتمام سے منڈیوں میں سجائے جاتے ہیں، اِسی طرح بکروں کی قربانی کا سلسلہ ہے، معلوم یہ کرنا ہے گائے کی قربانی افضل ہے یا بکرے کی؟ (عبدالرشید ، بلوچستان )

جواب: صاحبِ نصاب شخص پر قربانی واجب ہے اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقرُّب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ، حدیثِ پاک میں ہے : ترجمہ: ’’حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے ایام میں ابن آدم کا کوئی بھی (نیک) عمل اللہ تعالیٰ کے حضور( قربانی کے جانور کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی کایہ جانور قیامت کے دن (شہادت کے طور پر) اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت (یعنی مجسّم) حاضر ہوگا اور(قربانی کے جانورکا ) خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور درجۂ قبولیت کو پالیتا ہے ،پس (اے مسلمانو!) قربانی خوش دلی سے کیا کرو، (سنن ترمذی: 1493)‘‘۔ علامہ علی القاری ؒاس کی شرح میں لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اُس (جانور) کو قیامت کے دن اس حالت میں لایا جائے گا، جیسے دنیا میں کسی نقص (یاعیب)کے بغیر تھا، تاکہ اس کے ہرعضو کے بدلے اسے اجر ملے اور وہ اس کے لیے پل صراط سے گزرنے کے لیے سواری بنے گا،(مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح جلد3،ص:1086)‘‘۔

زیادہ فربہ ،زیادہ حسین اور زیادہ عظیم جانور کی قربانی مستحب ہے ،قربانی کا جانور تمام عیوبِ فاحشہ سے سلامت ہونا چاہیے ،افضلیت کامدار جانور کی قیمت ، گوشت کی مقدار اور گوشت کے لذیذ ہونے پر ہوتا ہے ،حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : افضل قربانی وہ ہے ،جس کی قیمت زیادہ ہواور وہ خوب فربہ ہو ،(مسند امام احمد بن حنبل :15494)‘‘۔(۲)ترجمہ:’’عمدہ(یعنی جواں عمر ،حسین ، بے عیب اور فربہ) قربانیاں کروکہ یہ پلِ صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گے ،(فیض القدیرشرح الجامع الصغیر:1835)‘‘۔

علامہ حسن بن منصور اوزجندی ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ بڑا جانور افضل ہے یا ایک بکری ،تو ان میں سے بعض فرماتے ہیں: جب بکری کی قیمت بڑے جانور (کے ساتویں حصے) سے زیادہ ہو تو بکری افضل ہے ،کیونکہ بکری مکمل واجب ہوتی ہے اور (اگر بڑا جانور ایک ہی آدمی اپنی طرف سے قربان کرے تو) بڑے جانور کا ساتواں حصہ واجب ہے ،باقی نفل ہے اورجو جانور مکمل طور پر واجب ہو، وہ افضل ہے۔

حضرت شیخ امام ِجلیل ابوبکر محمد بن فضلؒ فرماتے ہیں: بڑا جانور افضل ہے کیونکہ بکری کے مقابلے میں اس کا گوشت(مقدار میں) زیادہ ہے اوریہ جو کہا: بڑے جانور کا (ساتواں حصہ فرض ہوگا اور باقی حصہ) نفل ہوگا، تو (درحقیقت) اس طرح نہیں ہے بلکہ (بڑا جانور) جب ایک آدمی کی طرف سے ذبح ہوگا تو سارے کا سارا فرض شمار ہوگا، یہ صورت نماز میں قراءت کے مشابہ ہے، اگر بقدرِ جوازقراء ت پر اکتفاکرے ، تو نماز جائز ہوجاتی ہے اور اگر اس سے زیادہ پڑھے تو ساری قراءت فرض شمار ہوگی۔

حضرت شیخ امام ابوحفص الکبیر ؒ فرماتے ہیں: جب بکری اور بڑے جانور(کا ساتواں حصہ) قیمت میں برابر ہوں تو( اس صورت میں) بکری کی قربانی افضل ہے، کیونکہ اس کا گوشت زیادہ عمدہ ہوتا ہے اوربعض حضرات فرماتے ہیں: گائے افضل ہے کیونکہ اس کا گوشت (مقدار میں) زیادہ ہوتا ہے اور جب قیمت اور گوشت میں دونوں برابر ہوں تو بکری گائے کے ساتویں حصے سے افضل ہے، کیونکہ بکری کا گوشت زیادہ عمدہ ہوتا ہے اوراگر گائے کے ساتویں حصے کا گوشت زیادہ ہو تو گائے کا ساتواں حصہ(بکری سے) افضل ہے ۔ اس ساری بحث کاحاصل یہ ہے: جب بکری اور گائے کا ساتواں حصہ قیمت اور گوشت میں برابر ہوں توجس کا گوشت عمدہ ہو، وہ افضل ہوگا اور اگر بکری اور گائے کے ساتویں حصے کی قیمت اور گوشت میں فرق ہو توجو( دونوں اعتبارات )سے زیادہ ہو، اس کی قربانی اَولیٰ ہے ،(فتاویٰ قاضی خان علیٰ ہامش الھندیہ ،جلد 3،ص:349) ‘‘۔

صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’بکری کی قیمت اور گوشت اگر گائے کے ساتویں حصہ کے برابر ہو تو بکری افضل ہے اور گائے کے ساتویں حصہ میں بکری سے زیادہ گوشت ہو تو گائے افضل ہے یعنی جب دونوں کی ایک ہی قیمت ہو اور مقدار بھی ایک ہی ہو تو جس کا گوشت اچھا ہو وہ افضل ہے اور اگر گوشت کی مقدار میں فرق ہو تو جس میں گوشت زیادہ ہو وہ افضل ہے اور مینڈھا بھیڑ سے اور دنبہ دُنبی سے افضل ہے جبکہ دونوں کی ایک قیمت ہو اور دونوں میں گوشت برابر ہو۔ بکری بکرے سے افضل ہے مگر خصی بکرا بکری سے افضل ہے اور اونٹنی اونٹ سے اور گائے بیل سے افضل ہے جبکہ گوشت اور قیمت میں برابر ہوں، (بہارِ شریعت ،جلد سوم،ص:340)‘‘۔

اقراء سے مزید