• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: محمد رجاسب مغل ۔۔ بریڈفورڈ
یہ زیادہ دور کی بات نہیں چند دہائیاں پہلے جب والدین اپنے بچوں کی شادیاں کرتے تو وہ اپنی برادری ،رشتہ داروں سے ہٹ کردوسری برادری والوں کے گھر جاتے اور ان سے اپنے بیٹے کے ساتھ دوستی بھائی چارے کی درخواست کرتے ،یوں شادی کے بندھن سے پہلے ان کے ساتھ ایک بھائی چارے کا رشتہ قائم کر دیا جاتا ، وہ زندگی بھر اس رشتے کو نبھانے کا عہد کرتے، زندگی کے دکھ سکھ کے ساتھی رہتے، والدین کا یہ عمل عین رسول اللہﷺ کی سنت کے مطابق تھا کیوں کہ نبی پاک ﷺ نے مکہ اور مدینہ میں صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کیا۔ رسول اللہﷺ کا مواخات کا عملی قدم بہت کامیاب رہا اگر مواخات کا بنظرغائر مطالعہ کیا جائے اور ان حالات و اسباب کے پس منظر میں اس پر سوچ بچار کی جائے جن میں یہ عمل وجود پذیر ہوا تھا تو اور بہت سے دوسرے پہلو بھی اجاگر ہوتے ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی فکر وبصیرت میں کس قدر وسعت و گہرائی تھی، یہ ایک انفرادی معاملہ نہیں تھا بلکہ درد مندی کے تسلسل کی ایک کہانی ہےکہ کس طرح معاشرے میں پیچھے رہ جانے والوں کی مدد کی جاتی تھی،انسانی تاریخ میں خلافت ِ راشدہؓ نے بھی مواخات کے سماجی پہلو کوایک ریاستی پالیسی میں تبدیل کر دیا تھا یونہی تو نہیں خلیفہ دومؓ سیدنا عمر فاروق ؓیہ کہہ اٹھے کہ دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیاتو اس کا جواب مجھے دینا ہو گا، شاید یہی فلسفہ سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست کا بھی تھا کہ پاکستان میں اسی طرح ریاست مدینہ کا نظام بنایا جائے مگر معاملات کہیں اور نکل گئے، دنیا میں 57اسلامی ملک ہیں کوئی بھی ملک اس طرح کا عملی نظام قائم نہیں کر سکا، قیام پاکستان کی تحریک میں بھی شاید یہی جذبہ کار فرما تھا کہ برصغیر کے مفلوک الحال مسلمانوں کی دستگیری ہولیکن ہوا کیا، آج غربت کی وہ کہانیاں ہمارے سامنے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی، گزشتہ دنوں آگرہ مڈ پوائنٹ بریڈفورڈمیں یارکشائر ادبی فورم کے پروگرام میں معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ’’سیلاب کہانی‘‘ کی تقریب رونمائی تھی ڈاکٹر امجد ثاقب پاکستان میں قائم’’اخوت‘‘ ادارہ کے بانی ہیں، انہوں نے بتایا کہ اخوت کا فلسفہ ریاست مدینہ سے لیا گیا جوکہ رسول اللہ ﷺنے اس وقت مواخات کے ذریعے معاشی نظام متعارف کرایا ،انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سرمایہ دار اور امیروں کی ایک بڑی تعداد ہے ان کو اور ان کی نسلوں کو مستقبل میں کوئی فکر نہیں جب کہ پاکستان میں نصف سے زائد لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور مستقبل میں ان کیلئے امید کی کوئی کرن نہیں، اگر امیر افراد غریب افراد کے ساتھ مواخات قائم کر لیں تو پاکستان میں غربت ختم ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف سے بھی جان چھوٹ سکتی ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب نے 2001 میں اخوت فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تھی جو ایک مائیکرو فنانس ادارہ ہے اور غریبوں کو بلاسود قرضے فراہم کرتا ہے، اخوت تنظیم نے قرض حسنہ کا پروگرام چند ہزار روپے سے شروع کیا تھا، ملک بھر سے60 لاکھ سے زائد گھرانوں کو بغیر سود قرض حسنہ دیا گیا اسی طرح تعلیم میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کیلئے بغیر سود کے قرضے دیئے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کر کے جب اس قابل ہو جائیں تو قرض واپس کر دیں۔ پاکستان کا ستارہ امتیاز اور ایشین نوبل پرائز کا اعزاز حاصل کرنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب اور اخوت کی پوری ٹیم انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے اور معاشرے میں مواخات مدینہ کی درخشاں روایت کو زندہ رکھنے کی کاوش کررہی ہے۔
یورپ سے سے مزید