• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کےالیکٹرک کا اصل مالک کون، مکمل کنٹرول کیلئے کارروائی سخت اسکروٹنی کا موضوع

لندن ( مرتضیٰ علی شاہ ) حالیہ دنوں میں کراچی الیکٹرک ( کے ای ) کا پیچیدہ ملکیتی ڈھانچہ جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم سنگ بنیاد ہے کے مین آئی لینڈ کورٹ میں کے ای کے مکمل کنٹرول کیلئے جاری کارروائی کے سلسلے میں سخت سکروٹنی کا موضوع بن گیا ہے۔ ملکیتی ڈھانچہ اس وقت زیر بحث آیا جب یہ اطلاع دی گئی کہ کے الیکٹرک کے زیادہ تر شیئر ہولڈنگ سیج وینچر گروپ لمیٹڈ نے لے لئے ہیں جو کہ برٹش ورجن آئی لینڈز کی رجسٹرڈ سپیشل پرپس کمپنی ہے جو کہ مکمل طور پر ایشیا پاک انویسٹمنٹ کی ملکیت ہے جس کے اونر تاجر اور بینکار شہریار چشتی ہیں ۔ تاجر جو ڈائیوو بس سروس کے مالک بھی ہیں کا کہنا ہے کہ وہ مکمل براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کے ای کے پورے نظام میں اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اصل سٹیک ہولڈرز پاکستان کے اندر اور باہر مزید قانونی چیلنجز پر غور کر رہے ہیں اور یہ خبر کہ سیج وینچرز لمیٹڈ نے مین کورٹس میں کے ای ایس پی جو کے ای کی immediate parent کمپنی ہے کو سمیٹنے کی پٹیشن جمع کرائی ہے اور اس کو سعودی عرب کے الجومیہ گروپ اور کویت کے این آئی جی کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کے الیکٹرک کا مالک کون ہے جو اب معدوم تباہ حال ابراج اور اس کے بانی عارف نقوی کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد ایک عالمی نام بن گئی ۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 2005میں سعودی عرب کے الجومیہ گروپ اور کویت کے نیشنل انڈسٹریز گروپ (این آئی جی) نے حکومت پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے ذریعے کے ای کی ملکیت کا بڑا حصہ حاصل کیا۔ یہ مراعات یافتہ پوزیشن آج تک برقرار ہے، جس نے دونوں اداروں کو کمپنی، کے ای میں 30.7 فیصد کی کمانڈنگ سی تھرو ملکیت سے نوازا ہے۔ 2008 میں پاکستانی حکومت کی جانب سے ابراج کے داخلے کیلئے ایک غیر معمولی استثنیٰ دیا گیا تھا جس سے اس انویسٹمنٹ وینچرمیں اس کے داخلے کو ممکن بنایا گیا۔ ریکارڈز کے مطابق اس رسائی کو کےمین جزائر میں بیسڈ ایک سپیشل پرپس وہیکل کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی تھی جس کا نام انفراسٹرکچر گروتھ اینڈ کیپٹل فنڈ( آئی جی سی ایف ) SPV 21 ہے جس نے ریکارڈ کے مطابق ابراج کی ملکیتی سرمایہ کاری کے علاوہ آئی جی سی ایف فنڈ کے سٹرکچر کے حصے کے طور پر ابراج کی طرف سے لائے گئے 80 سے زیادہ سرمایہ کاروں کو بڑھایا ۔
اہم خبریں سے مزید