برسلز (حافظ اُنیب راشد) یورپین قیادت نے یورپین پارلیمنٹ کے ممبران کو یقین دلایا ہے کہ کشمیر پر یورپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جبکہ ساری دنیا میں سے ای یو ہی ایک ایسا خطہ ہے جو انڈیا کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے انسانی حقوق کو موضوع بناتا ہے ان خیالات کا اظہار یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے مختلف پارلیمانی گروپوں سے تعلق رکھنے والے ممبران یورپین پارلیمنٹ کی جانب سے یورپین کمیشن کی سربراہ اور ان کے نام، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لکھے جانے والے خط کے جواب میں کیا۔ واضح رہے کہ یورپین پارلیمنٹ کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ کستالدو فابیو ماسیموایم ای پی، سبرینا پگنیدولی ایم ای پی، روزا دوماتو ایم ای پی، مونیر ساتوری ایم ای پی، جوڑڈی سولی ایم ای پی، کلارا پونساتی ایم ای پی، ستیلیو کولوگلو ایم ای پی اور انسر ایون ایم ای پی نے کشمیر کی تازہ ترین صورتحال وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور انڈیا کی جانب سے کشمیری عوام کی امنگوں کے برخلاف اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر مشترکہ طور پر یورپین کمیشن کی سربراہ ارسلا واندرلین اور یورپین خارجہ و سیکیورٹی امور کے سربراہ جوزپ بوریل کے نام ایک خط تحریر کیا تھا۔اس مشرکہ خط کے جواب میں یورپین خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ ʼہم علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آپ کے تحفظات کے ساتھ مکمل اشتراک کرتے ہوئے اسے انڈیا کے ساتھ ہر میٹنگ میں اٹھاتے ہیں۔ چاہے وہ نئی دہلی ہو یا برسلز اور یا پھر جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس ہو۔ انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ ʼیورپین یونین وہ واحد بیرونی پارٹنر ہے جو ہندوستان کے ساتھ انسانی حقوق پر سنجیدہ اور سرشار بات چیت کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈیا کے ساتھ جولائی 2022 میں نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں کشمیر کے اندر انسانی حقوق کے موضوع پر خاص طور پر بات چیت کی گئی۔جبکہ خرم پرویز سمیت بہت سے انسانی حقوق کے محافظوں کے انفرادی کیسز کو اٹھانے کیلئے بھی ہیومن رائٹس ڈائیلاگ کا استعمال کیا گیا۔جوزپ بوریل نے ممبران پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ ہم 2023 کے موسم خزاں کے اگلے سیشن کا انتظار کر رہے ہیں جہاں اسی طرح کی گہرائی والی اور واضح گفتگو کی توقع کر تے ہیں ۔انہوں نے مزید آگاہی دی کہ ہیومن رائٹس کونسل کے 51 ویں اجلاس کے دوران ہندوستان کے یونیورسل پیریڈیک ریویو (UPR) کے موقع پر یورپین یونین کے 22 رکن ممالک نے بحث میں مداخلت اور تعاون کیا۔جس کے باعث کئی مسائل حل ہوئے۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ ای یو اور اس کے رکن ممالک UPR کو بطور حوالہ استعمال کرنے کے پابند ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ کشمیر پر یورپی یونین کا اصولی موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی لیے ہم انڈیا کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں کہ وہ جہاں تک ممکن ہو، لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے عوام کو شامل کرکے پاکستان کے ساتھ مثبت بات چیت کے ذریعے کشمیر کی صورتحال کا پائیدار حل تلاش کرے۔ اس کے ساتھ ہی یورپین خارجہ امور کے سربراہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپین یونین سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق فوری اور شفاف طریقے سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کسی بھی الزام کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔انہوں نے اس حوالے سے یورپین یونین کے مختلف اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ امید بھی ظاہرکی کہ یورپین پارلیمنٹ کے ارکان کے انڈیا اور پاکستان کے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ پارلیمانی رابطے بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاکہ سرحد پار امن و استحکام اور علاقے میں کشمیری آبادی کیلئے انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔دوسری جانب کشمیرکونسل ای یو کے سربراہ علی رضا سید نے کشمیر کی صورتحال پر یورپی یونین کے نائب صدر و وزیرخارجہ جوزف بوریل کے حالیہ بیان کو سراہا ہے۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے کہا کہ یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار کے تاثرات انتہائی اہم ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔علی رضا سید نے یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے ممبران کو بھی سراہا جنہوں نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کو خط لکھا۔