نئی دہلی (نیوز ڈیسک) کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو طیارے میں فنی خرابی کی وجہ سے نئی دہلی میں جی20سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد دو روز تاخیر سے بھارت سے واپس روانہ ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو جمعے کو جی20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت پہنچے تھے اور اتوار کو مہاتما گاندھی کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد وطن واپسی کا شیڈول تھا۔ تاہم پرواز سے پہلے جانچ کے دوران ان کے طیارے میں فنی خرابی کا پتا چلا جس کے نتیجے میں کینیڈا کی مسلح افواج نے ان کے طیارے کو گراؤنڈ کر دیا اور وہ اپنے پورے وفد کے ساتھ مزید دو بھارت میں قیام پر مجبور ہوئے۔ وزیراعظم کے پریس سیکریٹری محمد حسین نے تصدیق کی کہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی سربراہی میں کینیڈا کا جی20وفد پرواز میں سوار تھا، کینیڈا کے نشریاتی ادارے سی ٹی وی نے کہا کہ اس طیارے کو متعدد آپریشنل مسائل کا سامنا تھا۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ چونکہ جسٹن ٹروڈو کی بھارتی حکومت کے ساتھ مزید کوئی سفارتی مصروفیت طے نہیں تھی، اس لیے وہ اپنے 16سالہ بیٹے کے ساتھ اپنے ہوٹل میں ہی ٹھہرے۔جی20 سربراہی اجلاس میں جسٹن ٹروڈو کی موجودگی ان کے چند جی7 ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ خاموش تھی کیونکہ کینیڈا کی جانب سے دائیں بازو کے سکھ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر ان کی حکومت اور میزبان بھارت کے درمیان تناؤ موجود رہا ہے۔