• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری نوکروں کی پنشن میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز، فوجیوں کو استثنیٰ

اسلام آباد(مہتاب حیدر)دفاع اور مسلح افواج سے تعلق رکھنےوالے افراد کو استثنیٰ دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے پبلک سیکٹر کے ریٹائر ملازمین کی پنشن میں سنگین اور بڑی تبدیلیاں کرنے کی سمری وزیراعظم کو بڑھائی ہے جس کے تحت سفارش کی گئی ہے کہ پنشن کے موجودہ فارمولے( جس کے تحت پنشن کسی ملازم کی حاصل کردہ آخری تنخواہ کے مطابق جمع کی جاتی ہے) کے بجائے آخری تین سال کی تنخواہوں کی بنیادپر اکٹھی کی جائے۔ اس نے کمیوٹیشن کے فارمولا میں ادائیگی کےلیے ریٹائرمنٹ کے وقت اکٹھے رقم دینے کے حوالے سے بھی تبدیلیاں تجویز کی ہیں اور کہا ہے کہ موجودہ فارمولے کے تحت جہاں 35 فیصد رقم ریٹائرمنٹ کے وقت یکمشت اور 65 فیصد بعد کے برسوں میں ماہانہ قسطوں کی صورت میں دی جاتی ہےکے بجائے25 فیصد ریٹائرمنٹ کے وقت اور 75 فیصد بعد کے برسوں میں ماہانہ قسطوں پر دینے کی تجویز ہے۔پنشن کو تیسری سطح جیسے کہ غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ یا بیوہ بیٹی کو دینے کے عمر بھرکےلیے دینے کے بجائے صرف دس سال تک دینے کی تجویز ہے لیکن شہدا کے خاندانوں کے لیے یہ حد 20 سال اور ان کے خاندان کے معذور افراد کےلیے اور شہدا کی بیٹیوں کےلیے تاحیات یہ جاری رہے گی۔ اس حوالے سے جب اس نمائندے نے وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار سے منگل کی رات کو دریافت کی کہ آیا پنشن کے حوالے سے اس قسم کی اصلاحات کاکوئی نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ہے یا نہیں تو اس کا کہنا تھا کہ ابھی نہیں جاری ہوا۔مستقبل میں پنشن میں اضافہ سی پی آئی انڈیکس کے حسا ب سے ہوا کریگا ( جو کہ گزشتہ تین سال کے دوران 80 فیصد تھا) لیکن یہ اضافہ زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ہوسکے گا۔افراط زر کی شرح 10 فیصد سے زائد ہونے کی صورت میں حکومت خصوصی طور پر ایک ایڈہاک اضافہ تجویز کر سکتی ہے جو افراط زر معمول پر آنے کے ساتھ ہی ختم کردیاجائےگا۔ عمر کی مدت پوری ہونے سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور ریٹائر ہونے والے پر کم سے کم 3 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک کا جرمانہ عائد کیاجائےگا۔ یہ سمری جس کا نام پنشن اصلاحات رکھا گیا ہےوزیراعطم کو گزشتہ پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران بھجوائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملازم کو صر ف ایک پنشن کا استحقاق ہوگا تاہم ملازم کو یہ حق ہوگا کہ وہ زیادہ رقم والی پنشن کا انتخاب کر لے اور دیگر پنشنیں جانے دے۔ موجودہ قوانین کے تحت بچے یا شریک حیات کی موت کی صورت میں پنشنرز کے لواحقین کوایک سے زیادہ پنشنیں وصول کرنے کا حق ہوتا ہے مثال کے طور پرشریک حیات، بچوں یا والدکے انتقال کی صورت میں پنشنیں ایک شخص کو جاتی ہیں۔ البتہ ُ سروس‘(فوجی نوکری کرنے والوں) یا شہدا کے خاندانوں پر اس کا اثر نہیں پڑ ے گا۔وہ افراد جنہیں پبلک سیکٹر میں دوبارہ سے نوکررکھاجاتا ہے انہیں تنخواہ اور پنشن دونوں کے فوائد دینے کی وفاقی حکومت مجاز نہں ہوگی۔ متعلقہ ملازم کو یا تو تنخواہ اور یا پھر پنشن میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بطورفوجی نوکری کرنے والے کو اگر کسی سرکاری عہد ے میں دوبارہ سے نوکر رکھا جاتا ہے تو اسے البتہ تنخواہ اور پنشن دونوں 60 سال کی عمر تک حاصل کرتے رہنے کی اجازت ہوگی۔ فوج کی نوکری میں ریٹائرمنٹ کی اوسط عمر بیسویں گریڈ سے نیچے 50 س 52 سال ہے، 19 ویں گریڈ میں 46 سے 48 سال ، 18ویں گریڈ میں 42 سے 44 سال اور سپاہیوں کےلیے 38 سے 40 سال ہے۔ ابھی صورتحال یہ ہے کہ ہر برس پنشن میں اضافے خام یا نقد پنشن کے مرکب اثر ات کے ساتھ ہوگا جس کا مطلب یہ ہوا کہ آخری پشنش پر فی صد اضافہ ہوتا ہے لیکن اب وزارت نے تجویز دی ہے کہ پنشن میں اضے کو ریٹائرمنٹ کے دورانیے سے مشروط کیاجائے۔ پنشن گزشتہ تین سال کی نتخواہ کی بنیاد پر اکٹھی کی جائے بجائے اس کے کہ آخری تنخواہ کی بنیاد پر دی جائے۔

اہم خبریں سے مزید