اسلام آباد(صباح نیوز)قومی ائیرلائن کی نجکاری کے 6 ماہ بعد بھی پی آئی اے کا انتظام خریدارکنسوریشم کو منتقل نہ ہوسکا۔ ترجمان نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ مجموعی طورپر40سے زیادہ این او سی لیے جانے تھے، زیادہ تر این او سی حاصل ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی ائیرلائن کا کنٹرول25مئی کو خریدارکنسوریشم کو دینا تھا تاہم اب جون کے آخر تک قومی ائیرلائن کا کنٹرول کنسوریشم کو دینے کا منصوبہ ہے۔ ائیرلائن کا کنٹرول کنسورشیم کونہ دینے کی وجہ مختلف این او سیزکا اجرا نہ ہونا ہے، این او سی بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ کنسورشیم نے این او سی ملنے کے بعد 85 ارب روپے نجکاری کمیشن کے پاس جمع کروانے تھے۔ اس حوالے سے ترجمان نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ مقامی اور بیرونی این او سی حاصل کرنے کا کام جاری ہے، مجموعی طورپر40 سے زیادہ این او سی لیے جانے تھے، زیادہ تر این او سی حاصل ہو گئے ہیں۔