خیبرپختونخوا میں کوہستان اور گلگت بلتستان کے دیامر اضلاع کے درمیان دریائے سندھ پر پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کا دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ جس کا سنگ بنیادمطلوبہ فنڈز اور زمین کے حصول میں مشکلات نیز منصوبہ بندی اور اعتراضات دور کرنے کے عمل میں تاخیر کے باعث تین مرتبہ 1998، 2008 اور 2020 میں رکھا گیا، بالآخر سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں 13 مئی 2020کو چین کی ایک کمپنی اور پاکستان فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے درمیان معاہدے پر دستخطوں تک پہنچا۔ نظرثانی شدہ ہدف کی روشنی میں منصوبے کو 2028 میں مکمل ہونا ہے۔حالیہ دنوں میں تعمیراتی کام میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق رواں ماہ ختم ہونے سے پہلے دریائے سندھ کا رخ موڑ دیا جائے گا جس سے کنکریٹ ورک کی راہ ہموار ہوگی۔ مقررہ ہدف کے حصول کے تناظر میں آئندہ پانچ سال انتہائی اہم ہیں۔ بھاشا ڈیم میں 8.1 ملین ایکڑ پانی ذخیرہ ہوسکے گا اور 4500 میگاواٹ سستی ترین بجلی حاصل ہوگی۔جنوبی ایشیا کے موجودہ اور بالخصوص آنے والے موسمی حالات پر سائنسدانوں کو گہری تشویش لاحق ہے۔ان کے مطابق موسمی تغیرات کے باعث پیش آنے والے مسائل میں سب سے گھمبیر پانی کے بحران کا مسئلہ ہے۔ وہ ممکنہ حالات سے نمٹنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ملک میں اس وقت منگلا، تربیلا اور وارسک کے علاوہ دیگر درمیانے اور چھوٹے کل 1007 ڈیم ہیں جبکہ زیر تعمیر میگامنصوبوں میں بھاشا کے بعد داسو منصوبہ 2025 اور مہمند ڈیم کی تعمیر 2024 میں مکمل کرنے کے اہداف مقرر ہیں۔ متذکرہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد ملک کو تیل و گیس جیسے انتہائی مہنگے وسائل سے بڑی حد تک نجات مل جائے گی تاہم مستقبل کے تناظر میں بلحاظ اضافہ آبادی ممکنہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے سورج، ہوا اور کوئلے کے وسائل پر انحصار یقینی بنانا ناگزیر ہے۔