• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، بھارت سے امن کی بھیک نہیں مانگ سکتے، نگراں وزیراعظم

دوبئی (اے پی پی) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں بمباری بند نہ ہوئی تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، شاید پھر سرحدی بندشیں بھی ختم ہوجائیں، پاکستان مسئلہ فلسطین پر دو ریاستی حل کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن اس کیلئے بھارت سے امن کی بھیک نہیں مانگ سکتے، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے، ملک سےدہشت گردی کے خاتمے تک دہشت گردوں کیخلاف جنگ جاری رہے گی، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زیادہ متاثر ہونے والےممالک میں آٹھویں نمبرپرہے،متحدہ عرب امارات کا 30 بلین ڈالر کے عالمی موسمیاتی فنڈ کا اعلان ’جرات مندانہ اور تاریخی‘ اقدام ہے اس سے عالمی سطح پر موسمیاتی مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسکائی نیوز عربیہ کو انٹرویو اور اقوام متحدہ کی28ویں کانفرنس آف پارٹی(کوپ) کے پاکستان پویلین میں منعقدہ ʼلیونگ انڈس انیشی ایٹو کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کوپ 28 کےکامیاب انعقاد پر یو اے ای کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کوپ 28میں 30ارب ڈالرز کے فنڈز کے قیام کا خیر مقدم کرتا ہے، دنیا کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے،پاکستان ہمیشہ اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ جن ممالک نے کاربن کے اخراج میں حصہ نہیں ڈالا لیکن وہ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تخفیف، موسمیاتی موافقت اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کی صورت میں معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی مظالم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور دیگر ممالک کیساتھ ملکر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم پر سب سے پیش پیش رہا ہے اور فلسطینیوں کیخلاف بے پناہ تشدد اور جارحیت کو فوری بند کرنے اور انسانی ہمدردی کی راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان تارکین کی واپسی سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی، سماجی اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے غیر قانونی تارکین کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے ،یہ ہمارا قومی فرض ہے کہ دس لاکھ سے زائد غیر دستاویزی اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کو منطقی بنائیں اور منظم کریں۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس کو ماحولیاتی اثرات اور آب وہوا سے ہم آہنگ کرنے کیلئے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا اشد ضروری ہے کیونکہ آبادی کی اکثریت دریا سے منسلک ہے، پاکستان کی مستقبل کی ضروریات کیلئےپانی کی دستیابی ایک بڑ ا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی دریائے سندھ کے حوالے سے ترجیحات واضح ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لیونگ انڈس ایک ایسے اقدام کو متحرک کرنے کی کوشش ہے جو حال اور مستقبل کے لیے ایک صحت مند دریائے سندھ کو تیار اور بحال کرے گااور ہم یہاں تعاون کرنے اور اپنے دریاؤں کیلئے آواز بلند کرنے کے لیے موجود ہیں۔ صنعت ہمیں پالتی ہے اور اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو یہ ہمارا خیال نہیں رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ لیونگ انڈس فریم ورک کے تحت ریچارج پاکستان پراجیکٹ نہ صرف ہمارے لاکھوں شہریوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی اختراع کے لیے ایک ماڈل کے طور پر بھی کام کرے گا۔وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اس موقع پر مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول اسکالرز، آرکیٹیکٹس، شاعروں اور ادبی لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مضامین، خطابات اور شاعری میں اپنی آواز بلند کرکے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کی عالمی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔

اہم خبریں سے مزید