اسلام آباد (فاروق اقدس) 8مارچ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے اظہار خیال کرنے کی خواہش بھی اس فہرست میں شامل ہے جس پر ایوان میں بات کرنا چاہوں گی۔ لیکن اب تک ہونے والے اجلاسوں میں جو مناظر دیکھنے میں آئے ہیں تذبذب کا شکار ہوں کہ یہ خواہش پوری ہوگی کہ نہیں، بہرحال پرامید ضرور ہوں کہ جلد یہ ایوان اپنے اصل مقاصد کی طرف آئے گا اور قانون سازی سمیت دیگر آئینی اور پارلیمانی تقاضے پورے ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سندھی دانشور،مصنف اور ماہرتعلیم مہتاب راشدی نے جنگ سے ایک خصوصی گفتگو میں کیا جوپیپلز پارٹی کی جانب سے مخصوص نشستوں پر پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے ایوان میں آئی ہیں اس سے قبل وہ سندھ اسمبلی کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ کئی کتابوں کی مصنف اور غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ڈاکٹر مہتاب راشدی، شادی سے پہلے مہتاب چنا کے نام سے معروف تھیں اور ان کی مقبولیت کا ایک حوالہ اس زمانے میں ٹی وی پروگرام بھی تھے، پاکستان کی ہم عمر وہی مہتاب چنا جو نئی نسل کیلئے نامانوس ہوچکی ہیں، تین دہائیاں قبل جب جنرل ضیاالحق کے فوجی احکامات کے ذریعے ٹی وی اینکرز، نیوز ریڈرز کو سکرین پردوپٹہ اوڑھ کر آنے کا پابند بنانے کی کوشش کی تھی لیکن مہتاب چنا نے اعلانیہ طور پر یہ حکم ماننے سے انکار کیا جس کی پاداش میں انہیں ٹی وی کو خیرباد کہنا پڑا اور 40,000روپے ماہانہ (اس زمانے میں)معاوضہ چھوڑ کر یونیورسٹی میں 3ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر درس و تدریس کو ترجیح دی۔ مختلف سوالوں کے جواب میں مہتاب راشدی کا کہنا تھا کہ معاشرے میں عدم برداشت کے اثرات ہمیں ایوانوں میں بھی نظر آ رہے ہیں حالانکہ اس ایوان سے تو قوت برداشت کا پیغام جانا چاہئے اختلاف رائے کا حق سب کو حاصل ہے لیکن اس کا قرینہ ایسا ہی ہونا چاہئے جس کی عوام توقع رکھتے ہیں اگر ایسا پیغام جاتا ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ اصلاح کرنے والوں کو خود اصلاح کی ضرورت ہے تو کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہوگا، تاہم مہتاب راشدی کا کہنا تھا کہ میں پر امید ہوں کہ ایوان جلد ہی قانون سازی اور دیگر معاملات کی طرف بڑھے گا اور ان مقاصد کو قانون سازی کے ذریعے عملی شکل دینے کا سنجیدہ کام شروع ہو جائے گا جس کیلئے ہم اس ایوان میں آئے ہیں۔ مہتاب راشدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایوان میں یہی روش برقرار رکھی تو ہم پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اس لئے اختلاف رائے کا اظہار نعروں کے شور شرابے میں نہیں بلکہ افہام و تفہیم کے لب و لہجے میں سنجیدہ ماحول میں ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ توجہ حاصل کرنے کیلئے فہم و دانش زیادہ موثر ذریعہ ہے۔