• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: زبیر حسین…اسٹاک ہوم
دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامنوں کی عمریں تمام ہوئیں فقط ایک سوال کے جواب کی کھوج میں کہ آزادی کے رواج کو دنیا میں کس طرح مستقل رائج کیا جائے دورِ حاضر میں ہونے والی جنگوں کا اختتام تباہی کے بعد ٹیبل ٹاک پر ہی پہنچ کر امن کی ضمانت بنتا ہے،مگر ان جنگوں نے ایک بات تو عیاں کردی کہ آزادی کےلئے انسان کو جنونیت اختیار کرنا پڑتی ہےاب چاہے اس میں انسان کی اپنی زیست تک کیوں نہ تباہ ہوجائے، انسان اپنی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ ایسی فضا مہیا کرنا چاہتا ہے جہاں وہ کم از کم آزادی سے سانس لے سکیں۔ مسئلہ فلسطین ہو یا پھر روس یوکرین جنگ مقصد فقط حق آزادی۔ اب مدعا یہ ہے کہ آزادی کی جدوجہد کے لئے اپنائی جانے والی جنونیت کیا ہے اور یہ کس نوعیت کی ہوتی ہے،کیا اس میں مذہبی عنصر بھی شامل ہے یا سیاسی مقاصد بھی پوشیدہ ہیں؟ اس بات کا جواب ہمیں سارتر کا پہلے ناول ’’لا ناوسی‘‘ سے باخوبی ملتا ہے جس میں اس نے واضح پیغام دیا کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں اور نہ کوئی معنی ماسوائے کامل آزادی کے جسے انسان اپنے جذبات اور خیالات کومدنظر رکھ کر حاصل کرتا ہے اور ان جذبات و خیالات کا خالق اور پنے رویوں کا ذمہ دار انسان خود ہی ہے ہم نے گوروں سے آزادی جنون اور عشق سے حاصل کی ، شاید اس وقت کا جنون اور عشق کچھ الگ نوعیت کا ٹھرا ہوگا کیونکہ اس کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی تھی۔ اب محسوس کچھ یوں ہونے لگا ہے کہ جیسے وہ دو قومی نظریہ نہیں شاید دو مذہبی نظریہ رہا ہوگا کیونکہ وہاں ہندو دھرم اور اسلام کے پیروکاروں کے مابین فرق کو ظاہر کیا گیا تھا۔ وطنِ عزیز کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اب معاملات کچھ یوں دکھائی دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو الگ ملک میسر آنے کے بعد دو قومی نظریے کی بنیاد پر اب دوبارہ آزادی درکار ہے، آزادی کے اس نعرے کی بات کی جائے تو قوم کی سوچ کچھ یوں ظاہر ہوتی ہے کہ جیسے نکاح کے بعد چھوارے تقسیم کرنے کے عمل کوہماری عوام نے آزادی سمجھ لیا ہے۔ آزادی کے نئے نعرے کی لہر میں جو جنونیت نظر آتی ہے وہ دراصل سیاسی مقاصد کاحصول اور شخصیت پرستی کا عشق ہے، ہماری قوم کو سیاسی بنیادوں پر دو حصوں میں کچھ یوں تقسیم کیا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے اپنا ایک علیحدہ نظریہ حقیقی آزادی کے نام سے جاری کررکھا ہے جب کہ دوسری جانب اسی سیاسی جماعت کی جانب سے تمام تر سیاسی جماعتوں کو وطن فروشی اور غداری کے زمرے میں بھی لا کھڑا کیا گیا ہے، تو گویا معاملہ کچھ یوں ٹھرا کہ اب قوم حقیقی دو نظریہ کی جانب بڑھ چکی ہے، قیام پاکستان کے لئے پیش کئے جانے والی دوقومی نظریے کی کوئی منظم تشہیری مہم نہیں تھی عوام نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہہ کر وطن عزیز کی آزادی کی بنیاد رکھی۔ مگر یہ جو حقیقی آزادی والا دو قومی نظریہ ہے اس کی تشہیری مہم بڑے منظم انداز میں چلائی گئی اور اب تک اس کے اثرات مہلک ہتھیاروں کی تابکاری کی مانند ہورہے ہیں۔نقطہ وروں کا کہنا ہے کہ رپورٹرز کو نہ صرف سوشل میڈیا اکائونٹس بنا کر دیئے گئے بلکہ لاکھوں کی تعداد میں سبسکرائبرز بھی عطا کئے گئے اور انہیں چھوڑ دیا گیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صفوں تک ابھی نہیں پہنچا اور ابھی شاید ایک طویل مدت درکار ہے ترقی کی منازل کوچھونے کیلئے، موجودہ دور کے دو قومی نظریہ کے تحت قوم کو شترمرغ کی سحری ، بکرے کے گوشت کی افطار کروا کر سوشل میڈیا پر جنگ لڑنے کے لئے کھلا چھوڑ رکھا ہے، نوجوان طبقہ سورج سر پر چڑھنے تک نیند کی آغوش میں رہتا ہے، پھر مختلف دستر خوانوں سے مفت رزقِ حلال خود بھی کھاتا ہے گھر بھی لاتا ہے، شام ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مجاہد بن کر ملک کے اداروں پر کیچڑ اچھالتا ہے اور پھر اپنے مستقبل کے اندھیروں کی وجہ حکمرانوں کو ٹھہراتا ہے۔اگر قوم کے اس طبقے کی بات کی جائے تو یہ وہ طبقہ ہے جسےسیاسی مقاصد اور شخصیت پرستی کی بنیاد پر نظریاتی قرار دیا گیا ہے اور ان کے تانے بانے اسی سیاسی جماعت سے جا ملتے ہیں جس نے تن تنہا تمام تر حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کو غدار اور وطن فروش ٹھہرایا۔ یہ طبقہ وقت پڑنے پر جنونیت کی حد بھی پار کرجاتاہے اور مذہبی ٹچ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں،قصہ مختصر یہ کہ یومِ پاکستان کے روز جس دو قومی نظریے کے تحت پاکستان کی قراردار منظور ہوئی اسے آج سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ حالیہ سیاسی بحرانوں نے سوشل میڈیا پر جو دو قومی نظریہ تشکیل دیا ہے اسے اگر چین کے طرز کی سوشل میڈیا پابندیوں کی طرح نہ روکا گیا تو ملک ترقی یافتہ تو دور ترقی پذیری کی سطح سے بھی نیچے جاتا رہے گا۔
یورپ سے سے مزید