پشاور (نمائندہ جنگ)پشاور ہائیکورٹ نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں خیبر پختونخوا کی عدلیہ کو دوسراکرپٹ ترین ادارہ قرار دینے سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو2023 کی سالانہ رپورٹ دوبارہ شائع کرنے کا حکم دیدیا اور قراردیا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل حقائق پر مبنی رپورٹ جاری کرکے اسے رجسٹرارپشاور ہائیکورٹ کے پاس جمع کرائے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا عدلیہ کو دوسرا کرپٹ ترین ادارہ قرار دینا حقائق پر مبنی نہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کیجانب سے خیبر پختونخوا کی عدلیہ کو دوسراکرپٹ ترین ادارہ قرار دینے کی رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا تھا اور اس حوالے سے کیس پر سماعت مکمل ہونے پر 19 فروری کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ کیس میں بنائے گئے فریق ممبر ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کا موقف تھا کہ یہ رپورٹ عوامی رائے پر مشتمل ہوتی ہے، یہ ہماری رائے نہیں۔ جبکہ عدالت نے اس معاملے کیلئے ہل یونیورسٹی برطانیہ کے پروفیسر نیازکو عدالتی معاون مقرر کیا تھا جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور بتایا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو رپورٹ میں شائع کرناچاہیے تھا کہ سروے کے دوران 80 فیصد لوگوں نے عدلیہ کو شفاف قرار دیا ۔