کراچی (بابر علی اعوان /اسٹاف رپورٹر) بھارتی سرجنز نے دل کی مفت پیوندکاری کے ذریعے پاکستانی لڑکی کو بھارتی شخص کا دل لگا کر نئی زندگی دے دی۔ بھارتی میڈیاکے مطابق کراچی کی رہائشی 19سالہ عائشہ راشن دل کی بیماری میں مبتلا تھیں جن کا علاج ہارٹ ٹرانسپلانٹ تھا ۔ ان کا ٹرانسپلانٹ کرنے والے سرجن ، انسٹی ٹیو ٹ آف ہارٹ اینڈ لنگ ٹرانسپلانٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کے آر بالا کرشنن نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عائشہ جوان لڑکی ہے اس کی جگہ میری بیٹی بھی ہوسکتی تھی اس لئے ہرکسی کی زندگی اہم ہے ۔ عائشہ 14سال کی تھی جب اسے پہلی بار ہمارے پاس لایا گیا اور معائنے کے دوران اس کے دل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس پر اس کا سی پی آر کیا گیااور پھر اسے مصنوعی ہارٹ پمپ میٹرونک ایچ پائل لگایا گیا جو کافی مہنگاہے لیکن اس کے باوجود وہ ٹھیک نہیں ہوئی بلکہ پاکستان جا کر اس کے دل کے دائیں حصے اور پمپ میں انفیکشن ہوگیا جبکہ دل کا ایک وال لیک ہو گیا جس پر اسے دوبارہ بھارت لایا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عائشہ کی والدہ کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے جس پر انہوں نےخود اپنے جاننے والے مخیر حضرات اور ایشوریان ٹرسٹ سے رابطہ کیا جن کے تعاون سے چنئی کے ایم جی ایم ہیلتھ کیئر اسپتال میں مفت ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری کی جو کامیاب رہی، اب عائشہ روبہ صحت ہےاور گھر جانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نےمزید بتایا کہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ پر بھارتی 35 لاکھ روپے کے اخراجات آتے ہیں ۔ انسٹی ٹیو ٹ آف ہارٹ اینڈ لنگ ٹرانسپلانٹ کے شریک ڈائریکٹر ڈاکٹر سریش راؤنے بتایا کہ بھارتی ریاستوں میں اعضاء کا عطیہ کیا جاتا ہے لیکن اکثر وبیشتر وہ اعضاء استعمال نہیں ہو پاتے ۔ اس کیس میں عطیہ کنندہ دہلی میں تھا اور کسی اسپتال کو اس کے عضو کی ضرورت نہیں تھی لیکن پھر بھی اس عضو کوچنئی تک پہنچانے کے لئے لاجسٹکس یعنی ایک چارٹر فلائیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لئے کافی پیسے درکار ہوتے ہیں اس لئے کئی مریض اسے منع بھی کر دیتے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے عائشہ کے کیس میں دل مل گیا جس کی اس وقت ضرورت نہیں تھی ورنہ بین الاقوامی مریضوں کو عضو ملنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ عائشہ راشن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد وہ خوش ہیں اوربہت اچھا محسوس کر رہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور فیشن ڈیزائنر بننا چاہتی ہیں ۔عائشہ راشن کی والدہ صنوبر کا کہنا تھا کہ علاج کے لئے اتنی رقم اکھٹی کرنا مشکل تھا جس کے لئے کراچی میں مہم بھی چلائی تھی لیکن اتنے پیسے جمع نہیں ہوئے ۔ انہوں نے بھارتی ڈاکٹرز ، ایشوریان ٹرسٹ اور اسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔