• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کون کون سے سرکاری ادارے کی نج کاری ہوگی؟

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) کون کون سے سر کاری ادارے کی نج کاری ہوگی ؟ تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔

 ذ رائع کے مطابق حکومت نے نجی شعبہ کے حوالے کیے جانے والے 25 سرکاری اداروں کی فہرست قومی اسمبلی سیکر ٹیریٹ میں جمع کرا دی ۔فہرست وفاقی وزیر برائے نجکاری عبد العلیم خان نے پیش کی۔

ڈاکٹر امجد علی خان کے سوال پر تحر یری جواب میں وزیر نج کاری نے بتایا کہ وزارت نج کاری کو صرف کابینہ کی جانب سے منظور شدہ فعال نج کاری فہرست میں شامل کسی ادارے کی نج کاری کا حکم دیاگیا ہے۔

حکومت ایک جا مع مر حلہ وار نج کاری پروگرام 2024...2029کوتیار کرنے کے عمل میں ہے۔

اس ضمن میںنج کاری کمیشن کی سفارشات کابینہ کمیٹی برائے نج کاری کو پیش کی جا ر ہی ہیں۔

اس وقت 25ادارے یا کار پوریشنز فعال نج کاری کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان اداروں میں رئیل اسٹیٹ کے تین ادارے ہیں جن میں سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور ،جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد پی آئی اے روزویلٹ ہوٹل نیو یارک شامل ہیں۔شعبہ ہوا بازی میںپی آئی اے اور مالیاتی شعبہ میںپاکستان ری انشورنس کمپنی ،سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن ،ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک شامل ہیں۔

صنعتی شعبہ میں سندھ انجینئرنگ لمٹی اورپاکستان انجینئرنگ کمپنی اور شعبہ توانائی میں بلوکی پاور پلانٹ( 1223 میگا واٹ)،حویلی بہادر پاور پلانٹ(1230میگا واٹ)،گڈو پاور پلانٹ(747میگاواٹ ) ،نندی پور پاور پلانٹ( 425میگااٹ ) ،فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی،اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، لاہور، گوجرانوالہ الیکٹرک سپلا ئی کمپنی ،ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی ،پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی، حیدر آباد ،کوئٹہ ،سکھر اور قبائلی الیکٹرک سپلائی کمپنیاں شامل ہیں۔

شر میلا فاروقی کے سوال پر انہوں نے تحر یری جواب میں بتایا کہ پی آئی اے کی نج کاری سب دے پیچیدہ لین دین میں سے ایک ہےکیونکہ اس میںادارے کی اپریشنل اور ما لی تنظیم نو شامل ہے۔وفاقی کا بینہ نے نو اگست 2023کو پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری دی تھی۔

اہم خبریں سے مزید