لندن (پی اے) حکومت نے انگلینڈ کے اسکولوں میں 9سال سے کم عمر بچوں کیلئے سیکس کی تعلیم پر پابندی کا منصوبہ بنایا ہے، اس حوالے سے گائیڈنس شائع کردی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس قانون کے تحت کسی بھی بچے کو صنفی شناخت کی تعلیم نہیں دی جاسکے گی لیکن اگر اس حوالے سے سوال پوچھا جائے تو اساتذہ صنف کے حوالے سے نظریئے کی وضاحت کریں گے۔ ہیڈ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اسکولوں پر سیکس کی تعلیم اور رشتوں کے بارے میں حکومت کی گائیڈنس پر عمل کرنا لازمی ہے۔ وزیراعظم نے اس قانون پر نظرثانی کرنے کا اعلان اس تشویش کے اظہار کے بعد کیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ بعض بچوں کو نامناسب مواد دکھایا جاتا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ واضح گائیڈنس سے اساتذہ کو سپورٹ حاصل ہوجائے گی اور والدین کو بھی تسلی ہوجائے گی اور یہ واضح ہوجائے گا کہ طلبہ کو کس عمر میں کیا تعلیم دی جائے۔ سفولک پرائمری ہیڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی ان تجاویز سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائمری اسکولوں میں 6 سال تک کی عمر تک کے بچوں کو سیکس کی تعلیم نہیں دی جاتی اور والدین کو حق ہے کہ وہ بچوں کو اس تعلیم سے اٹھا سکتے ہیں۔ اسکولوں پر لازم ہے کہ والدین کو اس بات کی مفصل تفصیلات سے آگاہ کریں کہ ان کے بچوں کو سیکس کی تعلیم میں کیا پڑھایا یا سکھایا جائے گا۔ اساتذہ مکمل طورپر باخبر رہنا اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے۔ تمام اساتذہ کو اپنے نصاب تک رسائی حاصل ہونی چاہئے اور نصاب میں روزمرہ کے معاملات کے مطابق بنانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ نیشنل ہیڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس نظرثانی کا مقصد سیاسی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ کم عم بچوں کو نامناسب مواد پڑھایا جارہا ہے۔ انگلینڈ کے سیکنڈری اسکولوں میں سیکس اور صحت سے متعلق تعلیم دینا لازمی ہے جبکہ ستمبر 2020 سے پرائمری اسکولوں میں رشتوں کے حوالے سے تعلیم لازمی ہے۔ نئی گائیڈنس کے تحت اس بات کا انحصار اسکولوں پر ہے کہ سیکس کی تعلیم کا کون سا پہلو ان کے طلبہ کیلئے ضروری ہے۔ گزشتہ سال 50 کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو خط لکھا تھا کہ بچوں کو سیکس کے حوالے سے انتہاپسندانہ اور بلا شواہد آئیڈیالوجیز پڑھائی جاتی ہیں۔