پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ ’’عقل نئیں تے موجاں ای موجاں۔‘‘ زندگی خوش و خرم گزرتی ہے۔ دوسری طرف جو سوچنے سمجھنے والے دماغ ہیں، ان کی زندگیوں میں آپ کو اذیت نظر آئے گی۔ عام لوگ آپ کو سائنسدانوں کا مذاق اڑاتے نظر آئیں گے۔ سٹیفن ہاکنگ کی کتاب A brief history of timeکا دیباچہ لکھنے والے ایک سائنسدان نے کہا تھا کہ یہ کائنات کن اصولوں پہ چل رہی ہے، اس کے بارے میں اپنی روزمرہ زندگی میں ہم کبھی متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ دنیا کے انسانوں کی اکثریت کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ سورج میں کیا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے زمین پہ زندگی قائم ہے۔ زندگی کیسے وجود میں آئی۔ کششِ ثقل نے کیسے ہمیں اس زمین سے باندھ رکھا ہے۔ الٹا یہ باتیں کرو تو لوگ مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’لاہور دا پاوا، اختر لاوا‘‘ اور چاہت فتح علی خان زیادہ دلچسپی کی چیزیں ہیں یا وہ سطحی سیاست، جس نے اس ملک کو اجاڑ کے رکھ دیا۔ وہی چند لوگ تھے، جو نون لیگ سے قاف لیگ، قاف لیگ سے پیپلزپارٹی اور پیپلز پارٹی سے تحریکِ انصاف میں گئے۔ انکی بات ماننے سے انکار کیا تو عمران خان آج جیل میں ہے۔
انسانی دماغ ہر نئی چیز کی طرف لپکتا ہے۔ ایک بچے کیلئے یہ نئی چیز روشنیوں والا ایک کھلونا ہے۔ یہی گیند چند روز بچے کے پاس رہنے دیں، بالآخر وہ اسے پھینک دے گا۔ یہ تجسس ہی ہے، جو کہ ہر خوبصورت نظر آنے والی چیز کی طرف لپکتا ہے۔ جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو روشنیوں والی گیند کی جگہ دولت، عورت اور دوسری چیزیں لے لیتی ہیں۔
یہی تجسس ہے جو انسان کو کائنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے پر مجبور کرتا ہے۔ آج کے زمانے میں یہ صرف کافروں میں پایا جاتا ہے۔ یہ کائنات کب بنی؟ کیسے بنی؟ آغاز کب اور کیسے ہوا؟ انجام کیا ہے؟ ہم مسلمانوں کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ پاکستان میں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے، جو ساری زندگی اپنا اور دوسرے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے رہیں گے اور مغرب کی عظمت کے سامنے سجدہ ریز۔
الہامی کتاب میں ایک ہستی، جو کہ نظر نہیں آتی، یہ فرماتی ہے کہ میں نے ہی یہ سب کچھ بنایا۔ جہاں اور جب اس کا دل چاہتا ہے، خدا اس کائنات پہ تبصرہ کرتا ہے؛ حتیٰ کہ وہ یہ فرماتا ہے: ابتدا میں زمین وآسمان ملے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے پھاڑ کر انہیں جدا کر دیا۔ پھر وہ خدا تحقیق کرنے والوں سے، سوچنے اور غور و فکر کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔ مظاہرِ فطرت کا ذکر کرتے ہوئے، بار بار وہ فرماتا ہے:اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اپنے پسندیدہ بندوں کے بارے میں وہ فرماتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پہ غور کرتے رہتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے کہ زمین وآسمان کی تخلیق میں نشانیاں ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ بارش میں نشانی ہے۔
تجسس ہر نئی چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ مظاہر جو روزانہ وقوع پذیر ہو رہے ہوتے ہیں، اس کی طرف انسان متوجہ نہیں ہوتا۔ اس نیلے سیارے پر کچھ چیزیں ایسی وقوع پذیر ہو رہی ہیں جنہیں کائنات کا سب سے خوبصورت کرشمہ کہا جا سکتا ہے لیکن چونکہ وہ بار بار وقوع پذیر ہور ہی ہیں تو ہمیں اب ان میں دلچسپی نہیں۔ ہم روز سورج کو مشرق سے ابھرتا دیکھتے ہیں۔ اکثریت کو معلوم نہیں کہ وہاں ہائیڈروجن کے ایٹم فیوژن کے عمل سے گزر کر ہیلیم میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ سورج ایک ایسی کائناتی بھٹی ہے، جس میں عناصر تخلیق ہوتے ہیں۔ انہی عناصر سے ہم انسانوں اور تمام جانداروں کے جسم بنے ہیں۔ ایک دن آئے گا، جب یہ سورج بجھ جائے گا۔ تیسویں سپارے میں اس کی ایسی منظر کشی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس دن پہاڑ ایسے اڑیں گے، جیسے روئی کے گالے۔
یہی معاملہ ماں کے پیٹ میں بچے کی پیدائش کا ہے۔ ہر مادہ کے پیٹ میں بچہ دانی نصب ہے۔ یعنی چار ارب انسانوں میں، جب کہ انسان آج کی 87لاکھ مخلوقات (Species) میں سے صرف ایک ہے۔ ان بچّہ دانیوں میں بچوں کے اعضا اس طرح سے بنتے ہیں، جیسے کہ یہ کوئی بڑی بات نہ ہو۔ گوکہ سٹیم سیلز سے لیبارٹری میں اعضا بنانے کی طرف پیش رفت ہو چکی ہے۔ مائوں کے پیٹ میں موجود بچہ دانیاں تومگر اس طرح بچوں کے اعضا تخلیق کرتی ہیں، جیسے کہ یہ کوئی کام ہی نہیں۔ اس کثرت سے بچوں اور ان کے اعضا (Organs)کی تخلیق نے اس عمل میں کشش ختم کر دی ہے۔
جو لوگ اس عمل کو زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں، یعنی سائنسدان، وہ ماں کے پیٹ میں بچے کی تخلیق پر بھی حیران ہوتے ہیں اور سورج میں ہونے والے تعامل پر بھی انہیں حیرت ہوتی ہے۔ عام لوگ انہیں دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ وہ سٹھیا گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ شاعری نہ جاننے والے کو کہاں کسی لطیف بات کی سمجھ۔
ایک نر خلیے کا ایک مادہ خلیے کو بارآور کرنا۔ پھر اس نئے خلیے کا دو میں تقسیم ہونا۔ دو سے چار، چار سے آٹھ؛ حتیٰ کہ مرکزی اعصابی نظام یعنی دماغ جمع ریڑھ کی ہڈی بن جانا اور اس کے بعد مختلف اعضا کی تشکیل شروع ہو جانا۔ کبھی ہمیں ان چیزوں کو بھی پڑھنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے!
یہ کتنی اذیت ناک بات ہے کہ ایک سوچنے سمجھنے والا انسانی ذہن ساری زندگی کبھی کائنات اور اپنی تخلیق پر غور ہی نہ کرے۔ اس پر سوچے ہی نہ کہ ہم اس زمین پر کہاں سے آگئے اور ایک بھینس کی طرح کھانا کھاتا کھاتا اور بچے پیدا کرتا فوت ہو جائے۔