اب کے بار بلوچستان میں قیام چند روز کا تھالیکن جاننے‘ سیکھنے اور دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں کے حوالے سے بھرپور رہا۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں ایک دن مجھے افغانستان کے حوالے سے اور دوسرے دن فاٹا کے حوالے سے گفتگو کرنی تھی۔ کمانڈنٹ میجر جنرل شاہد بیگ مرزا‘ یہاں کے انسٹرکٹرز اور کورس کے شرکاء کے ساتھ دو روزہ تبادلہ خیال کے ذریعے عسکری سوچ کو سمجھنے کا موقع ملا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک سے ایک نہیں بلکہ دو تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں ۔ اپنے دوست اور بھائی نواب ایاز جوگیزئی کی پختون مہمان نوازی کا لطف اٹھایا جبکہ پیارے بلوچ بھائی اور وزیر خزانہ خالد لانگو نے گھر پر روایتی بلوچی کھانا کھلایا جہاں انہوں نے کابینہ کے مزید آٹھ اراکین کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع بھی فراہم کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سردار ثناء اللہ زہری نے روایتی محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھانے پر مسلم لیگ کی تمام صوبائی قیادت اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی کے ساتھ بھی ملاقات کرائی۔ قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہبر محمود خان اچکزئی کے بھائی اور اہم ترین وزیر حامد خان اچکزئی کے ساتھ ان کے دیگر وزراء کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔ وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں میرے قیام کے دوران ہر روز زیارت بخشتے رہے اور بگٹیوں کی روایتی محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے منع کرنے کے باوجود رخصت کرنے کے لئے ایئرپورٹ تک خود ساتھ آئے۔ پاکستان کے عاشق اور پیارے بھائی انوارالحق کاکڑ نے نہ صرف مہمان نوازی کا حق میرے استحقاق سے بڑھ کر ادا کیا بلکہ میرے سفر کو مفید اور بھرپور بنانے کی بھرپور کوشش کرتے رہے۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل نصیر خان جنجوعہ کے ساتھ دو گھنٹے اور آئی جی ایف سی میجر جنرل محمد اعجاز شاہد سے ایک گھنٹہ پرمحیط معلومات افزا ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ بلوچستان میں صرف چند بلوچ سردار یا ان کے تابعدار ہی ناراض نہیں بلکہ پورا بلوچستان ناراض ہے۔ ناراضی کی نوعیت یا پھر ناراضی کا مخاطب مختلف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے کا پورا بلوچستان ناراض ہے۔ سب سے زیادہ ناراض افواج پاکستان اور ایف سی کے افسران اور جوان ہیں لیکن وہ کسی اور سے نہیں بلکہ ہم میڈیا والوں سے ناراض ہیں۔ ان کو شکوہ ہے کہ بلوچستان کو اس مقام تک پہنچانے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ قصور ماضی کے حکمرانوں کا یا پھر ان کے ماضی کے جرنیلوں کا ہے۔ اب قوم کی طرح وہ بھی ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ گھروں سے دور قربانیاں دے رہے ہیں ۔ گولی کھا اور چلارہے ہیں لیکن انہیں خراج تحسین پیش نہیں کیاجارہا بلکہ روز ٹی وی چینلوں پر ٹاک شوز کے دوران ان پر لعن طعن کی جاتی ہے ۔ انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ لاہور‘ کراچی یا اسلام آباد میں یا پھر میڈیا کے اندر چند اضلاع کو پورا بلوچستان سمجھا جا رہا ہے اور لاکھوں محب وطن بلوچوں اور پختونوں کے بجائے صرف چند ناراض یا پھر غیرملکی اداروں کے اشاروں پر ریاست کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والوں کو بلوچستان کے نمائندے بناکر ہیرو کے طور پر پیش کیاجارہا ہے۔ بلوچستان کا وزیر ہو یا مشیر‘ گورنر ہو یا وزیراعلیٰ‘ دکاندار ہو یا اسکول ٹیچر ‘ سردار ہو یا نواب ‘ ہر ایک مرکز اور میڈیا سے ناراض ہے ۔ انہیں شکوہ ہے کہ نہ تو وفاق ان کے مسائل پر توجہ دے رہا ہے اور نہ میڈیا میں ان کے صوبے کی خبروں کو جگہ دی جارہی ہے ۔ وزراء ناراض ہیں کہ پنجاب اور سندھ کے ایک صوبائی وزیر کو میڈیا پر جتنا وقت ملتاہے‘ ان کے گورنر ‘ وزیراعلیٰ اور پوری کابینہ کو ملا کر بھی اتنا وقت نہیں دیا جاتا۔ آٹھ وزراء جس میں تینوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے شامل تھے ‘ نے مجھ سے شکایت کی کہ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی میں جتنا شور ایک بندے کی ہلاکت پر مچایا جاتا ہے‘ وہ بلوچستان کے دو درجن انسانوں کی ہلاکتوں پر نہیں مچایا جاتا۔ دوسری طرف بلوچ قوم پرست اور علیحدگی پسند اس بات پر ناراض ہیں کہ وفاق میں بلوچستان کو فوج کی عینک سے دیکھاجاتا ہے ۔ وہ میڈیا پر برہم ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش ہے اور صرف فوج کی چاپلوسی کررہا ہے۔ حکومت میں شامل مسلم لیگی اور ان کے اتحادی ناراض ہیں کہ میاں نوازشریف بلوچستان پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ کابینہ کے اراکین وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں کہ وہ چیف سیکرٹری کے اشاروں پر چل رہے ہیں اور وزراء کی نہیں سن رہے ہیں۔ جے یو آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اس بنیاد پر ناراض ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر مرکز اور میڈیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہاں کے مسلم لیگی اپنی مرکزی قیادت سے ناراض ہیں یہاں کی پیپلزپارٹی زرداری صاحب سے ناراض ہے۔ یہاں کی تحریک انصاف عمران خان سے ناراض ہے اور جہانگیر ترین کی من مانیوں کے خلاف وہاں کے منتخب عہدیدار گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر میں ایک ہفتے کا دھرنا دے کر مایوس واپس لوٹے ہیں۔ یہاں کا مقامی میڈیا ہم لوگوں ‘ میڈیا تنظیموں اور اخباری مالکان سے ناراض ہے کہ انہیں نہ تو مطلوبہ سپورٹ مل رہی ہے اور نہ باقی ملک کی طرح انہیں سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ یہاں کے لوگ گورنر سے ناراض ہیں کہ انہوں نے گورنر ہائوس کو صرف ایک کمیونٹی کا گورنر ہائوس بنادیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں کہ انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس کو صرف ایک جماعت کا وزیراعلیٰ ہائوس بنادیا ہے اور تو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے اکرم شاہ لالا جیسے اہم عہدیدار اپنے لیڈر محمود خان اچکزئی سے ناراض ہیں کہ انہوں نے تمام اہم عہدے بھائیوں اور رشتہ داروں میں بانٹ لئے اور خود پنجاب یا پھر افواج پاکستان کے ہمنوا بن گئے۔ الغرض پورا بلوچستان ناراض ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو اس ناراضی کی بنیاد بلوچستان کی طرف باقی ماندہ پاکستان کی عدم توجہی ہے ۔ اس عدم توجہی کی وجہ سے باقی ملک میں بلوچستان سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ زمینی حقائق ان تصورات سے بالکل مختلف ہیں جو اہل سیاست اور اہل صحافت نے بنا رکھے ہیں ۔ قومی قیادت بلوچستان کو آبادی اور ووٹنگ کے آئینے میں دیکھتی ہے اور ظاہر ہے اس تناظر میں بلوچستان ان کے لئے باقی صوبوں کی بہ نسبت کم اہم ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح میڈیا بلوچستان کو ریٹنگ اور ریڈرشپ کے آئینے میں دیکھتا ہے اور یوں اسے وہ اہمیت نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے ۔ دوسری طرف تمام عالمی اور علاقائی قوتوں کی توجہ اس وقت بلوچستان پر مرکوز ہے ۔ گوادر کے راستے بحر ہند تک رسائی چین کی معیشت کو چار چاند لگادے گی تو دوسری طرف اس رسائی کو امریکہ اور بھارت اپنے لئے موت سمجھتے ہیں۔ پاکستان کا کوئی اور صوبہ نہیں بلکہ بلوچستان ہی وسط ایشیائی ریاستوں کے لئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ گوادر کی بندرگار عام بندرگاہ نہیں بلکہ کئی حوالوں سے اسے عرب ممالک کی بندرگاہوں پر بھی فوقیت حاصل ہے اور ظاہر ہے اس کی کامیابی سے ان کی بندرگاہوں کی اہمیت بھی کم ہوگی ۔گوادر نہیں چلے گا تو ایران کے بندرعباس کی اہمیت برقرار رہے گی۔ بلوچستان ویران رہے گا تو ایران وسط ایشیاء کے لئے روٹ رہے گا لیکن بلوچستان آباد ہوا تو ایرانی روٹ کو ویرانی کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تمام ممالک اس وقت بلوچستان کی طرف متوجہ ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ چین کے سوا کسی ملک کو گوادر کی کامیابی اور بلوچستان کا امن راس نہیں آتا۔ بلوچستان کے قدرتی ذخائر کے منابع سے بھی یہ قوتیں ہم سے زیادہ آگاہ ہیں اور اس لئے بھی بلوچستان بڑی اور علاقائی طاقتوں کا اکھاڑا بن گیا ہے ۔ ایک فقرے میں بیان کیا جائے تو عالمی اور علاقائی طاقتوں کی بلوچستان کی طرف غیرمعمولی توجہ اور ہمارے اپنے حکمرانوں ‘میڈیا اور اشرافیہ کی عدم توجہ ہی بلوچستان کے مسئلے کی جڑ ہے۔